22/04/2024
..............................Winning Horse............
منصورہ چھوڑنے سے پہلے خالد قدومی کا ذکر نہ کروں یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
ان کو سُن کر آپ سُن ہوجاتے ہیں۔۔۔گھنٹوں خود سے نظریں نہیں ملا پاتے۔۔۔
وہ اردو تو اہل زبان کی طرح نہیں بولتے مگر اپنا مدعا بیان کرنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔۔۔کئی زبانوں میں گفتگو کرسکتے ہیں۔۔
بات کرتے ہوئے قرآن کریم کی یوں تلاوت کرنے لگتے ہیں جیسے ابھی نزول ہو رہاہو۔۔۔
ایسا ایقان,ایسا اعتماد۔۔قرآن مجید کی وہ آیات عمر بھر ہم نے بھی پڑھیں مگر وہ "ایمان" رکھتے ہیں ہماری طرح پڑھ کر نہیں گزر جاتے۔۔۔۔
دوران خطاب بولے:" اب دنیا میں تبدیلی "حفاظ"ہی لائیں گے۔۔۔
طوفان الاقصٰی کے بارہ سو جانبازوں میں 500 حفاظ قرآن مجید ہیں۔۔۔ان میں 5 سال سے 80 سال تک کے بزرگ۔۔وہ فجر سے مغرب تک قرآن مجید کی دنیا میں رہتے ہیں۔۔۔
اس قرآن نے ایسی توانائی بھر دی ہے ان میں کہ ۔۔۔۔کل تک پتھر پھنکنے والوں نے ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں دنیا کے فرعون کو۔۔۔
مگر حافظ تب حافظ ہوتا ہے جب فہم بھی رکھے۔۔"
انھوں نے بڑی انوکھی بات کی۔۔۔بولے:"اللہ سے فہم مانگا کریں۔۔اخلاص بڑی چیز ہے مگر فہم کےتابع ہے۔۔۔اللہ کو بندہ اپنے فہم سے پہچانتا ہے۔۔۔
جس کا جتنا فہم اس کا اتنا عمل۔"
مجھے خیال آیا۔۔۔۔واقعی حاجیوں کو پانی پلانا قریش کی نظرمیں کتنا افضل عمل تھا۔۔ مگر قرآن نے "انکی نظر" میں اس بڑی نیکی پر ان کے فہم کو ایڈریس کیا:"کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت کو اس کے برابر کردیا جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں مجاھدہ کرے"۔۔سورہ توبہ آیت 19
بولے "یہ اہل غ ز ہ کا فہم ہی توتھا کہ وہ پتھرپھینکتے تھے انکے ٹینکوں پر۔۔۔مگر کبھی شکست تسلیم نہیں کی کیونکہ وہ قرآن کریم کے "نصرت " کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔ اور اس پرمطمئن ہیں کہ جان بچانے کے لیے نہیں حق پر وارنے کے لیے ہے۔۔۔۔۔یہی اس کی اصل قیمت ہے کہ حق کے کام آجائے۔۔۔۔
ان کو بچپن سے یہ فہم دیا گیا ھے کہ تم جیتنے والے گھوڑے "وننگ ہارس" پر سوار ہو۔۔
اسی لیے جس نوجوان کے سب لواحقین دنیا سے جاچکے وہ بھی اس یقین سے سرشار نظر آتا ہے کہ "جیت ہماری ہوگی۔"۔۔معصوم بچے جو والدین کھو چکے ان کا عزم دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔۔
وہ جانتے ہیں کہ یہ راستہ ناکامی کی طرف نہیں جاتا۔۔
تم ہی جانو تمہارا مجاھدہ کیا ہے؟؟
جب ایک نوجوان کے ایف سی کے باھر فلس 3 کے حق میں نعرے لگاتا ہے تو اس کو اپنا بنالو وہ اسی قبیلے کا فرد ہے۔ جو سڑک پر آکر نعرے لگاتا ہے,جو دعائے نیم شبی میں ان کے لیے نصرت مانگتا ہے۔۔۔جس کی آنکھ سے کبھی انکا غم محسوس کرکے آنسو نکلا۔ وہ ادی قبیلے سے ہے۔۔۔
۔۔۔لوگ پوچھتے ہیں ادھر امداد کیسے پہنچے گی؟؟
تم پہنچنے کی فکر نہ کرو دینے کا جذبہ پیدا کرو۔۔۔
تاریخ لکھی جارہی ہے دو گروہوں میں سے تمہارا نام آگ بجھانے والوں میں آجائے ۔۔۔بس حجت تمام کردو۔"
"حفاظ طوفان لاتے ہیں۔"
خالد قدومی خطاب کرکے جاچکے تھے۔۔۔
میں سوچتی رہ گئی کہ 57 اسلامی ریاستوں کے لاکھوں حفاظ کے فہم کا سوال ہے۔۔۔
"طوفان "تو فہم سے آتا ہے۔۔
یہی تو کہ گئے خالد قدومی ہم تن آسانوں سے کہ۔۔۔۔
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں۔۔۔
21 اپریل2024