15/08/2026
بات یہ ہے کہ ساری عمر بلکہ آج کے دور میں ان باتوں سے زندگی نہیں بدلی جاسکتی کہ میرے دادا کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں دادا کی پگڑی سات گز کی تھی ان کا عمصا کئی گز لمبا تھا وہ لمبا لمبا چلتا تھا۔۔۔۔ان باتوں سے ھم پختونوں کو کچھ ملنا نہیں ہے ۔ ھمارے اوپر شمال میں دنیا کی بڑی سپر ٹیکنالوجی پاور چین ہے ساتھ میں روس ہے مشرقی سائڈ پر اندرون ملک پنجابی محنتی قوم ہے ان سے پیچھے انڈیا ہے ۔ ھم کو کچھ ٹیکنیکل ایڈوانس ھونا پڑے گا۔ یہ فضول تاریخی کارنامے ہیں جو ھمیں سکھانے کیلئے قوم پرست پارٹیاں لگی ھوئی ہیں ۔ اور ھم اپنی نااھلی نالائقی کی وجوہ سے پیچھے ہیں تو الزامات دوسروں پر لگانے شروع کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔ بیس پچیس سال پہلے ایک دفعہ ھم اسی طرح حجرہ میں بیٹھے اپنے افغان پختونوں کی گارڈرز مار رہے تھے ۔ اتنے میں ھمارے ساتھ بیٹھے ایک افغان چاچا بھی بیٹھے تھے گڑ کے ساتھ قہوہ پی رہے تھے وہ ھمارے باتوں کو سن کر بولنے لگے اپنے بیٹے کو کہا کہ جھوٹ بول رہے ھو ۔ھمارے ساتھ کبھی جنگ کیلئے ھتیار ہی نہیں تھے پورے افغانستان میں صرف فوج کے پاس پرانی رائفلیں ھوتی تھیں۔ کہا کہ ھمارے گاؤں میں جب ریچھ وغیرہ آجاتا تو پورا گاؤں درانتیاں اور سوٹے پکڑے نکلتا تھا پھر خاردار جھاڑیوں کی مدد سے ریچھ کو بھاگنے پر مجبور کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔ تو یہ ساٹھ ستر کی دھائی میں حال ھوتا تھا تو کئی سو سالوں پہلے کیا ھوا تھا یہ مبالغہ آمیزی ہے اور کچھ نہیں۔ بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور