06/09/2025
میاں بیوی کا رشتہ ختم کرنے کیلئے پاکستانی قانون میں تین_طریقے ہیں۔ طلاق - خلع - تنسیخ_نکاح
ان تینوں میں فرق کیا ہے؟
1) طلاق دینا مرد کا اختیار ہے۔ طلاق دینے کی صورت میں مرد کو نکاح نامہ میں لکھا گیا حق مہر معجل، غیر معینہ وغیرہ سب کچھ بیوی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ نہ دے تو قانون کہتا ہے کہ اس کی پراپرٹی بیچ کر خاتون کو دلوایا جائے۔ اگر پراپرٹی نہیں ہے تو مرد کو جیل میں ڈالا جائے۔
2) خلع عورت لیتی ہے۔ خلع لینے کیلئے کسی وجہ کا ثابت کرنا ضروری نہیں کہ شوہر تشدد کرتا ہے، نشہ کرتا ہے، خرچہ پورا نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ خاتون کا اتنا کہنا بھی کافی ہوتا ہے کہ یہ شخص مجھے ناپسند ہے، میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ عدالت پابند ہے کہ اسے خلع کی ڈگری دے۔ کہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی کے ساتھ رکھنے کا آرڈر نہیں دیا جا سکتا۔ خلع لینے کی صورت میں خاتون کو حق مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ عدالتیں عموما خاتون کو حق مہر معجل (جو خاتون نے نکاح کے وقت لیا تھا) کا آدھا شوہر کو واپس کرنے کا حکم دیتی ہیں اور حق مہر غیر معجل (جو نکاح کے بعد دیا جانا ہوتا ہے) مرد کو معاف کر دیتی ہیں کہ خاتون خود چھوڑ کر جا رہی ہے۔ حق مہر غیر معجل سے دستبردار ہو۔
3) علیحدگی کا تیسرا طریقہ تنسیخ نکاح ہے۔ جو خاتون خلع کی صورت اپنا حق مہر وغیرہ نہیں چھوڑنا چاہتی وہ اس طریقہ کا اختیار کرتی ہے۔ تنسیخ نکاح کیلئے قانون میں مختلف شرائط دی گئی ہیں۔ مثلا شوہر نامرد ہے۔ وہ گم ہو گیا ہے، عرصہ 7 سال سے گھر نہیں ایا۔ وہ خرچہ نہیں دیتا، تشدد کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ خلع کے برعکس عدالت یہ ڈگری خاتون کے حق میں تب کرتی ہے جب وہ اپنے لگائے گئے الزامات ثابت نہیں کرتی۔ مثلا وہ نامرد ہونے کا الزام لگاتی ہے تو عدالت اسے میڈیکل کروانے کا کہہ سکتی ہے۔ تشدد کا الزام ہے تو اسے ثابت کرنے کا کہہ سکتی ہے۔