M. Jalil Electric & Hardware

M. Jalil Electric & Hardware Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M. Jalil Electric & Hardware, Electrician, Spiny Road bacha khan chock near pakturk school, Quetta.

25/04/2024
21/08/2022
27/06/2021

میرا نام حسن البناء ہے اور میں قاہرہ میں رہتا ہوں....

تراویح کی رکعتیں بیس ہی ہیں؟‘‘

’’نہیں حضورؐ سے صرف آٹھ ہی ثابت ہیں۔‘‘

’’حضرت عمرؓ کے دور میں صحابہؓ نے بیس رکعتیں جماعت کے ساتھ ادا کی تھیں‘ کیا انہوں نے غلط کیا؟‘‘

’’بیس کی دلیل کمزور ہے‘ ہم نے تو اپنے بزرگوں کو آٹھ پڑھتے ہی دیکھا ہے۔‘‘

“آٹھ کی دلیل کمزور ہے ہم تو بیس ہی پڑھیں گے۔‘‘

قاہرہ سے دور ایک گاوں کی مسجد میں ماہ رمضان کی ایک شب نمازیوں کے درمیان تکرار ہورہی تھی۔

اس سے پہلے یہ کہ تکرار لڑائی تک پہنچتی‘ ایک اجنبی آدمی جو انہیں شکل و صورت سے علمی وجاہت کا حامل نظر آتا تھا اٹھا اور باآواز بلند کہنے لگا۔

’’ایھا الاخوان!”

اجنبی کی آواز کی گھن گرج کچھ ایسی تھی کہ بحث کرنے والے اس کی طرف متوجہ ہونے لگے۔

میں تراویح کے مسئلہ پرآپ کی بحث کافی دیر سے سن رہا ہوں‘

مسجد میں شورو غل کرنا آداب مسجد کے خلاف ہے

جبکہ آپ کی بحث جھگڑے اور لڑائی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

مسئلہ بجائے سلجھنے کے ا لجھتا جارہا ہے۔

اگر آپ میرے دو سوالوں کا جواب دے دیں تو شاید مسئلہ سلجھ جائے۔

کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں گے؟‘‘

’’جی جی آپ فرمائیے مسئلہ سلجھنا چاہیے۔‘‘ کئی آوازیں مختلف اطراف سے بلند ہوئیں۔ ’’
سوال یہ ہے۔‘‘ اجنبی نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ

’’تراویح کا شرعی حکم کیا ہے؟

یعنی یہ فرض ہے سنت موکدہ ہے یا نفل ہے؟‘‘

’’یہ نفل ہے‘ یہ نفل ہے۔‘‘ بیک وقت کئی آوازیں بلند ہوئیں۔

’’بہت خوب! اچھا! اب یہ بتایئے کہ اسلام میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق اور اخوت و محبت کے بارے میں کیا حکم ہے۔

یہ فرض ہے یا نفل؟‘‘

’’فرض ہے۔ فرض ہے۔‘‘ لوگوں نے جواب دیا۔

’’ایھا الاخوان! نفل وہ فعل ہے کہ اگر کسی وقت اسے نہ کیا جائے تو آدمی گناہ گار نہیں ہوتا

جبکہ فرض وہ چیز ہے جس کے ضائع ہونے سے انسان گناہ گار ہوتا ہے۔‘‘

کیا میں نے صحیح کہا؟

’’جی بالکل ٹھیک۔‘‘ مجمع نے پوری توجہ سے جواب دیا۔

’’و اعتصموا بحبل اللہ جمعیاً و لا تفرقوا‘‘

کا ارشاد الٰہی ہمیں اس کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہے اور فرقہ فرقہ ہونے سے منع کرتا ہے کیونکہ جھگڑے اور تنازع سے مسلمانوں میں کم ہمتی پیدا ہوگی اور ان کی ہوا اکھڑ جائے گی۔

’’ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم۔‘‘

تراویح نفل ہے۔اتحاد فرض ہے۔ اب آپ مجھے بتایئے کہ جو شخص ایک نفل کے قیام کے لیے مسلمانوں کے درمیان تفریق اور انتشار پیدا کرے ایسا شخص دین و ملت کا خیر خواہ ہوگا یا دشمن؟

’’دشمن! دشمن‘‘ پور ا مجمع بیک زبان ہو کر بولا۔

’’تمہارا دشمن تمہارا اتحاد چاہتا ہے یا انتشار؟‘‘

’’انتشار۔‘‘

’’اب سوچئے کہ جو شخص حضور اکرمؐ کی امت میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ حضوراکرمؐ کا صحیح پیروکار ہوسکتا ہے؟‘‘

’’حضور اکرمؐ کا پیروکار نہیں‘ وہ دشمن کا ایجنٹ ہی ہوسکتا ہے۔‘‘

ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر جذبات سے مغلوب آواز میں کہا۔ ’’اب جو لوگ ایسا کام کریں تمہارا کام انہیں روکنا اور سمجھانا ہے یا ان کا ساتھ دینا ہے؟‘‘

’’ہم انہیں روکیں گے؟‘‘

’’تمہیں آٹھ اور بیس تراویح کا مسئلہ زیادہ عزیز ہے یا مسلمانوں کا اتحاد؟‘‘

’’اتحاد، اتحاد۔‘‘

’’ایھا الاخوان! اگر تم اتحاد چاہتے ہو تو اس کے لیے تمہیں تھوڑی سی قربانی دینا ہوگی۔

