Engr. Naeem Hargan

Engr. Naeem Hargan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Engr. Naeem Hargan, Contractor, Islamabad.

19/11/2025

سائنس کہتی ہے کہ ایک بالغ صحت مند مرد کے ایک بار جنسی تعلقات کے بعد جتنی منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز ہوتے ہیں۔ ، ایک عورت صحت مند بالغ عورت کے رحم میں انڈوں کی مقدار بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ منطقی طور پر اگر عورت کے رحم میں موجود انڈوں سے سپرم کی اتنی مقدار مل جائے تو 400 ملین بچے پیدا ہوں گے۔۔۔
یہ 400 ملین سپرمز عورت کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح دوڑتے رہتے ہیں، لیکن صرف 300-500 سپرمز ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں تھک جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ ان 300-500 سپرموں میں سے جو انڈے تک پہنچنے کا انتظام کرتے ہیں، صرف ایک انتہائی طاقتور سپرم انڈے کو کھاد دیتا ہے یا انڈے میں بیٹھ جاتا ہے۔ وہ خوش قسمت سپرم آپ یا میں یا ہم سب ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
❒ جب آپ بھاگے - آپ کی آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں تھا، دماغ نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی تعلیم نہیں تھی، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی ایک منزل تھی اور آپ نے اپنا مقصد اس منزل کی طرف متعین رکھا اور آخر تک ایک دماغ کے ساتھ بھاگا اور آپ جیت گئے۔

❒ بہت سے بچے اپنی ماؤں کے پیٹ میں مر جاتے ہیں لیکن آپ کی موت نہیں ہوئی، آپ پورے 10 مہینے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے دوران مر جاتے ہیں لیکن آپ بچ گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے پہلے 5 سال میں مر جاتے ہیں لیکن آپ ابھی تک زندہ ہیں۔

❒ بہت سے بچے غذائی قلت سے مر جاتے ہیں لیکن آپ کو کچھ نہیں ہوا۔

❒ بہت سے لوگ بڑے ہونے کے راستے میں اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں لیکن آپ ابھی تک یہیں ہیں۔

اور آج جب بھی کچھ ہوتا ہے، آپ گھبرا جاتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے ہیں؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بھائی بہن، سرٹیفکیٹ، سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس بازو اور ٹانگیں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کے لیے دماغ ہے، مدد کے لیے لوگ ہیں، پھر بھی آپ نے امید کھو دی ہے۔ جب آپ نے اپنی زندگی کے پہلے دن ہمت نہیں ہاری۔ آپ 400 ملین سپرمز کے ساتھ موت سے لڑے اور کسی کی مدد کے بغیر اکیلے ہی مقابلہ جیت گئے۔ پھر مایوسی کیوں؟

❒ جب کوئی آپ کی زندگی سے چلا جائے تو آپ قبول کیوں نہیں کر تے

07/02/2025

THE 48 LAWS OF POWER.

A Book written by Robert Greene that offers a Series of Strategies for Obtaining and Maintaining Power in various situations. Here I leave you a summary of the 48 Laws:

1. Don't Outshine the Boss: Make your Superiors feel Superior. Don't expose your Talent too much or you might Trigger their Insecurity.

2.Don't Trust friends too much, use your Enemies: Friends Betray you more easily, but if you Manage to WIN an Enemy, they will be more Loyal.

3. Hide your Intentions: Keep People Off Balance so they can't anticipate your Actions.

4. Always say Less than Necessary: Silence Breeds Power, and Talking too much Reveals your Plans.

5. Protect your Reputation at all Costs: Reputation is the Cornerstone of Power.

6. Call Attention at all Costs: Be Visible to be Relevant.

7. Make others Work for you and Attribute it: Take Advantage of the Work and Effort of others to your Advantage.

8. Make others come to you: Don't Run after Others, make them Look for you.

9. Win with Actions, Never Arguments: Prove your Point through Actions, Not Words.

10. Avoid Losers and Unhappy: The Misfortune of others is Contagious; stay away from those who Bring you Down.

11. Make People Depend on you: If others Depend on you, you're in Control.

12. Disarm with Sincerity and Selective Generosity: Emotional Disarmament will give you an Edge.

13. When you ask for Help, Appeal to the Interests of Others: Appeal to what Benefits Others, not Gratitude or Compassion.

14. Introduce yourself as a Friend, act as a Spy: Learn to Extract Valuable Information from others without them Noticing.

