Farhat & Co. is Now Yousuf & Co,

Farhat & Co. is Now Yousuf & Co, Welcome to Farhat And Company- The premier electrical wholesale distributor of electrical products to construction and industry.

Our network of fully stocked locations, staffed by some of the most experienced sales personal bring uncompromised service to our customers. We partner with the top vendors in the various product categories to bring our customers the best value for traditional and new products.

میں نے سیکھا ہے ریاضی کے اصولوں سے، جو ناممکن ہو اُسے فرض کر لو۔میں نے سیکھا ہے ریاضی کے اصولوں سے، جو ناممکن ہو اُسے فر...
27/12/2025

میں نے سیکھا ہے ریاضی کے اصولوں سے،
جو ناممکن ہو اُسے فرض کر لو۔

میں نے سیکھا ہے ریاضی کے اصولوں سے،
جو ناممکن ہو اُسے فرض کر لو،
مسئلے خود راستہ دکھا دیں گے،
بس سوچ کو آزاد اور یقین مضبوط کر لو۔

میں نے سیکھا ہے ریاضی کے اصولوں سے،
ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے،
جب عقل ساتھ دے اور یقین ہو،
تو ہر سوال اپنا حل پاتا ہے۔

میں نے سیکھا ہے ریاضی کے اصولوں سے،
جو ناممکن ہو اُسے فرض کر لو
پھر قدم بہ قدم حل نکل آتا ہے،
بس ہمت رکھو اور خود پر یقین کر لو۔

ریاضی ہمیں سکھاتی ہے
کہ ناممکن سے گھبرانا نہیں،
اُسے فرض کرو
اور حل تک پہنچ جاؤ۔

27/12/2025

بہادر مارے جاتے ہیں،
ذہین اکثر پاگل کہلائے جاتے ہیں،
دنیا بےوقوفوں سے بھری ہوئی ہے۔

کسی نے درست کہا ہے،
جہالت ایک بڑی نعمت ہے،
کیونکہ شعور انسان کو تکلیف میں ڈال دیتا ہے،
اور وہ تکلیف
جو عوام کی سمجھ سے بالاتر ہو

وہ تکلیف
جس میں انسان بالکل اکیلا ہوتا ہے۔

رشتے احساس سے بنتے ہیں،
احسان سے نہیں۔
اسی لیے جس سے بھی تعلق رکھو،
احساس کا رکھو،
نہ کہ احسان کا۔

مکان پکا ہو یا کچا،
زندگی کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتی ہے،
لیکن
اگر ایمان پکا نہ ہو
تو قبر کی زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے

27/12/2025

Tameez o Tehzeeb

27/12/2025

27/12/2025

Book Enoch

27/12/2025

Nafs

27/12/2025

Muslim se momin

09/08/2025

So cute

ایک نگرانی کرنے والا ڈرون صرف 500 سے 5000 ڈالر میں آ سکتا ہے،جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا انٹرسیپٹر میزائل کر...
09/05/2025

ایک نگرانی کرنے والا ڈرون صرف 500 سے 5000 ڈالر میں آ سکتا ہے،
جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا انٹرسیپٹر میزائل کروڑوں روپے کا ہوتا ہے۔

اگر بھارت درجنوں یا سینکڑوں کی تعداد میں ڈرون پاکستان کی طرف بھیج رہا ہے، تو اس کے مقاصد بالکل واضح ہیں:

1. پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹمز کا پتا لگانا — کیونکہ جب انٹرسیپٹر میزائل فائر ہوتا ہے، تو اس جگہ کا مقام ظاہر ہو جاتا ہے جہاں سے اسے داغا گیا۔

2. ان سستے ڈرونز کو بطور فریب (decoy) استعمال کرنا تاکہ مہنگے اور محدود تعداد میں موجود میزائل ضائع ہو جائیں — اور جب اصل حملہ ہو، تو ہمارے پاس بچاؤ کے لیے میزائل نہ ہوں۔

3. زیادہ سے زیادہ افراتفری پھیلانا — تاکہ عوام سوال اٹھائیں کہ ہمارا دفاعی نظام کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔

لہٰذا... عقل سے کام لو!