کیا تم یہ قربانی دو گے؟‘‘

’’ہم ہر طرح کی قربانی دیں گے۔‘‘

’’قربانی صرف اتنی ہے کہ تمہیں جس امام یا اپنی تحقیق پر اعتماد و اطمینان ہے‘ اس پر عمل کرو۔

دوسروں کو دلیل سے سمجھاؤ

لیکن دوسرے کا بھی اس کی رائے اور تحقیق پر چلنے کا حق تسلیم کرو
کیونکہ ہر مسلمان اپنے موقف کی سچائی کے ثبوت کے لیے قرآن و سنت سے ہی دلیل پیش کرتا ہے۔

کوئی انجیل یا تورات سے استد لال نہیں کرتا۔

تعبیر و تشریح میں اختلاف ہونا فطری امر ہے۔ فروعی مسائل میں جو جس رائے کو مناسب سمجھے‘ اس پر عمل کرے جبکہ دین کے بنیادی اور متفقہ مسائل کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کیلئے تمام لوگ مل جل کر زور لگائیں۔

تمہارا دشمن انگریز ہو یا یہودی‘ وہ تم پر گولی چلاتے ہوئے یہ فرق نہیں کرے گا کہ فلاں شافعی ہے اور فلاں حنفی۔ فلاں آٹھ تراویح پڑھتا ہے اور فلاں بیس۔

اس کی نظر میں تمام کلمہ گو اس کے دشمن ہیں۔ اس کی کامیابی اس میں ہے کہ تمہیں آپس میں لڑائے رکھا۔ اس لیے آج ضرورت یہ ہے کہ ہم فروعی اختلافات سے بالاتر ہو کر کفر و ظلم کے خلاف متحد ہوجائیں اور خود کو صحیح مسلمان بنائیں۔‘‘

اجنبی کی تقریر ختم ہوئی تو لوگ کھڑے ہو کر انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اسے ملنے لگے۔ گاؤں کا ایک وجیہہ شخص جو اپنے لباس اور چہرے سے ایک متمول اور معزز آدمی دکھائی دیتا تھا‘ آگے بڑھا اور اس نے
اجنبی سے پوچھا: ’’میں آپ کی باتوں سے بہت متاثر ہوا‘ آپ اپنا تعارف کروائیں تو مہربانی ہوگی۔‘‘

’’میرا نام حسن البنا ہے اور میں قاہرہ میں رہتا ہوں!!!

“اقتباس - نیل کا مسافر”

27/06/2021

*‏حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ دنیا بھر میں ایمانداری کے انڈکس کے مطابق پاکستان کا 160 نمبر ہے*

500 یونٹ کو 1500 یونٹ لکهنے والا میٹر ریڈر.

خالص گوشت کے پیسے وصول کرکہ ہڈیاں بهی ساتھ تول دینے والا قصائی.

خالص دودھ کا نعرہ لگا کر پانی پاوڈر کی ملاوٹ کرنے والا دوده فروش۰

بے گناہ کے ایف آئی آر میں دو مزید ہیروئین کی پوڑیاں لکهنے والا انصاف پسند ایس ایچ او.

گهر بیٹهـ کر حاضری لگوا کرحکومت سےتنخواہ لینے والا مستقبل کی نسل کا معمار استاد.

کم ناپ تول کرکہ دوسروں کا حق کم کرکے پورا پیسہ لینے والا دکاندار.

100 روپے کی رشوت لینے والا عام معمولی سا سپاہی.

معمولی سی رقم کے لیے سچ کو جهوٹ اور جهوٹ کو سچ ثابت کرنےوالا وکیل.

دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کردینے والا بچہ.

آفیسر کے لئے رشوت لے جانے والا معمولی سا چپڑاسی.

کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میچ فکسنگ کر کےملک کا نام بدنام کرنےوالا کھلاڑی۰

ساری رات فلمیں دیکھ کر فجر کو الله اکبر سنتے ھی سونے والا نوجوان.

کروڑوں کے بجٹ میں غبن کرکے دس لاکھ کی سڑک بنانے والا ایم پی اے اور ايم اين اے.

لاکهوں غبن کرکے دس ہزار کے ہینڈ پمپ لگانے والا جابر ٹهیکدار.

ہزاروں کا غبن کرکہ چند سو میں ایک نالی پکی کرنے والا ضمیر فروش ممبر صاحب.

غلہ اگانے کے لیے بهاری بهرکم سود پہ قرض دینے والا ظالم چودهری۔

زمین کے حساب کتاب و پیمائش میں کمی بیشی کرکہ اپنے بیٹے کو حرام مال کا مالک بنانے والا پٹورای اور روينيو آفيسر.

دوائوں اور لیبارٹری ٹیسٹ پر کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والے ڈاکٹر۔

اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی.....

ﺟﺐ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ " ﻓﻼﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ۔۔ "! ﺳﺒﮭﯽ ﻗﺼﻮﺭﻭﺍﺭ ﮨﯿﮟ

التماسِ دعا

24/06/2021

ایک خاتون خریداری کرنے مال میں گئی.
کیش کاؤنٹر پر ادائیگی کرنے کے لئے اس نے پرس کھولا تو دکاندار نے خاتون کے پرس میں ٹی وی کا ریموٹ دیکھا دکاندار سے رہا نہیں گیا اس نے پوچھا:
آپ ٹی وی کے ریموٹ ہمیشہ اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں
نہیں، ہمیشہ نہیں،
"لیکن آج میرے شوہر نے خریداری کے لئے میرے ساتھ آنے سے انکار کر دیا ".
تو میں TV میں cartoon چینل لگا کے آئی ہوں.