15. Crush your Enemy Completely: Do not let your Enemy Recover, or he will seek Revenge.

16. Use Absence to Increase Respect: The Value of something Increases with Scarcity..

17. Keep Others in Suspense: Be Unpredictable, you will Confuse Others and Gain Power.

18. Do Not Isolate yourself: Loneliness Weakens you; Engage yourself in the Web of Influence.

19. Know Who You’re Dealing With: Choose Your Opponents And Partners Wisely.

20. Don't compromise with anyone: Maintain your Independence so you don't get Caught up in other People's Affairs.

21. Pretend to be a Fool to Catch the Sly: Let others think they have an Advantage over you.

22. Use the Surrender Tactic: Sometimes giving in at the Right Time gives you the Advantage.

23. Focus your Forces: Keep your Energy Focused on what really Matters.

24. Be a Master at Simulation and Disguise: Don't reveal all your cards.

25. Recreate your own identity: Be the architect of your own destiny.

26. Keep your hands clean: Make sure the responsibility for the problems falls on others.

27. Play with people's needs to create devotion: Satisfy their deep desires to earn you their loyalty.

28. Be bold in acting: Timidity is dangerous, boldness is powerful.

29. Plan everything to the end: Having a detailed plan allows you to avoid unpleasant surprises.

30. Make your accomplishments look easy: Minimize the effort you put in to make others think you have innate talent.

31. Control Other People's Options: Guide the decisions of others by giving them limited options.

32. Play with people's fantasy: Appeal to people's emotions and dreams to gain clout.

33. Discover the weaknesses of others: Identify what drives people to manipulate their actions.

34. Be rule in your behavior: Power lies in the appearance of greatness and dignity.

35. Master the art of timing: Don't rush; everything has its right time.

36. Despise what you can’t have: Don’t obsess over things that are out of your reach.

37. Create engaging spectacles: Theatrics and spectacles capture attention.

38. Think as you wish, but behave like everyone else: Do not openly defy social norms.

39. Stir the waters to catch fish: Destabilize others to make mistakes.

40. Despise free: What is free usually comes with a hidden cost.

41. Avoid imitating great men: Forge your own path instead of following in the footsteps of others.

42. Beat the shepherd and the sheep will scatter: He demolishes leaders to weaken his followers.

43. Work on the hearts and minds of others: Conquer the spirit of people to control them.

44. Disarm and anger with mirror effect: Reflect the actions of others to destabilize them.

45. Preach the need for change, but never reform too much: Radical change can generate resistance.

46. Never look too perfect: Perfection breeds envy and haters.

47. Don't exceed your goal: When you achieve what you want, retire on time.

48. Be amorphous: Be adaptable, don't limit yourself to a rigid form.

These laws are designed to handle situations of power, but it's important to consider context and personal ethics when applying them.

06/12/2024

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،
قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔
(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،
اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا
جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.
چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،
اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.
مسئول کو بلایا گیا،
تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟
اس نے کہا،
جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.
بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،
مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.
اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،
چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،
اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"
بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،
معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،
چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.
بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"
اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.
ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.
کچھ وقت گزرا،
"مصاحب کو بلایا،"
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:
"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"
بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،
سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"
تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔
بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،
"تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟
اس نے کہا،
"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،
لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں
"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "
کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں...

28/11/2024

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

25/11/2024

What are the six lessons in Rich Dad Poor Dad?

Lesson 1: The Rich Don't Work for Money.
Lesson 2: Why Teach Financial Literacy?
Lesson 3: Mind Your Own Business.
Lesson 4: The History of Taxes and The Power of Corporations.
Lesson 5: The Rich Invent Money.
Lesson 6: Work to Learn—Don't Work for Money.

ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے وہ لمحہ ملتاکاش سرکارؐ دو عالم کا زمانہ ملتاآپ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتےیوں مرے صبر و تح...
25/10/2024

ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے وہ لمحہ ملتا
کاش سرکارؐ دو عالم کا زمانہ ملتا

آپ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے
یوں مرے صبر و تحمل کو سلیقہ ملتا

آپؐ کے پیچھے کھڑے ہو کے نمازیں پڑھتا
آپؐ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ ملتا

بھول جاتا میں کسی طاق میں آنکھیں رکھ کر
آپؐ کو دیکھتے رہنے کا بہانہ ملتا

ذرا تصویر کو غور سے دیکھیں صرف اڑنے کی خاطر میٹروں اور سکرینوں کی بڑی اور پیچیدہ تعداد کو دیکھیں!! تصور کریں کہ پرندے، ع...
21/10/2024

ذرا تصویر کو غور سے دیکھیں
صرف اڑنے کی خاطر میٹروں اور سکرینوں کی بڑی اور پیچیدہ تعداد کو دیکھیں!!
تصور کریں کہ پرندے، عقاب، کبوتر اور اُلّو کے دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ تربوز کے بیج کے برابر ہے، اور یہ تمام پیچیدہ حسابات اسی میں کیے جاتے ہیں!!
رفتار، اونچائی، پے لوڈ، وزن، سمت، کمپاس، اوقات، خوراک کی تلاش اور دشمنوں سے بچنے کے لیے ریڈار، لینڈنگ اور ٹیک آف میٹر، اونچی اور نیچی فلائٹ میٹر، اور یہ سب بغیر کسی کنٹرول ٹاور، ریڈیو، سیٹلائٹ، یا GPS!!!

