Al Ghani Group

Al Ghani Group Al Ghani Group is a top construction company in Islamabad and Rawalpindi, delivering excellence in construction and infrastructure.

20/08/2026

13/08/2026

کیا ہم اپنے مسلمان بہن بھائیوں کیلئے اتنا بھی نہیں کر سکتے ؟!
۔
۔

09/08/2026

آپ کی ذمہ داری ۔۔۔
۔
۔

04/08/2026
11/07/2026

اسرائیلی فوج نے نمازِ جمعہ کے بعد مسجد اقصیٰ کے خطیب اور مفتیٔ اعظم کو گرفتار کرلیا

اسرائیلی فورسز نے القدس اور فلسطین کے مفتیٔ اعظم شیخ محمد حسین کو نماز جمعہ کے فوری بعد حراست میں لے لیا۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق شیخ محمد حسین نے مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز کی امامت کرائی جس کے چند ہی لمحوں بعد اسرائیلی فورسز نے انھیں مسجد کے احاطے سے حراست میں لے لیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے شیخ محمد حسین کو گھیرے میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

10/07/2026

مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو حرام قرار دے دیا مگر لوگ اپنی مرضی کا فتویٰ چاہتے ہیں

​شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے کرپٹو کرنسی کے عدمِ جواز سے متعلق حالیہ فتویٰ کے بعد سوشل میڈیا پر جس طرح کا رویہ سامنے آیا، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ آج کے دور میں مادی منفعت کو بہت سے لوگوں نے ہر چیز پر ترجیح دے دی ہے۔ وہ دین کی تعلیمات کو سمجھنے یا پڑھنے کے بجائے صرف وہ بات سننا چاہتے ہیں جو ان کی خواہشات اور دنیوی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ جب کوئی عالم یا مفتی شریعت کی روشنی میں ان کے مفادات کے برعکس رائے دیتا ہے تو وہ اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ ​سوشل میڈیا پر ایسے لوگ بھی مفتی تقی عثمانی صاحب کو فتویٰ کے اصول سکھا رہے ہیں جنہوں نے شاید کبھی کوئی دینی کتاب کا مطالعہ بھی نہ کیا ہو۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ "فلاں پہلو مدنظر نہیں رکھا گیا،" تو کوئی دعویٰ کر رہا ہے کہ "فلاں اصول نظر انداز کر دیا گیا۔" یہ رویہ ایسا ہے جیسے مفتی تقی عثمانی صاحب کو فقہی باریکیوں کا علم ہی نہیں، حالانکہ ان کی پوری زندگی فتویٰ نویسی اور فقہ کی تدریس میں گزری ہے۔ وہ تمام تر پہلوؤں کو باریک بینی سے پرکھے بغیر فتویٰ کیسے دے سکتے ہیں؟

​دارالعلوم کراچی سے وابستہ علمائے کرام کے فتوے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی شریعت کی روشنی میں کرپٹو کرنسی، کرپٹو ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز کی خرید و فروخت جائز نہیں۔ فتویٰ کے مطابق، یہ تمام ڈیجیٹل اثاثے ایک ہی نوعیت کے حامل ہیں، لہٰذا ان پر ایک ہی شرعی حکم لاگو ہوگا۔ کسی ڈیجیٹل اثاثے کا نام تبدیل کر دینے سے اس کی شرعی حیثیت نہیں بدل جاتی۔ فتویٰ کے مطابق یہ اثاثے شریعت کی رو سے "مال" کی تعریف پر پورے نہیں اترتے، اس لیے ان کا کاروبار کرنا شرعاً درست نہیں۔

​بدقسمتی سے آج ایک بڑا طبقہ دین کو اپنی سہولت کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ وہ ایسا فتویٰ سننا چاہتے ہیں جو ان کے معاشی مفادات کو تحفظ فراہم کرے۔ جب فتویٰ ان کی خواہشات کے برعکس ہوتا ہے تو وہ تنقید، تمسخر اور طعن و تشنیع کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ بغیر کسی شرعی رہنمائی کے غیر شرعی معاملات میں کود پڑتے ہیں اور جب برسوں بعد انہیں حقیقت کا علم ہوتا ہے تو وہ شرعی رہنمائی کرنے والوں ہی کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ کئی لوگ تو اپنے لیے سب کچھ ہی جائز قرار دے چکے، ان کے نزدیک کچھ بھی ناجائز نہیں، ظاہر ہے ایسے لوگوں کو تو روک ٹوک کرنے والے علماء پر غصہ ہی آئے گا۔ لوگوں کی ناراضی دراصل شرعی رائے سے نہیں، بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل نہ ہونے سے ہوتی ہے۔

