26/05/2025
بیٹا: ہیلو پاپا کہاں ہو؟
باپ: جی بیٹا کام پر ہوں
کیوں پوچھ رہے ہو؟
بیٹا: اوکے، جلدی آو، تمہارا موبائیل چھوٹ گیا ہے۔ اب وہ امی کے ہاتھ میں ہے
باپ: اوے اب تو مارا گیا۔ اس کا دھیان ہٹانے کی کوشش کرو
میں آرہا ہوں
بیٹا: اب وہ موبائیل اوپن کرچکی ہے۔ اور اب میسیجز پڑھنا شروع کرچکی ہے۔
باپ: پلیز رونا شروع کرو یا کسی بیماری کا ناٹک کرو یا زمین پر ہی گر جاو
بیٹا: اب امی رونا شروع کرچکی ہے۔ اور اپنا ہاتھ سر پر رکھ چکی ہے۔
باپ: اوکے، تم دلاسا دیتے رہو میں گھر کے قریب پہونچ چکا ہوں
بیٹا: میں انتظار کررہاہوں، اب وہ زمین پر پوری طرح گر چکی ہے۔
باپ : میں پہونچ گیا۔ دروازہ کھولو
بیٹا: ہلو پاپا آپ نے بہت دیر کردی
باپ: تمہاری امی کہاں ہے
بیٹا: وہ تو صبح ہی مارکٹ گئی ہے
میرا ناشتہ رکھنا بھول گئی تھی۔ اور مجھے بہت بھوک لگی تھی۔ اس لئے۔۔۔ ۔
باپ کہتا ہے کہ مجھے اپنے بیٹے کی حرکت اور بہانہ پر غصہ نہیں آیا، بلکہ اپنی حماقت پرغصہ آیا۔ اس لئے کہ میرا موبائل میرے پاس تھا اور اسی سے پورے راستے بات کرتے ہوے گھر بھاگا آرہا تھا۔
(عربی سے ترجمہ نقی احمد ندوی)
#کہانی #شوہر #بیوی #بچہ #فون #کال #ناشتہ آن لائن نقشہ نویس آفس