🍀اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ ؔۘؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ ﴿19﴾
🟢ترجمہ:- . کیا اُنہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلائے ہوئے اور (کبھی) پر سمیٹے ہوئے نہیں دیکھا؟ اُنہیں (فضا میں گرنے سے) کوئی نہیں روک سکتا سوائے رحمان کے (بنائے ہوئے قانون کے)، بے شک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
سورۃالملک آیت:19

یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں:"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)"ا...
14/10/2024

یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں:

"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)

"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)

"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)

"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)

"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)

"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)

"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)

"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)

"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)

"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)

"اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)

"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)

"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)

"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)

"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)

"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)

"میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)

"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)

"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)

"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)

"بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)

"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)

"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)

"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)

"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)

"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)

"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)

"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)

"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)

"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)

"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)

"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)

"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)

ماریہ کا "کیوں۔۔؟"یہ پولینڈ کی نیزہ پھینک یعنی جیولن تھرور ماریہ ہے۔2016 میں یہ صرف 2 سینٹی میٹر کی وجہ سے اولمپک میڈل ہ...
04/09/2024

ماریہ کا "کیوں۔۔؟"

یہ پولینڈ کی نیزہ پھینک یعنی جیولن تھرور ماریہ ہے۔
2016 میں یہ صرف 2 سینٹی میٹر کی وجہ سے اولمپک میڈل ہار گئی۔
2017 میں اسے کندھے کی انجری ہوئی۔
اور
2018 میں اسے بون کینسر ہو گیا۔

ماریہ کے لیے یہ سب قابل قبول نہ تھا۔ اسے زندہ رہنا تھا۔ توانا ہونا تھا۔ تمغہ جیتنا تھا۔
اس لیے وہ بہادری سے کینسر سے لڑی اور اس موذی مرض سے جیت گئی۔
نہ صرف یہ بلکہ وہ اسپتال سے نکلی تو سیدھی واپس کھیل کے میدان میں گئی اور ایسا کم بیک دیا کہ
2021 میں ٹوکیو میں منعقد ہونے والے سمر اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیت لیا۔
یوں وہ اپنے ملک کی نوجوان نسل کے لیے عزم و ہمت کا ارشد ندیم بن گئی۔

انہی دنوں ایک بچے کبوس کے والدین اس کے علاج کے لیے چندہ اکٹھا کرتے پھر رہے تھے۔ تاہم اس سے پہلے کہ وہ اسپتال کا خرچہ پورا کر کے اپنے لخت جگر کا علاج کرواتے، کبوس کی سانسیں پوری ہوگئیں۔
کبوس کے والدین کے پاس اب ایک طرف چندے کے سوا لاکھ ڈالر تھے اور دوسری طرف غم کا پہاڑ۔

پھر ایک اور بچے ملوزیک کے والدین نے اس کے دل کے علاج کے لیے چندے کی اپیل کر دی جو کسی طرح کبوس کے والدین کے کانوں تک پہنچ گئی۔
وہ اٹھے اور سیدھا جا کر سوا لاکھ ڈالر آٹھ ماہ کے ملوزیک کے حوالے کر دیا تاکہ اس کے دل کا مشکل علاج ممکن ہو اور ان کے غم کا کچھ مداوا۔
لیکن یہ علاج مہنگا تھا۔ کم از کم سوا لاکھ ڈالر مزید درکار تھے۔

ادھر ماریہ ڈیڑھ ماہ پہلے جیتا ہوا اپنا چاندی کا تمغہ سینے پر سجائے خوشی کے جشن مناتی پھر رہی تھی۔ اسے اپنا سفر ایک خواب معلوم ہوتا تھا۔ اسے کینسر کے دنوں کی راتیں یاد آتیں جب وہ خود سے یہ سوال کرتی کہ آخر میں ہی کیوں۔۔۔؟
آخر مجھے ہی کیوں اس آزمائش میں ڈالا گیا۔۔؟
اور اب جب وہ اپنے تمغے کو اپنی ہتھیلی پر رکھتی تو ایک بار پھر اس کا سامنا ایک سوال سے ہوتا: کیوں۔۔؟
آخر میں ہی کیوں؟
آخر میں ہی کیوں اس اعزاز کے لیے منتخب ہوئی۔؟