کہانی ابھی جاری ہے.

دکاندار ہنستے ہوئے بولا میں تمام سامان واپس رکھ لیتا ہوں کیوں کہ آپ کے شوہر نے آپ کا کریڈٹ کارڈ بلاک کر دیا ہے.

سبق : اپنے شوہر کے شوق کا احترام کریں.

کہانی اب بھی جاری ہے.

خاتون تھوڑی ہنسی پھر اپنے پرس سے اپنے شوھر کا کریڈٹ کارڈ نکالا اور تمام Bills کی ادائیگی کر دی

(شوہر نے بیوی کا کارڈ بلاک کر دیا تھا پر اپنا کارڈ نہیں)

سبق - ایک عورت کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہئے.
ایک ہاتھ میں لپسٹک
- دوسرے میں موبائل
- ایک کان پریشر ککر کی سیٹی پر
- دوسرا واٹس اپ کی نوٹیفکیشن پر
- ایک آنکھ ٹی وی پر
- دوسری شوہر کی حرکتوں پر

کون کہتا ہے عورت کی زندگی آسان ہے ...

24/06/2021

اپنی کمزوری کا الزام اردو کے سر نہ ڈالیں…
۔۔۔۔۔
از سلیم فاروقی

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو میں دورِ جدید کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اور جدید سائینسی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ کمی اردو میں نہیں بلکہ آپ کی علمیت، پاکستانیت میں ہے۔ اور زیادتی ایک غیر زبان سے مرعوب ہوجانے کے جذبے کی ہے۔ اردو پر اس سے زیادہ لغو الزام ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ اردو زبان سائینسی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

آپ اردو ترجمہ اپنانے والے بنیں اردو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ کل تک جب لوگ اردو اصطلاحات کو قبول کرتے تھے تو مائکرو اسکوپ کو خورد بین کے نام سے جانا جاتا تھا، ٹیلی اسکوپ دوربین تھی، میگنیٹ کو مقناطیس کے نام سے جانا جاتا تھا، ٹمپریچر کے لیے حرارت کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی، وٹامن کو حیاتین کہا جاتا تھا، فیٹس کا چکنائی کے نام سے ہر ایک جانتا تھا، نشاستہ کہو تو ہر ایک سمجھتا تھا کہ کاربوہائیڈریٹ کی بات ہو رہی ہے۔

ایڈیشن کا اصول جمع کہلاتا تھا، مائنس کو منفی کہا جاتا تھا، ملٹی پلیکیشن ضرب کا اصول تھا اور تقسیم کے لیے ڈویژن کی اصطلاح تھی، اس وقت بچے ٹائمز ٹیبل نہیں بلکہ پہاڑے یاد کیا کرتے تھے۔ ٹرائی اینگل مثلث تھی، اسکوائر کو مربع کہا جاتا تھا، ریکٹینگل کا نام مستطیل تھا، سرکل کو دائرہ سے سمجھا جاتا تھا۔

دل قلب تھا، کڈنی کا نام گردہ تھا، دماغ کو برین کے نام سے جانا جاتا تھا، اسکن کے لیے جلد کی اصطلاح تھی، کینسر کو سرطان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ٹائیفائڈ کا نام تپ محرقہ یا معیادی بخار تھا، ٹیوبر کلوسز تپ دق کے نام سے جانی جاتی تھی۔

بھاپ اسٹیم کو کہتے تھے، انرجی کو قوت کے نام سے جانا جاتا تھا، سولر انرجی شمسی توانائی تھی،انوینشن کو ایجاد کہا جاتا تھا، شاک کے لیے صدمہ اور جھٹکا کی اصطلاح تھی، ووڈ ورک کار چوبی کہلاتا تھا، ٹینری کو دباغت کہا جاتا تھا اور پرنٹنگ پریس چھاپہ خانہ تھا۔

یونیورس کو کائنات کہا جاتا تھا، آپ جس کو ہورائزن سے پہچانتے ہیں اس کو افق کے نام سے جانا جاتا تھا، لینگتھ طول تھا اور وڈتھ عرض تھا، سرجری جراحی تھی، فزکس کو طبعیات، کیمسٹری کو کیمیا، میتھ کو ریاضی، بایولوجی کو حیاتیات، باٹنی کو علم الابدان، مائکرو بایولوجی کو خورد حیاتیات، اکنامکس کو معاشیات کے نام سے جانا جاتا تھا۔

پہلے آپ اردو کے مروج الفاظ کو اپنانے والے بنیں، اردو الفاظ کو بلاوجہ نکال کر انگریزی الفاظ گھسانے سے پرہیز کرنا شروع کیجیے پھر اگر اردو کسی سائینسی اصطلاح کا ترجمہ فراہم نہ کرے تو شکوہ کیجیے گا۔