یہ مت سوچو کہ یہ ڈرون سرحد کے اتنے اندر تک کیسے پہنچ رہے ہیں۔ یاد رکھو: ایسے سستے ڈرونز کو کم ٹیکنالوجی والے ہتھیاروں سے گرایا جاتا ہے، جیسے اینٹی ایئرکرافٹ گنز، عام بندوقیں، اور (MANPADS اور ان سب کی رینج محدود ہوتی ہے۔ اس لیے اکثر فورسز کو مجبوری کے تحت ڈرون کو اتنا قریب آنے دینا پڑتا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کی رینج میں آ جائے، تب جا کر کارروائی کی جاتی ہے۔

مزید یہ کہ... اگر آپ کو دھماکوں کی آواز سنائی دے، تو گھبرائیں نہیں۔ ہر دھماکہ حملہ نہیں ہوتا — آج کے زیادہ تر دھماکے ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کے دوران ہوئے۔

اور... اگر شدید فائرنگ کی آواز آئے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اینٹی ایئرکرافٹ گنز یا دوسرے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈرونز کو گرایا جا سکے۔

لہٰذا — افراتفری سے بچیں۔

اور — بالکل بھی ان واقعات کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا دشمن کی مدد کے مترادف ہو گا۔

کراچی میں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساٹھ سال کی عمر میں جب ان کی پنشن شروع ہوئی تو انہوں نے بیٹی کی شادی کے لیے پیسے...
16/04/2025

کراچی میں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساٹھ سال کی عمر میں جب ان کی پنشن شروع ہوئی تو انہوں نے بیٹی کی شادی کے لیے پیسے جوڑنے کا سوچا۔ بیٹا دبئی میں تھا، اس نے مشورہ دیا: “ابا، ڈیفنس میں ایک چھوٹا سا پلاٹ لے لیں، تین سال بعد بیچ کر بیٹی کا جہیز بھی بن جائے گا اور کچھ بچت بھی ہو گی۔”

بوڑھے نے زندگی کی آخری پونجی ڈیفنس کے ایک کنال کے پلاٹ پر لگا دی۔ دو سال بعد وہی پلاٹ دوگنے دام میں بکا۔ بیٹی کی شادی بھی ہوگئی اور ساتھ ہی بزرگ کی آنکھوں میں ایک نیا خواب پیدا ہوگیا: “زمین ہی سونا ہے!”

یہ خواب 2010 سے 2021 تک پاکستان کے ہر دوسرے شخص نے دیکھا۔ کوئی راولپنڈی میں زمین خرید رہا تھا، کوئی لاہور میں، کوئی گوادر کی مٹی کو سونا سمجھ کر اس میں رقم دفن کر رہا تھا۔

اب آپ دل تھام لیجیے، کیونکہ میں آپ کو وہ سچ بتانے جا رہا ہوں جو ہم میں سے اکثر نہیں جاننا چاہتے۔

پچھلے پندرہ سال میں پاکستان میں ریئل اسٹیٹ صرف ایک صنعت نہیں رہی، یہ ایک نفسیات بن گئی۔ ہم نے ہر مسئلے کا حل “پلاٹ” میں ڈھونڈا۔ نوکری نہیں؟ پلاٹ لے لو، دو سال بعد بیچ دو، لاکھوں کماؤ۔ کاروبار میں نقصان ہوا؟ زمین میں پیسے لگا دو، پچھتاوے کی گنجائش نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی 60 سے 70 فیصد دولت ریئل اسٹیٹ میں پھنسی ہوئی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان کی جائیدادوں کی مالیت 300 سے 400 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تو زبردست بات ہے۔ اتنی بڑی مارکیٹ، اتنی دولت، اتنا روزگار۔ مگر ذرا رکیے! یہ صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس پر ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔

جس ملک میں 50 فیصد سے زائد شہری کچی آبادیوں میں رہتے ہوں، وہاں اگر زمین سونے سے مہنگی ہو جائے تو اسے ترقی کہتے ہیں یا نابرابری؟ ایک عام شہری کی آمدنی بمشکل 30 ہزار روپے ہے اور اوسط گھر کی قیمت 60 لاکھ سے اوپر، تو وہ کہاں جائے؟