تاہم ابھی اس نے اپنے تمغے کو جی بھر کے دیکھا ہی نہ تھا کہ ایک دن اس کے سوال کا جواب اس تک پہنچ گیا۔
ملوزیک کا دل تیزی ڈوب رہا تھا اور اس کی ماں سوشل میڈیا کے چوراہے پر جھولی پھیلائے کھڑی تھی۔
ماریہ چاہتی تو چندے کی اپیل والی پوسٹ اپنی فیس بک وال پر لگا کر یا پھر سو، دو سو ڈالر دے کر ملوزیک کی کچھ تھوڑی بہت مدد کر سکتی تھی۔
مگر اسے معلوم تھا کہ چندہ آہستہ آہستہ آتا ہے اور وہ ملوزیک کو دوسرا کبوس بنتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔
اس لیے اس نے اپنی زندگی کی سب سے پیاری چیز، جسے اس نے کینسر سے لڑ کر جیتا تھا، اٹھائی اور سوا لاکھ ڈالر میں بیچنے کے لیے سوشل میڈیا کے اسی چوراہے پر رکھ دیا جہاں ملوزیک کی ماں کھڑی تھی۔
پولینڈ کے "گل احمد" والوں یعنی زبکا سپر مارکیٹ کے امیر مالکوں کو پتہ چلا تو انہوں نے ملوزیک کے والدین کو سوا لاکھ ڈالر ادا کر کے ماریہ کا تمغہ خرید لیا۔
اور یوں ملوزیک امریکہ کے اسٹینفرڈ ہیلتھ سینٹر پہنچ گیا جہاں اس کے دل کی کامیاب سرجری ہوگئی۔
ماریہ کو اب اپنے سب سوالوں کے جواب مل گئے۔
اب ملوزیک کا دھڑکتا دل ہی اس کے سینے پہ سجا تمغہ بھی تھا اور اس کے اندر کا سکون بھی۔

مگر سونے کے دل والی یہ (2021 میں) پچیس سالہ لڑکی اپنے چاندی کے تمغے سے بھی محروم نہ ہوئی۔
یہ سوچ کر کہ سمر اولمپکس کا تمغہ ماریہ کے لیے کس قدر معنی خیز تھا، زبکا کے امیر مالکوں نے اسے اپنے کسی اسٹور میں سجانے کے بجائے اسے واپس ماریہ کی جھولی میں ڈال دیا۔

تو دوستو۔۔!
ہر شکست اور ہر فتح کا ایک "کیوں" ہوتا ہے۔
اپنی ہار اور جیت کو اس وقت تک مکمل نہ سمجھیں جب تک آپ کو اس "کیوں" کا جواب نہ مل جائے۔

کیوں کہ یہیں سے اچھائی کی اک نئی لڑی کا آغاز ہوتا ہے۔
ان لڑیوں میں قربانیاں پرونے والوں کی خیر ہو۔۔۔!

#منقول

سام سنگ کمپنی کے مالک کی عبرت ناک کہانی!!کاش میں سانسیں بھی خرید سکتا:25 اکتوبر 2020ء کا دن تھا۔ ڈاکٹر نے مریض کا بازو س...
25/06/2024

سام سنگ کمپنی کے مالک کی عبرت ناک کہانی!!
کاش میں سانسیں بھی خرید سکتا:
25 اکتوبر 2020ء کا دن تھا۔ ڈاکٹر نے مریض کا بازو سیدھا کیا اور مایوسی سے سر ہلا دیا۔ بیٹے نے آہستہ آواز میں پوچھا "کیا کوئی چانس ہے"۔ ڈاکٹر نے جواب دیا "سر اب کوئی چانس نہیں، ہمیں وینٹیلیٹر بند کرنا ہو گا". بیٹے نے سر نیچے کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ مریض مئی 2014ء سے کومے میں تھا۔

مریض کی کہانی 1940ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے والد نے جنوبی کوریا کے شہرٹائیگو میں چھوٹی سی کمپنی بنائی۔ کوریائی زبان میں تین ستاروں کو ”سام سنگ“ کہتے ہیں۔ قدیم روایات کے مطابق اکٹھے طلوع ہونے والے تین ستارے کبھی غروب نہیں ہوتے۔
والد "لی بیونگ چل" نے خوش شگونی کے لئے کمپنی کا نام سام سنگ رکھ دیا۔ یہ لوگ شروع میں فروٹ اور فروزن فش ایکسپورٹ کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تعمیر نو شروع ہوئی تو سام سنگ خوراک سے کنسٹرکش انڈسٹری میں آ گئی اور اس نے دھڑا دھڑ عمارتیں، پل اور سڑکیں بنانا شروع کر دیں۔ لی بیونگ چل نے ان ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کمائے۔
یہ سمجھ دار انسان تھے، یہ جانتے تھے انسان کو اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہییں چنانچہ یہ کنسٹرکشن کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل، فیشن اور الیکٹرانکس کے کاروبار میں بھی آ گئے۔ گروپ بڑا ہوتا چلا گیا۔
Lee Kun-hee
"لی کن ہی" لی بیونگ چل کے تیسرے بیٹے تھے، یہ کند ذہن اور لاابالی مزاج کا لڑکا تھا، اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا لیکن والد انہیں ہرحال میں پڑھانا چاہتے تھے۔ "لی کن ہی" نے وسیڈا یونیورسٹی سے اکنامکس کی ڈگری لی اور بزنس کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا میں داخلہ لے لیا۔ جارج واشنگٹن کا دور "لی" کی زندگی کا فضول اور ناقابل بیان زمانہ تھا۔ یہ اپنی ڈگری تک مکمل نہ کر سکے۔ والد نے انہیں واپس بلایا اور کنسٹرکشن اور ٹریڈنگ کے کام میں لگا دیا۔ یہ گرتے پڑتے یہ کام کرتے رہے مگر والد ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا یہ پوری کمپنی کو ڈبو دیں گے۔ والد 1987ء میں انتقال کر گئے اور "لی" کو مجبوراً کمپنی سنبھالنا پڑ گئی۔ کمپنی اس وقت 34 مختلف شعبوں میں کام کر رہی تھی۔
"لی" کے لئے اگلے پانچ سال بہت مشکل تھے۔ یہ ایک دفتر سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی طرف دوڑتے رہتے تھے یہاں تک کہ 1993ء آ گیا۔ "لی" کو اچانک محسوس ہوا ہم بہت زیادہ مصنوعات بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم کوالٹی میں مار کھا رہے ہیں جبکہ ہمارے حریف صرف ایک ایک کام کرتے ہیں اور ان کی مصنوعات کی کوالٹی سام سنگ سے بہت بہتر ہے۔ لی کو محسوس ہوا کہ ہم نے اگر اپنے حریفوں کو کوالٹی میں مار نہ دی تو ہم پٹ جائیں گے۔

چنانچہ اس نے ایک دن اپنے تمام ایگزیکٹوز کو جمع کیا اور ان سے کہا ”ہم آج سے اپنی بیوی اور بچوں کے علاوہ سب کچھ بدل رہے ہیں، تم لوگ نقصان کی پرواہ نہ کرو، ہم اگر فٹ پاتھ پر بھی آ جائیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، آپ بس صرف اور صرف کوالٹی پر توجہ دیں، ہماری پراڈکٹس ہر صورت مارکیٹ میں نمبر ون ہونی چاہئیں۔ سام سنگ کے لوگو کو گارنٹی ہونا چاہیے“۔ یہ میجر شفٹنگ تھی، کمپنی کی انتظامیہ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ڈٹے رہے۔
وہ ہر قسم کا نقصان برداشت کرنے کے لئے بھی تیار تھے۔ ایگزیکٹوز نے ہار مان لی اور تعداد کی بجائے معیار پر چلے گئے۔ شروع کے سال بہت مشکل تھے۔ کمپنی کے گودام کباڑ خانہ بن گئے، مارکیٹ میں سام سنگ کا انبار لگ گیا، لوگ اس کے سائن بورڈز کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے۔ ڈسٹری بیوٹرز تک بھاگ گئے مگر یہ پیچھے نہیں ہٹے۔ 1995ء میں ایک طرف کمپنی کا بیڑہ غرق ہو گیا اور دوسری طرف "لی کن ہی" پر جنوبی کوریا کے صدر "روح تائے ووہ" کو 30 ملین ڈالر رشوت دینے کا الزام لگ گیا۔
یہ تفتیش، انکوائریاں اور عدالتی مقدمات کا سامنا بھی کرنے لگے۔ وہ دور مشکل تھا مگر اس دور نے انہیں پگھلا کر کندن بنا دیا۔ یہ نکھرتے چلے گئے، سام سنگ اس دوران ٹیلی ویژن کی انڈسٹری میں آ گئی اور اس کا ٹی وی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ لیڈر بن گیا اور یہ چند ماہ میں پیداوار، معیار اور فروخت میں سونی کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ یوں کمپنی 2006ء میں اعلیٰ معیار کا گارنٹی کارڈ بن گئی۔ یہ ہر گھر تک پہنچ گئی۔ "لی کن ہی" نے 1998ء میں سمارٹ فونز کا یونٹ بھی لگا لیا۔

یہ یونٹ گلیکسی کہلاتا تھا، گلیکسی مارکیٹ میں آیا اور اس نے کشتے کے پشتے لگا دیے۔ یہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے عالمی برانڈ بن گیا۔ جس کے بعد سام سنگ 350 بلین ڈالر کی کمپنی بن گئی۔ "لی کن ہی" کو فوربس نے 2014ء میں دنیا کے 100 بااثر ترین لوگوں کی لسٹ میں بھی شامل کر لیا اور یہ کوریا کا امیر ترین شخص بھی بن گیا۔ یہ سٹیٹ سے بھی امیر ہو گیا۔ "لی کن ہی" کی کامیابی کا پہلا ستون ٹیکنالوجی تھی، سام سنگ کا آر اینڈ ڈی سیکشن بہت مضبوط ہے۔