24/06/2021

مادری
زبان کا پس منظر
و پیش منظر کیا ہے؟؟؟
بقلم: ڈاکٹر ساجد خاکوانی

زبان وہ ذریعہ ہے جس سے ایک انسان اپنے احساسات، خیالات اور اپنے جذبات دوسرے انسان تک منتقل کرتا ہے۔ زبان انسان کے اندر کی نمائندگی کرتی ہے، یہ مافی الضمیر کے اظہار کا ایک وقیع ذریعہ ہے۔ زبان کے ذریعے انسان اپنی حاجات اور اپنی ضروریات کا بھی اظہار کرتا ہے۔ انسانی معاشروں میں بولی جانی زبانیں انسانی باہمی ربط و تعلق کی ایک اہم بنیاد ہوتی ہیں۔ زبان کے ذریعے جہاں ایک انسان اپنی کیفیات کا اظہار کرتا ہے وہاں دوسرا انسان بھی زبان کے ذریعے سے ہی پہلے کے ما فی الضمیر کا دراک کرتا ہے۔ کسی انسان کے پاس یہ طاقت نہیں کہ وہ دوسرے انسان کے اندر جھانک کر اس کا انداہ لگاسکے پس یہ زبان ہی ہے جس کے الفاظ انسانوں کو دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔
انسان کی پہلی زبان ’’رونا‘‘ ہے۔ ماں کے پیٹ سے جنم لے کر وہ سب سے پہلے روتا ہے اور اپنی ضروریات کا رو رو کر اظہار کرتا ہے۔ اسی رونے میں اس کی بھوک پوشیدہ ہوتی ہے، اسی رونے میں اس کی پیاس ہویدا ہوتی ہے، اسی رونے سے وہ اپنی تکلیف اور درد کا احساس دلاتا ہے اور اسی رونے سے ہی وہ سوکر جاگنے کا اعلان کرتا ہے۔ اللہ تعالی کی شان ہے کہ اس بچے کی سب سے ابتدائی زبان اس کی ماں ہی سمجھ پاتی ہے حالانکہ رونے کے کوئی الفاظ نہیں ہوتے، رونے کی کوئی تراکیب نہیں ہوتیں اور رونے کے کوئی اصول و قواعد بھی نہیں ہوتے لیکن پھر بھی یہ ایسی زبان ہے جسے بچے کی ماں آسانی سے سمجھ جاتی ہے۔ بہت تجربہ کار ڈاکٹر اور طبیب بھی بچے کی جس کیفیت کو نہ سمجھ سکے ماں اس کا بخوبی ادراک کرلیتی ہے، حالانکہ ’’ماں‘‘ نے ’’ماں‘‘ بننے کا کوئی کورس نہیں کیا ہوتا بس ماں کے سینے میں ایک دل ہوتا ہے جو بچے کے رونے کی زبان کو ماں کے جذبات میں ترجمہ کرکے اس تکلیف کی وضاحت کردیتا ہے۔ بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ اس کا سب سے پہلا تعلیمی ادارہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ ماں کی گود میں سیکھا ہوا سبق وہ بڑھاپے کی دہلیز پر بھی بھلانا چاہے تو ممکن نہیں ہے۔ ماں کی گود کے اثرات بچے کے ذہن پر ایسے نقش ہوکر پختہ ہوجاتے ہیں جیسے پتھر پر کوئی تحریر کندان کرکے توہمیشہ کے لئے امر کردی جائے۔ یہ اولین تعلیمی ادارہ بچے کو جس طرف بھی موڑنا چاہے بچہ اسی طرف ہی مڑتا چلا جاتا ہے۔ اسی لئے ہمیشہ یاد رکھے جانے والے سبق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انہیں ماں نے گھٹی میں پلایا ہے۔ جیسے امریکی بچوں کو اسامہ کا خوف مائیں اپنے دودھ میں پلاتی ہیں اور اسرائیلی ماؤں نے حماس کا خوف یہودی بچوں کو دودھ میں پلایا ہے وغیرہ۔ مادری زبان بھی اسی طرح کا پڑھایا ہوا سبق ہوتا ہے۔
ماں کی گود میں بچہ جو زبان سیکھتا ہے وہ ماں کی نسبت سے مادری زبان کہلاتی ہے کیونکہ ’’مادر‘‘ فارسی زبان میں ’’ماں‘‘ کو کہتے ہیں۔ زبان سیکھنا ایک طویل مرحلے کا مرہون منت ہوتا ہے۔ کوئی زبان، اس کے قوائد، اس کی لغت اور اس کے دیگر اسرارورموز ایک تھکادینے والا کام ہے لیکن اللہ تعالی کی شان ہے کہ بچہ ماں کی گود میں زبان کے ان سب امور پر یوں دسترس حاصل کرلیتا ہے کہ ساری عمر کے لئے وہ نہ صرف اس زبان کا ماہر بن جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو اس زبان کے مصدر تک کی اہمیت حاصل کرلیتا ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقے جہاں کی زبان خالص ہوتی ہے اور دیگر زبانوں کے ساتھ خلط ملط ہوکر وہ زبان اپنا آپ گم نہیں کر بیٹھتی تو ایسے علاقوں میں تو مادری زبان کا واحد وقیع و مستند ذریعہ ماں کی گود اور روٹیاں پکانے والے چولھے کے گرد بچوں کا جھمگٹا ہوتا ہے جہاں وہ زبان اپنا تاریخی ارتقائی سفر بڑی عمدگی سے طے کر رہی ہوتی ہے۔ مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں اس علاقے کا، اس تہذیب کا، اس ثقافت کا اور انکی روایات کا عظیم اور صدیوں پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتا ہے۔ زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے۔ مادری زبان میں ہی بچے کو ایک نسل اپنا ماضی منتقل کررہی ہوتی ہے اور مادری زبان میں ہی ایک نسل اپنے ثقافتی مستقبل کی تعمیر کررہی ہوتی ہے۔ مادری زبان کے محاورے بچے کے مزاج کا پتہ دیتے ہیں، مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندزاہ لگانے میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں اور مادری زبان کی شاعری جو ماں بچوں کو سلاتے ہوئے لوری میں سناتی ہے یا روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے لیے گنگناتی ہے اور بہت ہی چھوٹی عمر میں کھیل تماشوں میں پڑھے جانے والے ٹوٹے پھوٹے اشعار کسی بھی زبان کی وہ بنیادیں ہیں جن پر اس کا شاندار محل تعمیر ہوتا ہے۔
مادری زبان کے معاملے میں کتنی احتیاط پرتی جاتی ہے اس کا اندازہ ہمیں سیرت النبی ﷺ کے واقعات سے بخوبی میسر آتاہے۔ یہ ایک معاشرتی انسانی حقیقت ہے کہ دیہاتوں کی زبان، دیہاتوں کا لہجہ اور دیہاتوں میں استعمال ہونے والے کسی زبان کے محاورے اور تراکیب شہروں کی نسبت بہت عمدہ اور خالص ہواکرتے ہیں۔عرب قبائل اپنے بچوں کی زبان کی حفاظت کے لیے انہیں بہت ابتدائی عمر میں ہی دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ اس طرح بچوں کی مادری زبان میں ہونے والی پرورش ان کی زبان کے پس منظر میں ان کی روایتی و ثقافتی اقدار کی حفاظت کی ضامن ہوجاتی تھی کیونکہ مادری زبان صرف بولنے تک تو محدود نہیں ہوتی اسکے اثرات انسانی رویوں میں واضع طور پر اثر پزیر رہتے ہیں۔شاید انہیں مقاصد کی خاطر آپ ﷺ کی پرورش بھی بنواسد کے دیہاتی ماحول میں ہوئی۔ اسی طرح دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اسکے اورنظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم اور زوداثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں ۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلدی نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں انہیں ہضم کر لیتے ہیں اور پوچھنے پر بہت روانی سے انہیں دھراکر سنا دیتے ہیں۔ مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ خوشی خوشی تعلیمی ادارے میں بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور چھٹی کے بعد اگلے دن کا بے چینی سے انتظارکرتے ہیں۔ معلم کے لیے بھی بہت آسان ہوتا ہے کہ مادری زبان میں بچوں کو تعلیم دے. اس کے لیے اسے اضافی محنت نہیں کرنی پڑتی اور مہینوں کا کام دنوں یا ہفتوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔
مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج واشاعت میں مدد ملتی ہے، زبان کی آبیاری ہوتی ہے ،نیاخون داخل ہوتا ہے اورپرانا خون جلتارہتاہے جس سے صحت بخش اثرات اس زبان پر مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پزیر رہا ہے. چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہتی ہے، نئے نئے محاورے اور روزمرے متعارف ہوتے ہیں، نیا ادب تخلیق ہوتا ہے، استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ جس طرح قوموں کے درمیان اور تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان جنگ رہتی ہے اسی طرح زبانوں کے درمیان بھی ہمیشہ سے غیراعلانیہ جنگ جاری رہی ہے ،جوجوزبانیں تعلیم کا ذریعہ بن کر انسانی رویوں میں شامل ہوجائیں وہ اس جنگ میں اپنا وجود باقی رکھتی ہیں بصورت دیگر تاریخ کی کتب اورآثارقدیمہ کے کھنڈرات بے شمار زبانوں کی آخری آرامگاہ کے طور پر اس کرہ ارض پر موجود ہیں۔وطن عزیز،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سی مادری زبانیں ہیں جنہیں علاقائی زبانیں بھی کہا جاسکتا ہے ،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم علاقوں میں ان زبانوں کی سرپرستی کی جاتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام،عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کا سب ،دورغلامی کی باقیات،انگریزی زبان میں ہے۔ بعض اوقات تو اس غیرضروری حد تک انگریزی زبان کو استعمال کیا جاتا ہے کہ اگرانگریز بھی ہوتے تو شرماجاتے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم ابھی آزاد نہیں ہوئے؟ دنیا بھر میں جہاں بھی کوئی تعلیم حاصل کرنے جائے تو پہلے اسی وہاں کی قومی زبان سکھائی جاتی ہے اور پھر اسی زبان میں اسے تعلیم دی جاتی ہے۔ جبکہ پاکستان کا معاملہ بالکل الٹ ہے۔

