MIK Engineers and Constructors

MIK Engineers and Constructors Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MIK Engineers and Constructors, Deans trade center, Peshawar.

Having more than 17 years construction experience related to Buildings, Roads, Water Channels, Dams Infrastructures, with excellent supervisory qualities and ability to execute all types of construction projects.

15/08/2026

بات یہ ہے کہ ساری عمر بلکہ آج کے دور میں ان باتوں سے زندگی نہیں بدلی جاسکتی کہ میرے دادا کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں دادا کی پگڑی سات گز کی تھی ان کا عمصا کئی گز لمبا تھا وہ لمبا لمبا چلتا تھا۔۔۔۔ان باتوں سے ھم پختونوں کو کچھ ملنا نہیں ہے ۔ ھمارے اوپر شمال میں دنیا کی بڑی سپر ٹیکنالوجی پاور چین ہے ساتھ میں روس ہے مشرقی سائڈ پر اندرون ملک پنجابی محنتی قوم ہے ان سے پیچھے انڈیا ہے ۔ ھم کو کچھ ٹیکنیکل ایڈوانس ھونا پڑے گا۔ یہ فضول تاریخی کارنامے ہیں جو ھمیں سکھانے کیلئے قوم پرست پارٹیاں لگی ھوئی ہیں ۔ اور ھم اپنی نااھلی نالائقی کی وجوہ سے پیچھے ہیں تو الزامات دوسروں پر لگانے شروع کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔ بیس پچیس سال پہلے ایک دفعہ ھم اسی طرح حجرہ میں بیٹھے اپنے افغان پختونوں کی گارڈرز مار رہے تھے ۔ اتنے میں ھمارے ساتھ بیٹھے ایک افغان چاچا بھی بیٹھے تھے گڑ کے ساتھ قہوہ پی رہے تھے وہ ھمارے باتوں کو سن کر بولنے لگے اپنے بیٹے کو کہا کہ جھوٹ بول رہے ھو ۔ھمارے ساتھ کبھی جنگ کیلئے ھتیار ہی نہیں تھے پورے افغانستان میں صرف فوج کے پاس پرانی رائفلیں ھوتی تھیں۔ کہا کہ ھمارے گاؤں میں جب ریچھ وغیرہ آجاتا تو پورا گاؤں درانتیاں اور سوٹے پکڑے نکلتا تھا پھر خاردار جھاڑیوں کی مدد سے ریچھ کو بھاگنے پر مجبور کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔ تو یہ ساٹھ ستر کی دھائی میں حال ھوتا تھا تو کئی سو سالوں پہلے کیا ھوا تھا یہ مبالغہ آمیزی ہے اور کچھ نہیں۔ بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

06/08/2026

صوبوں کی تعداد بڑھانا پاکستان کی ضرورت ہے یہ بہت پہلے بنانے چاھیے تھے۔جو کہتے ہیں کہ صوبوں کی تعداد سے خرچے بڑھیں گے۔ خرچے تو اب بھی کنٹرول کرنے چاہیئے صوبوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے بڑھانی چاہیے اگر یہ لسانی بنیادوں پر ھوں تو فائدے کی بجائے نقصانات ھونگے۔ میرے خیال سے اگر صحیح نیت سے قابل ترین اقتصادی ماہرین کے ذریعے سے صوبوں کی تقسیم در تقسیم ھو تو یہ بیس سے زائد صوبے بن جائیں گے باقی اخراجات کنٹرول کرنے کیلئے لوگوں کو صحیح مخلص اور قابل قیادت کو منتخب کرنے چاہیئے نہ کہ کرپٹ نالائق نااھل لوگوں کو۔ بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

01/08/2026

صوبوں کی تعداد انتظامی لحاظ سے ضروری ہے کہ زیادہ ھو کیونکہ آبادی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن میری تجویز ہے کہ صوبوں کی یہ تقسیم آبادی کو مدنظر رکھ کر خالص انتظامی تقسیم ھونی چاہیے۔ لسانی بنیادوں پر یہ تقسیم نہیں ھونی چاہیئے ورنہ مسائل انتظامیہ کیلئے بڑھ جائیں گے۔ بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