اس نے اہل ترین سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر انجینئرز بھرتی کر رکھے ہیں، جن کی وجہ سے یہ گروپ پچھلے دس برسوں سے مارکیٹ کو لیڈ کر رہا ہے۔ دوسرا یہ گروپ معیار پر کمپرومائز نہیں کرتا۔ آپ ان کی کوئی پراڈکٹ اٹھا کر دیکھ لیں، پیکنگ سے لے کر سائز تک آپ کو اس کا معیار حیران کر دے گا اور تیسرا "لی کن ہی" خود ہی خریدوفروخت کا ایکسپرٹ تھا۔ یہ راستے کی ہر رکاوٹ کو خرید کر یا گرا کر آگے نکل جاتا تھا۔ یہ جنوبی کوریا کے قوانین تک بدل دیتا تھا۔
یہ اپنی مرضی کی حکومتیں بھی لے آتا تھا اور اعلیٰ عدالتوں کے جج بھی بدل دیتا تھا۔ چنانچہ یہ سٹیٹ کے اندر ایک سٹیٹ بن گیا اور یہ سٹیٹ اصل سٹیٹ سے بڑی اور مضبوط تھی۔ آپ جنوبی کوریا کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں، آپ کو ملک کے ہر سیاسی اتار چڑھاؤ کے پیچھے "سام سنگ اور لی کن ہی" ملے گا۔ یہ درجنوں مرتبہ انکوائریوں، تفتیشوں اور مقدمات کا ہدف بنا، اس پر صدور کو رشوت دینے کے الزام بھی لگے اور اسے سیاسی خریدوفروخت کا بیوپاری بھی کہا گیا۔2008ء میں اس پر ٹیکس چوری کے الزامات ثابت ہو گئے۔ اسے سزا بھی ہوئی لیکن اس نے عدالت اور حکومت دونوں کو خرید لیا، سزا معاف ہو گئی تاہم اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا عہدہ واپس کرنا پڑ گیا۔ یہ پورے کوریا میں بدنام تھا مگر اسے کوئی ندامت، کوئی پریشانی نہیں تھی، یہ میدان میں ڈٹا رہتا تھا۔ یہ خود اپنے منہ سے کہتا تھا آپ اگر دولت سے آسانیاں نہیں خرید سکتے تو پھر آپ کو دولت مند ہونے کا کوئی فائدہ نہیں چنانچہ یہ سامنے موجود ہر شخص کو چند لمحوں میں خرید لیا کرتا تھا۔ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ اس نے آخر میں زندگی کو بھی خریدنے کی کوشش شروع کر دی۔