چین کے انقلابی راہنما ماؤزے تنگ بہت اچھی انگریزی جانتے تھے لیکن عالمی انگریزراہنماؤں سے بھی جب ملتے تو درمیان میں اپنی زبان کا مترجم بٹھاتے، وہ سب سمجھتے تھے کہ انگریزکیا کہہ رہا ہے لیکن مترجم کے ترجمے کے بعد جواب دیتے۔ انگریزکوئی لطیفہ سناتا تو سمجھ چکنے کے باوجود مترجم کے ترجمہ کرنے پر ہی ہنستے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکیوں نے جب جاپان فتح کیا تو شاہ جاپان نے ان سے ایک ہی بات کہی کہ میری قوم سے میری زبان مت چھیننا۔ نشے کی ماری ہوئی چینی قوم اور جنگ میں تباہ حال جاپانی قوم اپنی زبان کی مضبوط بنیادوں کے باعث آج دنیا میں صف اول میں شمار ہوتی ہیں جبکہ انگریز کی تیارکردہ غلامانہ مصنوعی سیکولرقیادت کے مقروض لہجوں نے آج پاکستان کو ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رکھا ہے۔ قوم پوری شدت سے چاہتی ہے کہ مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں منعقد کیے جائیں، ابتدائی تعلیم مادری و علاقائی زبان میں اور ثانوی و اعلی تعلیم قومی زبان میں دی جائے۔ مادری وعلاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعرا ومحققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیاجائے اور انکے لیے بھی سرکاری خزانے کے دروازے کھولے جائیں، دیگرعالمی زبانوں کی کتب کو تیزی سے قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منواسکے۔ لیکن وطن عزیزکا مقتدر سیکولر طبقہ جو ذہنی غلامی کی بدترین مثال ہے قومی ترقی کی راہ میں بدیسی و غلامانہ زبان کی بیساکھیوں کے باعث سدراہ ہے۔ یہ طبقہ اپنے سیکولر خیالات کو انگریزی تہذیب کے مکروہ لبادے میں ’’جدیدیت‘‘کی ملمع کاری کو قوم میں نفوذ کرنا چاہتا ہے لیکن اب اس طبقے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، انشاء اﷲ تعالی۔

کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ اقوام عالم کوان کی مادری یاقومی زبان سے محروم کردیاجائے۔وطن عزیزمیں ایک وقت کے اندر کئی کئی زبانیں اپنا وجود رکھتی ہیں جو صریحاََنسل نوپرناروابوجھ ہیں۔ایک بچہ مادری زبان سیکھتا ہے، اسی میں سوچتا ہے، اسی میں خواب بھی دیکھتا ہے، اسی مادری زبان میں دل اور جذبات کو بھی دخیل کرتا ہے۔ جب تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے تو اسے مسجد بھیج دیا جاتا ہے، یہاں اسے مذہبی زبان، عربی، سے واسطہ پڑتا ہے۔ اسے عربی کے حروف تہجی سکھائے جائے ہیں، ان کا تلفظ ازبر کرایا جاتا ہے، عربی قواعد لسانیات سے جزوی واقفیت کروائی جاتی ہے جس کے باعث وہ قرآن مجید کی قرات و تلاوت اور اپنی مذہبی رسوم و عبادات کی بجاآوری کے قابل ہوجاتا ہے۔ اسی دوران اسے گلی محلے کی دکانوں پر ’’چیز‘‘ لیتے ہوئے یا راستہ پوچھتے بتاتے ہوئے یا کسی انکل سے یا مسجد کے مولانا صاحب سے یا کسی باجی یا آنٹی سے بات کرنی ہو یا گھرمیں آئے مہمانوں سے کوئی سوال جواب یا تعارف کا مرحلہ درپیش ہوتو اسے اردو کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ یہ اردو زبان پورے جنوبی ایشیاء میں کم وبیش سو فیصد لوگ کسی نہ کسی درجے میں سمجھتے، بولتے اور لکھتے ہیں اور رابطہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پھرجب اسے کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جاتا ہے تو یہ لسانی ستم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جہاں سات سمندرپارکی زبان آکاس بیل کی مانند ایک ناسور بن کر اس سے تاحیات چمٹ جاتی ہے۔ اسے انگریزی زبان کا بے مقصد بوجھ اپنی تعلیمی کمر پر لادنا ہوتا ہے، بدیسی قوم کی طرح اسی کے لہجے میں اپنامنہ ٹیڑھا کر کرکے اس کی زبان بولنی پڑتی ہے۔ جو بچہ اس غلامانہ زبان کو اپنااوڑھنا بچھونا بنالے، اسی میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا مصنوعی رنگ ڈھنگ اختیارکرلے، اسی زبان کے نشیب و فراز میں اپنے لہجے کو ڈھال لے تو وہ طالب علم اپنے اساتذہ کا چہیتا اور اس تعلیمی ادارے کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے، وہ اپنے تعلیمی درجے تعلیم کے اعلی مقامات اور انعامات کا مستحق بھی گردانا جاتا ہے اور اگلے تعلیمی مرحلوں میں بھی اسے ترجیحی تفوق حاصل رہتا ہے۔

دیگرزبانوں میں اچھے مقامات کا حامل کسی زبان کا ماہر تو شاید ہوجائے لیکن اس زبان میں پڑھائے جانے والا مواد کس حد تک اس کے ذہن نشین ہوا ہے ؟؟؟اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اس کی وجہ ایک سادہ سا نفسیاتی جائزہ ہے کہ بچے کی بچگانہ اور محدود ذہنی صلاحیت کو اگر صرف مواد کے سمجھنے پر لگایا جائے تب اس میں کامیابی کے کتنے فیصد امکانات ہوں گے اور جب اس کی ذہنی صلاحیت پر پہلے غیرزبان سمجھنے کا اضافی وغیرفطری بوجھ اور پھر مواد کے سمجھنے کا کام اس کے ذمہ لگایا جائے تب اس کی کارکردگی کتنے فیصد ہوپائے گی۔ اس تجزیے کے نتائج اظہرمن الشمس ہیں جنہیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ کوئی غیرزبان سیکھنے میں آدھی صدی بھی صرف کردے تب بھی اس زبان کو بطورمادری زبان کے بولنے والوں کے برابرتو دورکی بات ہے اس کے عشرعشیر جتنا بھی کچھ مقام حاصل نہیں کرپائے گا۔ انسان کی اصل زبان وہی ہے جو اس کی مادری زبان ہے۔ تاہم کوئی بھی قوم اپنی نسل کو غیرزبان سے نجات دلاکر اپنی مادری زبان میں تعلیم کے ذریعے علوم و معارف میں بہت اعلی مقام یقیناََ حاصل کرسکتی ہے۔ کیونکہ تخلیقیت کا تعلق ہمیشہ سے مادری زبان سے رہتا ہے۔