​ایک بار ایک دوست سے سودی اور غیر شرعی اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں بات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ ایسی کمائی جائز نہیں۔ وہ کہنے لگے، "اگر ایسا ہے تو پھر تو بہت سے کام حرام ہو جائیں گے۔" میں نے جواب دیا کہ رزقِ حلال کے بے شمار دروازے کھلے ہیں۔ ہمارا معیار اپنی خواہشات نہیں، بلکہ شریعتِ مطہرہ ہے۔ اگر کسی معاملے کو دین ناجائز قرار دیتا ہے تو ہمیں اسے حلال کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

​شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپنے علم، فقاہت اور خدمات کی بدولت عالمِ اسلام کی معتبر ترین علمی شخصیات میں سے ہیں۔ ان سے کسی مسئلے میں علمی اختلاف ممکن ہے، بلکہ دلیل کی بنیاد پر اختلاف ایک صحت مند علمی روایت ہے۔ جو لوگ فتویٰ کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فتویٰ شرعی رہنمائی کا ایک ذریعہ ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے معتبر عالم کی رائے پر عمل کر سکتا ہے، لیکن دلیل کے بجائے استہزا اور تحقیر کا راستہ اختیار کرنا محض جہالت اور علمائے کرام سے بغض کی علامت ہے۔

​بعض لوگ اس فتویٰ کو دوسرے معاملات سے جوڑتے ہوئے جذباتی اعتراضات کررہے ہیں، جیسے کہ "فلاں مسئلے پر خاموشی کیوں ہے؟" یا "اسلامی بینکاری میں فلاں چیز کی اجازت ہے تو یہاں کیوں نہیں؟" ایسے اعتراضات میں اکثر مختلف مسائل کی شرعی نوعیت اور فقہی اصولوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہر مسئلے کے اپنے حقائق اور دلائل ہوتے ہیں، جنہیں ایک ہی پیمانے سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ علمی اختلاف اگر تہذیب، احترام اور آدابِ بحث کے دائرے میں ہو تو وہ علم کی ترقی کا باعث بنتا ہے، لیکن جب یہ اختلاف تمسخر اور جذباتی نعروں میں بدل جائے تو اس سے صرف تعصب کی بو آتی ہے۔

(عابد محمود عزام)

10/07/2026

ادارے ریحان طارق کی بجائے اصلی مجرم کی طرف توجہ کریں۔
قاتل کی یہ دلیل بھی منصف نے مان لی
مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر

علامہ ہشام الٰہی ظہیر

09/07/2026

ریحان طارق کی گرفتاری، مگر قانون سب پر یکساں کیوں نہیں؟

اینکر ریحان طارق کے طریقہ کار سے مجھے کئی اختلافات ہیں۔ اسی اینکر نے ایک پوڈ کاسٹ کیا ۔ اس میں جو گفتگو ہوئی اس بنیاد پر اینکر کے خلاف مقدمہ درج ہوا ،انہیں گرفتار کیا گیا اور پھر 6 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا میں پروگرام کے مواد پر بات نہیں کر رہا ۔ یہ فیصلہ اب عدالت کرے گی ۔ یہ پروگرام کسی جرم میں شمار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اس کا فیصلہ عدالت میں ہونا ہے میرے سامنے کچھ اور سوال ہیں ریحان طارق اینکر تھا ۔ اس نے سوال پوچھے ۔ اس پروگرام کے مہمان معروف عالم دین ، مذہبی راہنما و مذہبی اسکالر علامہ ج*و ا د ن ق و ی تھے ۔ اینکر کے سوال پر علامہ صاحب نے جواب دیے ۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ کیا علامہ صاحب پر بھی مقدمہ درج ہوا ہے ؟ کیا انہیں بھی گرفتار کیا گیا ہے ؟ کیا سوال کرنے والے ملزم ہوتا ہے یا جواب دینے والا اپنی بات کا ذمہدار ہوتا ہے ؟ کیا یہ انصاف ہو گا کہ ایک عام اینکر کو ایک پروگرام کی بنیاد پر گرفتار کر لیا جائے کہ انہوں نے سوال پوچھا ہے ۔ ان پر ت *و ہ ی ن کا کیس بنا دیا جائے جبکہ گفتگو کرنے والے عالم دین کو اسی گفتگو پر نظر انداز کر دیا جائے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟

سید بدر سعید ✍️

08/07/2026

اگر دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے جو فلسطینی عوام کے دکھ کو محسوس نہیں کرتا، تو وہ انسان نہیں، خواہ وہ عرب ہو، یورپی ہو یا امریکی۔

حسام حسن، مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے کوچ

05/07/2026

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے 1000 دن: ہزاروں شہادتیں، لاکھوں بے گھر، تباہی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو 1,000 دن مکمل ہو چکے ہیں، اور انسانی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 21 ہزار سے زائد بچے اور ہزاروں خواتین شامل ہیں۔ 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک، صاف پانی، ادویات اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ ہسپتال، اسکول، مساجد اور رہائشی علاقے بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 6 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ عالمی انسانی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران انتہائی سنگین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور فوری، مؤثر انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

Address

D Block Plot No 192 Silver City Islamabad
Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ghani Group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share