14/07/2026

میرے ھم وطن ساتھیو دوستو بزرگو ! ھم کو ایک بات پر واضح ھونا پڑے گا وہ یہ کہ ھمارے ملک کے سیاستدان لیڈرز چاھت وہ کسی بھی پارٹی کے ھوں یہاں تک کہ مذہبی اور قوم پرست گروہوں اور پارٹیوں کے سب کے سب جتنے بھی پارلیمانی ممبران رہے ہیں خصوصاً وزیر مشیر وزیراعظم ڈپٹی وزیراعظم وزراءاعلی سینیئر منسٹرز اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین ڈپٹی چیئرمین سپیکر ڈپٹی اسپیکر سینیٹرز اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے ممبران بورڈز کے ممبران اور سربراہان موجودہ اور سابقہ سب کے سب کی زندگی آپ لوگ دیکھ ان تمام کی حیثیت پیسوں کے لحاظ زندگی کی آسائشوں کے لحاظ سے کتنی بڑھ چکی ہے ۔کیا سیاست میں ھو کر ان لوگوں کی مالی حیثیت عرب کے شیخوں جیسی نہیں بنی ہے ؟ بالکل بن چکی ہے بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری وساری ہے ۔ ان تمام لوگوں کے ان کے نزدیک خاندانی لوگوں کے جاہ وجلال بڑھ چکے ہیں ۔ نہ صرف ادھر اپنے غریب ومسکین پاکستان میں بلکہ باھر کے ٹیکس فری ممالک میں بھی ان کے اثاثوں کی کوئی حد معلوم نہیں ہے۔ اب آئیے اور دیکھیں کہ دنیا کے ترقیافتہ ممالک مالدار ترین ممالک جیسے نیٹو اور یورپین ممالک کے سیاستدان کو تو چھوڑیں ان کے موجودہ اور سابقہ لیڈروں کے موجودہ زندگی اور ذاتی اثاثوں کو دیکھیں پتہ کرلیں آپ کو معلوم ھو جائے گا کہ ان کے ذاتی اثاثے اتنے ھوتے ہیں جتنا کسی سکول ٹیچر کے ان ملکوں میں اثاثے ہوسکتے ہیں بلکہ اکثریت لیڈروں کے اثاثے یعنی دولت صرف تنخواہ کے حد تک ھوتی ہیں ان لیڈروں میں کوئی کاروباری شخصیت اکثر اوقات نہیں ھوتے اور جو کاروباری لوگ سیاستدان بنتے ہیں تو ان کے دولت اور اثاثے کم ھو جاتے ہیں ۔ جن طاقتور لوگوں نے جن اداروں نے ھمارے ان نالائق سیاستدانوں کو مواقعے دیکر ان کو سائیکل کی حیثیت سے اٹھا کر ارب پتی اور کھرب پتی بنائے ہیں وہ توبہ کرلیں اور عوام کے سامنے سب بولیں ۔ ان کو واضح کردیں کہ یہ گناہ ھم۔سے ھوئے ہیں ۔ پاکستان تو قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے یورپ کا کوئی بھی ملک اتنے بڑے قدرتی وسائل سے مالامال نہیں ہے جتنا یہ غریب ومسکین پاکستان ہے. تو میرے اس پوسٹ کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ ھمارے ان منافع بخش سیاستدانوں کی سیاست سے ہوشیار رہا کریں ۔ یہ اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور منافقت سے کام لیتے ہیں ۔ ان سے ھوشیار رھیں ۔ والسلام انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