چیئرمین لی کن ہی کو 2014ء میں ہارٹ اٹیک ہوا اور یہ کوما میں چلا گیا۔ اس کی وصیت کے مطابق اسے وینٹیلیٹر پر شفٹ کر دیا گیا اور اس کے لئے نئی ادویات کی ایجاد کا کام شروع کر دیا گیا۔ سام سنگ نے درجنوں ریسرچ اداروں کو فنڈنگ کی، بڑے سے بڑے ڈاکٹر کا بندوبست کیا اور قیمتی سے قیمتی ترین ادویات بنوائی گئیں مگر "لی کن ہی" کومے سے باہر نہ آ سکا۔ اس کے بیٹے "لی جائے یونگ" نے کمپنی کی عنان سنبھال لی۔ یہ اپنے والد کو ایک بار اپنے پاؤں پر کھڑا دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی یہ ایک بار اپنے منہ سے بولیں، یہ اپنے ہاتھ سے کھائیں اور ایک بار! جی ہاں صرف ایک بار اپنی کھلی آنکھوں سے سام سنگ کی نئی سکرین دیکھیں لیکن لی جائے یونگ کی کوئی کوشش بارآور نہ ہو سکی اور یوں 25 اکتوبر 2020ء کی وہ شام آ گئی جب ڈاکٹروں نے مایوسی کا اعلان کر دیا۔ لی کن ہی کومے کے عالم میں انتقال کر گیا اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر نے اس کا بازو سائیڈ پر رکھا اور مایوسی میں سر ہلا دیا۔ سام سنگ کا مالک مر چکا تھا لیکن مرنے کے باوجود اس کے اکاؤنٹ میں 20 بلین ڈالرز تھے اور یہ 350 بلین ڈالرز کی کمپنی کا مالک تھا مگر 350 بلین ڈالرز کی کمپنی اور 20 بلین ڈالرز کے اکاؤنٹس موت کا مقابلہ نہ کر سکے۔ مسافر چھ سال کی طویل نیند کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہو گیا۔
لی کن ہی کی موت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انسان دنیا میں دولت کے ذریعے سب کچھ خرید سکتا ہے لیکن یہ کتنا ہی بڑا بیوپاری کیوں نہ ہو جائے یہ ایک بھی اضافی سانس نہیں خرید سکتا اور اس کے پاس قدرت کے سامنے ہارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں انسان اگر زندگی خرید سکتا تو ہم آج بھی نمرود اور فرعون کی خدائی میں سانس لے رہے ہوتے۔ موت وہ امر ربی ہے جس کے ذریعے اللہ لی کن ہی جیسے لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے "جاؤ تم جتنا بھاگ سکتے ہو بھاگ لو لیکن تم نے آخر میں میرے پاس ہی آنا ہے'‘۔ میں تمہیں کائنات کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دوں گا اور یہ چھپنے دیتا بھی نہیں ھے۔ تاریخ انسانی خداؤں کا قبرستان ہے، آپ کسی دن تاریخ کے قبرستان میں جھانک کر دیکھیں، آپ کو ہر قبر میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص لیٹا ملے گا جو خود کو ناگزیر بھی سمجھتا تھا اور ناقابل شکست بھی لیکن پھر کیا ہوا؟ سن کنگ سے لے کر مون کوئین تک دنیا کے ہر ناگزیر کے لیے مٹی ہی آخری لحاف ثابت ہوئی۔ اللہ کی اس دنیا میں لی کن ہی جیسا شخص بھی چھ چھ سال ہسپتال میں بستر پر لیٹ کر آنکھ نہیں کھول پاتا۔ اس سے امیر تیمور اور ہٹلر جیسے شخص بھی خالی ہاتھ واپس جاتے ھیں لیکن ہم اس قبرستان میں پوری زندگی ”میں میں“ کی آوازیں لگاتے رہتے ہیں اور ہمیں شرم بھی نہیں آتی۔ بھائی میرے! اپنی اوقات دیکھ کر بولو! تم کورونا کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے، زندگی اور موت دینے والے کا کیا خاک مقابلہ کرو گے۔ مٹی کی مٹھی ہو، مٹی بن کر رہو، خدا نہ بنو! کیونکہ خدا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں رہنے دیتا۔
منقول

ASSET vs LIABILITYSon:  Dad, may I speak with you?Dad: Go ahead.Son: Among all my classmates, I am the only one without ...
09/06/2024

ASSET vs LIABILITY

Son: Dad, may I speak with you?
Dad: Go ahead.
Son: Among all my classmates, I am the only one without a car. It is embarrassing.
Dad: What do you want me to do?
Son: I need a car. I don't want to feel odd.
Dad: Do you have a particular car in mind?
Son: Yes dad (smiling)
Dad: How much?
Son: 500,000 pesos
Dad: I will give you the money on one condition.
Son: What is the condition?
Dad: You will not use the money to buy a car but invest it. If you make enough profit from the investment, you can go ahead and buy the car.
Son: Deal.

Then, the father gave him a cheque of 500,000 pesos. The son cashed the cheque and invested it in obedience to the verbal agreement that he had with his father.

Some months later, the father asked the son how he was faring. The son responded that his business was improving. The father left him.

When it was exactly a year after he gave him the money, the father asked him to show him how far the business has gone. The son readily agreed and the following discussion took place:

Dad: From this I can see that you have made a lot of money.
Son: Yes dad.
Dad: Do you still remember our agreement?
Son: Yes
Dad: What is it?
Son: We agreed that I should invest the money and buy the car from the profit.
Dad: Why have you not bought the car?
Son: I don't need the car again. I want to invest more.
Dad: Good. You have learnt the lessons that I wanted to teach you.
- You didn't really need the car, you just wanted to feel among. That would have placed extra financial obligations on you. It wasn't an asset then; but a liability.
- Two, it is very important for you to invest in your future before living like a king.
Son: Thanks dad.

Then the father gave him the keys of the latest model of that car.

MORALS:
1. Always invest first before you start living the way you want.

2. What you see as a need now may become a want if you can take a little time to get over your feelings.

3. Try to be able to distinguish between an asset and a liability so that what you see as an asset today will not become a liability to you tomorrow.

07/05/2024

ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 100 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات۔
1 - گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83
2 - غصے کو قابو میں رکھو۔
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134
3 - دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو۔
سورۃ القصص، آیت نمبر 77
4 - تکبر نہ کرو۔
سورۃ النحل، آیت نمبر 23
5 - دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو۔
سورۃ النور، آیت نمبر 22
6 - لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو۔
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19
7 - اپنی آواز نیچی رکھا کرو۔
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19
8 - دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11
9 - والدین کی خدمت کیا کرو۔
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23
10 - والدین سے اف تک نہ کرو۔
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23
11 - والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو۔
سورۃ النور، آیت نمبر 58
12 - لین دین کا حساب لکھ لیا کرو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282
13 - کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو۔
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36
14 - اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280
15 - سود نہ کھاؤ۔
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278
16 - رشوت نہ لو۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42
17 - وعدہ نہ توڑو۔
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20
18 - دوسروں پر اعتماد کیا کرو۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
19 - سچ میں جھوٹ نہ ملایا کرو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42
20 - لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو۔
سورۃ ص، آیت نمبر 26
21 - انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 135
22 - مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیا کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 8
23 - خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 7
24 - یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 2
25 - یتیموں کی حفاظت کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 127
26 - دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 6
27 - لوگوں کے درمیان صلح کراؤ۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10
28 - بدگمانی سے بچو۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
29 - غیبت نہ کرو۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
30 - جاسوسی نہ کرو۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
31 - خیرات کیا کرو۔
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271
32 - غرباء کو کھانا کھلایا کرو۔
سورة المدثر، آیت نمبر 44
33 - ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو۔
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273
34 - فضول خرچی نہ کیا کرو۔
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67
35 - خیرات کرکے جتلایا نہ کرو۔
سورة البقرۃ، آیت 262
36 - مہمانوں کی عزت کیا کرو۔
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27
37 - نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44
38 - زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو۔
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36
39 - لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو۔
سورة البقرة، آیت نمبر 114
40 - صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں۔
سورة البقرة، آیت نمبر 190
41 - جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو۔
سورة البقرة، آیت نمبر 190
42 - جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ۔
سورة الأنفال، آیت نمبر 15
43 - مذہب میں کوئی سختی نہیں۔
سورة البقرة، آیت نمبر 256
44 - تمام انبیاء پر ایمان لاؤ۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 150
45 - حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو۔
سورة البقرة، آیت نمبر، 222
46 - بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ۔
سورة البقرة، آیت نمبر، 233
47 - جنسی بدکاری سے بچو۔
سورة الأسراء، آیت نمبر 32
48 - حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247
49 - کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔
سورة البقرة، آیت نمبر 286
50 - منافقت سے بچو۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16
51 - کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو۔
سورة آل عمران، آیت نمبر 190
52 - عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے۔
سورة آل عمران، آیت نمبر 195
53 - بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 23
54 - مرد خاندان کا سربراہ ہے۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 34
55 - بخیل نہ بنو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 37
56 - حسد نہ کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 54
57 - ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 29
58 - فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 135
59 - گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2
60 - نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2
61 - اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100
62 - صحیح راستے پر رہو۔
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153
63 - جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38
64 - گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو۔
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39
65 - مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3
66 - شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90
67 - جوا نہ کھیلو۔
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90
68 - ہیرا پھیری نہ کرو۔
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70
69 - چغلی نہ کھاؤ۔
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1
70 - کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو۔
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31
71 - نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو۔
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31
72 - آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو۔
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6
73 - طہارت قائم رکھو۔
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108
74 - اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56
75 - اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 17
76 - لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ۔
سورۃ النحل، آیت نمبر 125
77 - کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18
78 - غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو۔
سورۃ النحل، آیت نمبر 31
79 - جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو۔
سورۃ النحل، آیت نمبر 36
80 - کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
81 - اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو۔
سورۃ النور، آیت نمبر 27
82 - اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔
سورۃ یونس، آیت نمبر 103
83 - زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو۔
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63
84 - اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔
سورة توبہ، آیت نمبر 105
85 - اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110
86 - ہم جنس پرستی میں نہ پڑو۔
سورۃ النمل، آیت نمبر 55
87 - حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو۔
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119
88 - زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو۔
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37
89 - عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں۔
سورۃ النور، آیت نمبر 31
90 - اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 48
91 - اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
سورۃ زمر، آیت نمبر 53
92 - برائی کو اچھائی سے ختم کرو۔
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34
93 - فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو۔
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38
94 - تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13
95 - اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27
96 - اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے۔
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11
97 - غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8
98 - خود کو لالچ سے بچاؤ۔
سورۃ النساء، آیت نمبر 32
99 - اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199
100 - جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو۔
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10
اسے لازمی پڑھیں اور دیکھیں کہاں کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ایک ڈائری بنا لیں تو ذیادہ اچھا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا

Address

Islamabad

Telephone

+923336027700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engr. Naeem Hargan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Engr. Naeem Hargan:

Share

Category