مسلمانوں نے اس کرہ ارض پر کم و بیش ایک ہزارسال حکومت کی لیکن کسی قوم کو اس کی مادری زبان یا مقامی تہذیب سے محروم نہیں کیا۔سیکولر گورا سامراج تین سوسال تک انسانوں کی گردنوں پرمسلط رہا اور ہر جگہ اس نے مقامی تہذیب کو تاراج کیا. اپنا تمدن زبردستی مسلط کیا اور علاقائی و مادری زبان چھین کر قوموں کو گونگا بہرا بنانے کا عالمی انسانی مجرم بن گیا۔ اسلام نے فرد کو کسی حد تک غلام رکھنے کی مشروط و محدود اجازت دی تھی لیکن اس سیکولراور لبرل استبداد نے پوری کی پوری قوموں کو اپنا غلام بنایا اور تعلیمی غلامی، تہذیبی غلامی، لسانی غلامی، دفاعی غلامی اور ذہنی غلامی سمیت نہ معلوم کتنی غلامیوں کے طوق ان کی گردنوں میں ڈالے اور اپنی زبان کی ہتھکڑیاں انہیں پہناکر مغربی جمہوری نظام کی بیڑیوں کے ذریعے ان اقوام کی رفتارکار کو انتہائی سست بنادیا تاکہ وہ کبھی بھی ہمارے سے آگے قدم نہ بڑھاکر ہمیشہ ہمارے دست نگر رہیں۔ مادری زبان کا یہ عالمی دن ہر قوم کو یہ احساس دلاتا ہے کہ عالمی گاؤں ’’گلوبل ویلج‘‘ کے نام پر لسانی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کو انسانی حقوق کی ایسی سنگین خلاف ورزیوں سے کلیتاََ بچایا جائے۔ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ عالمی طاغوت کا آلہ کاربننے کی بجائے کل عصری علوم کو دنیا بھر کی مادری زبانوں میں منتقل کرنے کا عالمی انسانی فریضہ سرانجام دے تاکہ کل انسانیت کسی ایک زبان کی اجارہ داری سے نکل کر اس کرہ ارض کو آفاقی و آسمانی تعلیمات کے مطابق امن و آشتی اور پیارومحبت کی آماج گاہ بناسکے۔

12/01/2021

*پینسل گم ہونے کے دو خوبصورت واقعات*

*پہلا:*
ایک ڈاکو کا کہنا ہے کہ:
میں چوتھی کلاس میں تھا ایک دن جب میں مدرسے سے گھر واپس آیا میری پینسل گم ہوگٸی میں نے جب اپنی والدہ کو بتایا تو انہوں نے مجھے سزا کے طور پر بہت مارا !!!
اور مجھے بہت زیادہ گالیاں دیں اور مجھےبے عقل کہا اور یہ کہ مجھ میں زمہ داری کا احساس نہیں اور بھی اس کے علاوہ جو بھی کہہ سکتی تھیں وہ کہا
اپنی والدہ کے اتنی سختی کےنتیجے میں میں نے خود سے پکا ارادہ کیا کہ اب اپنی والدہ کے پاس خالی ہاتھ نہ جاٶں گا اس کے لیے میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی کلاس کے ساتھیوں کے قلم چرا لوں گا
آنے والے دن میں میں نے منصوبہ بنایا اور میں نے ایک یا دو قلم چرانے پر اکتفاء نہ کیا بلکہ اپنی کلاس کے تمام لوگوں کے قلم چرا لیے کام کے شروع میں میں ڈرتے ڈرتے چوری کرتا تھا پھر آہستہ آہستہ مجھے حوصلہ ملا اور میرے دل میں ڈر کی کوئی جگہ نہ رہی ایک ماہ گزرنے کےبعد مجھے اس کام میں وہ لذت نہ رہی جو شروع میں تھی پھر میں نے ساتھ والی کلاسز میں جانے کا ارادہ کیا ایک کلاس سے دوسری کلاس تک جاتے جاتے آخر کار سکول کے پرنسپل کے کمرے تک چلا گیا
یہ سال عملی تجربہ لینے کا سال تھا اس میں میں نے نظری اور عملی دونوں طرح سے چوری کرنے کا سیکھا پھر اس کے بعد میں پیشہ ور ڈاکو بن گیا

*دوسرا:*

ایک والدہ کا کہنا ہے:
جب میرا بیٹا دوسری کلاس میں تھا وہ جب مدرسے سے واپس آیا تو اپنی پنسل گم کر کے آیا
میں نے اس سے پوچھا پھر آپ نے کس چیز کے ساتھ لکھا ؟
اس نے کہا: میں نے اپنے کلاس فیلو سے پینسل مستعار لی ,میں نے اس سے کہا : آپ نے اچھا کام کیا لیکن آپ کے کلاس فیلو نے کیا کیا جب اس نے آپ کو لکھنے کے لیے اپنی پینسل دے دی ؟
کیا اس نے آپ سے کچھ کھانا لیا یا پینے کی چیز یا کوئی مال ؟