ریئل اسٹیٹ نے نہ صرف زمین کو مہنگا کیا بلکہ پورے معاشی نظام کو بگاڑ دیا۔ سرمایہ جو فیکٹریوں میں لگنا تھا، وہ پلاٹوں میں دفن ہو گیا۔ نوجوان جنہیں اسٹارٹ اپ بنانے تھے، وہ زمین کے کاروبار میں لگ گئے۔ بینک جو صنعتوں کو قرض دیتے تھے، اب پلاٹ خریدنے والوں کو دیکھنے لگے۔

ریئل اسٹیٹ کی یہ تلوار صرف چھوٹے کاروباروں پر ہی نہیں گری۔ ایک مکمل معیشت “زمین، سیمنٹ، سریا، اینٹ، بجری” کے گرد گھومنے لگی۔ 2020 میں جب حکومت نے کنسٹرکشن امینسٹی دی تو صرف ایک سال میں 1794 نئی رئیل اسٹیٹ کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، اور 493 ارب روپے کا کالا دھن سفید ہو گیا۔

کیا یہ ترقی تھی یا نظام کی جیت؟

آپ حیران ہوں گے کہ پاکستان میں مورٹگیج ٹو جی ڈی پی کی شرح صرف 0.3 فیصد ہے، جبکہ بھارت میں یہ 11 فیصد ہے، اور ملیشیا میں 30 فیصد سے اوپر۔ یعنی ہم زمین کو خریدتے تو ہیں، مگر بینکوں اور معیشت کو اس سے کچھ نہیں ملتا۔

جب زمین کی قیمت بڑھتی ہے تو ہم خوش ہو جاتے ہیں، لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دکان کے کرائے بھی بڑھتے ہیں، دفتر کا کرایہ بھی بڑھتا ہے، اور نتیجتاً کاروبار مہنگا ہو جاتا ہے۔ چھوٹے تاجروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، لیکن ہم واہ واہ کرتے رہتے ہیں کہ “پلاٹ نے دگنا منافع دے دیا!”

اور پھر جب یہ بلبلہ پھٹتا ہے، جیسا کہ 2023 میں ہوا، تو زمین کی قیمتیں 15 فیصد گر جاتی ہیں، لاکھوں افراد بیروزگار ہو جاتے ہیں، اور معیشت ایک بار پھر نیچے آ جاتی ہے۔

کراچی میں ایک پراپرٹی ایجنٹ نے مجھ سے کہا: “سر، ہم تو روز دعا کرتے ہیں کہ کوئی نئی اسکیم لانچ ہو، کوئی نیا امینسٹی آئے، تاکہ بازار چلے۔ ورنہ تو کاروبار ختم ہو گیا ہے۔”

آپ خود سوچیے، جہاں معیشت دعاؤں پر چلنے لگے، وہاں ترقی کیسے آئے گی؟

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے ریئل اسٹیٹ کو معیشت کا مرکز بنا دیا ہے، حالانکہ یہ ہونا چاہیے تھا معیشت کا نتیجہ۔ جب معیشت مضبوط ہوتی ہے تو زمین کی قیمت بڑھتی ہے، نہ کہ زمین کی قیمت بڑھنے سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔

یاد رکھیے، کوئی بھی ملک زمین بیچ کر ترقی نہیں کرتا۔ زمین اگر سونا ہے، تو وہ تب تک قیمتی ہے جب تک اس پر کچھ اُگتا ہے – فیکٹری، اسکول، اسپتال، یا گھر۔ جب زمین صرف منافع کا ذریعہ بن جائے، تو وہ معیشت کا گڑھا بن جاتی ہے۔

آخر میں، ایک سوال چھوڑے جا رہا ہوں:
کیا ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جو اپنے بچوں کو کاروبار سکھانے کے بجائے پلاٹ خریدنے کا مشورہ دیتا ہے؟
اگر ہاں، تو پھر اگلے 15 سال بھی پچھلے 15 سال جیسے ہی ہوں گے – زمین تو مہنگی ہوگی، لیکن زندگی سستی ہوتی جائے گی۔

Address

G/3 Trade Tower Altaf Hussain Road
Karachi
74200

Opening Hours

Monday 11:00 - 18:30
Tuesday 11:00 - 18:30
Wednesday 11:00 - 18:30
Thursday 11:00 - 18:30
Friday 11:00 - 18:30
Saturday 11:00 - 18:30

Telephone

0314-2581457

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farhat & Co. is Now Yousuf & Co, posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Farhat & Co. is Now Yousuf & Co,:

Share