12/06/2026

ھمارے صوبے کے نئے نام کے خیبرپختونخواہ یا اس نام سے پہلے صوبہ سرحد یا فرنٹیئر کے نام کے وقتوں سے جتنی بھی صوبائی حکومتیں رہیں ہیں سب کے سب ایک دوسرے سے خالی خولے نعروں@ میں ، نالائقی میں اور آسان طریقوں سے کرپشن مالی اور اخلاقی دونوں میں صرف سبقت لے جانے میں لگے رہیں تھیں اور اب بھی ہیں۔ یہاں کی بیوروکریسی تو اس صوبے کے عوام کیلئے شروع سے بادشاہ یا شہنشاہوں سے کم نہیں رہیں ہیں ۔ یہ ھمارے عوام کی بدقسمتی ہے کہ اوپر سے عوام بھی اپر چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک اور طورخم ، پاڑہ چنار ، میران شاہ اور وانا سے لے کر دریائے سندھ تک اکثریت بلکہ سب کے سب انتہائی جذباتی عوام ہیں جو کہ ہر خالی نعروں پر حاضر جناب رہتے ھیں ۔ کسی بھی لیڈر جن کی پارٹی حکومت میں رہیں تھیں یا اب بھی ہیں یہ نہیں پوچھتے کہ جو سالوں سے ہر سال وقت پربجٹ صوبے کیلئے پیش کرتے رہے ھو وہ تو ھر سال ھزاروں اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں اور منصوبوں پر دکھاتے رہے ھوں وہ عوامی منصوبے کدھر ہیں ؟ دوسرے جو تم ہر حکومت اور ہر پارٹی کے لیڈرز اس صوبے کے عوام کو وفاق پاکستان کے خلاف نعرے دلواتے رہے ھو کہ وفاق پاکستان اس صوبے کو اپنے حصے کے پیسے نہیں دے رہیں ہیں تو وہ تمام پیسے کتنے ارب روپے ہیں جو کہ وفاق نے ادا نہیں کئے ہیں ؟! باوثوق ذرائع کے مطابق وفاق پاکستان ھمارے صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 14.6٪ فی صد ہر سال ادا کرنے کے پابند ہیں ۔ ان ساڑھے چودہ فی صدی کے لحاظ سے 678 ارب روپے ہر سال دینے ہیں جو کہ صرف پندرہ سالوں کے ڈیٹا کے مطابق 8400 ارب روپے ھمارے صوبے کو ادا کر چکے ہیں اور کچھ تقریباً پانچ ھزار ارب روپے رہتے ہیں جو انہوں نے ادا کرنے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ایک باپ اپنے چار بیٹوں میں ایک بیٹے کو یہ عذر پیش کرے کہ تمھارے پاس پہلے ہی اپنے پیسے بھی کافی ہیں اسلئے اس دفعہ کے پیسے اگلے سال دے دوں گا یا یہ کہے کہ 678 ارب میں سے کچھ یہ لے لیں کیونکہ آپ کی اپنی آمدنی بھی ہے اور دوسرا تمھارے پچھلے سالوں والے پیسے بھی ابھی تک خرچ نہیں ھوئے ہیں تو اس دفعہ میں اپنے بڑے گھر کا کام چلا لوں گا ۔۔۔۔ یعنی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 678 ارب روپوں کے علاؤہ بھی تو ان عوامی حکومتوں کے پاس صوبے کے اپنے وسائل سے بھی پیسے آتے رہیں ہیں جو کہ وفاق سے ملنے والے پیسوں کے تین گنا سے بھی زیادہ ھوتے ہیں یعنی ڈیڑھ ھزار ارب روپوں سے زیادہ ھوتے ھیں تو پھر ان پیسوں کا ان حکومتوں نے اب تک کیا کیا ہے ؟؟؟ کیا ھمارا یہ خوبصورت وسائل سے مالامال صوبہ یورپ کے اٹلی ، جرمنی آسٹریا اور سویٹزرلینڈ سے کم تو نہیں ھونا چاھیے تھا حالانکہ یورپ کے یہ ترقیافتہ ممالک تیل گیس کوئلہ کیلئے مشرقی یورپی ممالک اور روس کے محتاج ھوتے ہیں جب کہ ھمارا صوبہ خیبرپختونخواہ خوراکی زرعی پیداوار سمیت تیل لوہا کوئلہ اور گیس کی اتنی پیدوار ھوتی اب بھی ہوسکتی ہے کہ یہ کسی اور صوبے کا محتاج ہی نہیں ھونا چاھیے لیکن حالت یہ ہے کہ ھمیشہ سے ہی چونکہ یہ نالائقی اور ساتھ میں کرپشن والے ارسطو ھمیں پنجاب اور وفاق پاکستان کے خلاف ہی پٹی پڑھاتے رہتے ہیں کہ عوام کی توجہ ان کی نالائقی اور کرپشن کی طرف نہ ھو۔ میں نااھلی نالائقی اور بداخلاقی دروغ گوئی کو بھی سنگین کرپشن سمجھتا ھوں بلکہ دنیا کے ترقیافتہ ممالک میں یہی پیمانہ ہے کہ کرپشن کیا کیا ھوتی ہیں ۔ قصہ المختصر یہ کہ ھم خیبرپختونخواہ کے عوام کو بس اب ان نام نہاد لیڈروں سے کھل کر پوچھنا چاھیے کہ وفاق کے پیسوں کے علاؤہ ڈیڑھ ھزار ارب روپوں پر سالانہ تم لوگوں نے کیا کیا ہے ؟ اور وفاق والے پیسے کدھر چلے جاتے ہیں ؟؟ والسلام انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

29/05/2026

I m not PTI but to be realistic about Billion Trees that about 1.23 billion trees had been planted in the first 3 years and it had changed the climate in those times. later the timber Mafia has started to cut those even younger trees for their nefarious businesses. No other leader of any so-called political party other than only Imran Khan has the sense of The billion Trees plantation and Pure Climate with 100% Oxygen to produce like projects.

26/05/2026

Address

Deans Trade Center
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923120991369

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MIK Engineers and Constructors posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MIK Engineers and Constructors:

Shortcuts

Share