اس نے کہا نہیں اس نے ایسا کچھ نہیں کیا
والدہ نے اس سے کہا: اے میرے بچے اس نے بہت ساری نیکیوں کا سودا کیا وہ آپ سے بہتر کیسے ہوا؟
کیوں نہ آپ بھی ایسی نیکیاں کمایٸں؟

اس نے کہا :یہ کیسے ہوگا؟

والدہ نے کہا: عنقریب ہم آپ کے لیے دو قلم خریدیں گے
ایک قلم سے آپ لکھیں گے اور دوسرے قلم کو ہم *قلم الحسنات* کا نام دیں گے!!!
اور ایسا ہم اس لیےکریں گے کہ اگر کوئی اپنا قلم لانا بھول جائے یا جس سے گم ہوجائے تو آپ اس کو یہ دے دیں گے اور جب ان کا کام مکمل ہوجائے گا تو آپ اس کو ان سے واپس لے لیں
اس سوچ سے میرا بیٹا بہت خوش ہوا اور اس پر عمل کرنے سے اس کی خوشبختی میں بہت اضافہ ہوا اس نے اپنےبیگ میں ایک قلم اپنے لکھنے کے لیے رکھا اور چھ قلم *قلم الحسنات*!!
اس واقعہ میں سب سے عجیب بات یہ تھی کہ میرے بیٹے کو مدرسے جانا سخت ناپسند تھا اور وہ پڑھنے میں بھی کمزور تھا
پھر جب اس نے اس سوچ پر تجربہ کیا تواسے مدرسے سے محبت ہوگٸی
اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ کلاس کا تارہ بن گیا تو سب اساتذہ اسے پہچاننے لگے اور سارے کلاس فیلوز مشکل میں اس کی تعریف کرتے
جس کسی کا قلم گم جاتا وہ اس سے قلم لیتا اور استادکوجب پتہ چلتا کہ کوئی اس لیے نہیں لکھ رہا کہ اس کے پاس قلم نہیں تو استاد کہتے کہاں ہے احتیاطی قلم رکھنے والا
نتیجتا میرے بیٹے کو مدرسے سے محبت ہوگٸی وہ آہستہ آہستہ پڑھائی میں بھی اچھا ہوگیا
اور خوبصورت بات یہ ہے کہ آج وہ اپنی تعلیم مکمل کرچکا ہے اس نے شادی کی اسے اللہ نے اولاد دی لیکن وہ آج بھی *قلم الحسنات* نہیں بھولا
اور آج وہ ہمارے شہر کے سب سے بڑے ویلفیٸر کا انچارج ہے

بہت اعلیٰ سبق ہے ماؤں کیلئے،
بچوں کو اچھی سوچ دینا انکے نہ صرف دنیاوی اعمال اور کردار سنوارتا ہے بلکہ آخرت بھی۔
جبکہ منفی سوچ اس کے برعکس اسکے اعمال کے ساتھ ساتھ آخرت بھی لے ڈوبتی ہے۔

اسی لیے قوموں کے کردار اور اخلاق کو سنوارنے میں ماؤں کا بہت بڑا کردار ہے۔
نوعمری کا زمانہ کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ زندگی کے بعض تجربات یا تو بچے کا رخ راہ راست کی طرف کر دیتے ہیں ، دوسری صورت میں وہ گمراہی کے راستوں پر چل پڑتا ہے ۔

کھانا بناتے ہوۓ زیادہ بنا لیں کہ کسی اور کو بھی بھجوا دیں گے ۔
کپڑے لیتے ہوۓ کبھی ایک جوڑا اضافی لے لیں کسی اور کو دے دیں گے
سودا سبزی پھل آٹا خریدتے وقت کچھ چیزیں اایسی لے لیں جو کسی اور کو بھی دے دیں گے ۔
باہر جاتے ہوۓ کھلے پیسے ساتھ رکھیں کہ کسی کو دے دیں گے ۔
اپنے بچوں کی فیس کے ساتھ
کسی ایک اور کی فیس بھی لگا لیں۔
بعض دفعہ اپنا دل اداس بھی ہو تو دوسروں سے ملتے ہوۓ مسکرا لیں کہ مسکراہٹ ہی کسی اور کے کام آ جاۓ گی۔
اپنے لیۓ سادگی کیسے اپنائیں ؟
اس میں بھی کسی اور کو کچھ نہ کچھ دینے کا نسخہ ہی کار گر ہے ۔
جب کسی اور کو دینے کی فکر غالب آ جاۓ تو خود پہ لگانے کا شوق کم ہو جاتا ہے ۔
جب ذوق بدلتا ہے تو اس کے مطابق عمل بدل جاتا ہے ۔
جیسا ذوق ہو گا ویسی ہی زندگی گزرے گی ۔
🌿🌷copied..

09/01/2021



" ابن انشاء‘‘ کا کلام ’’انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو" جس کے لکھنے کے ایک ماہ بعد وہ وفات پاگئے تھے۔
اس کے بعد ’’قتیل شفائی‘‘ نے غزل لکھی " یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی" دونوں غزلیں اپنے اعتبار سے اردو ادب ميں ایک اچھا اضافہ ہيں۔
ہاں، یہ اور بات ہے کہ ’’قتیل صاحب‘‘ کی غزل زیادہ افسردہ کر جاتی ہے۔

’’ابنِ انشاء‘‘

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا

اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

شب بيتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجير پڑی دروازے میں
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کيا

پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

اس روز جو اُن کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا

اس حُسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا

اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے مَن، اک شُعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا

جب شہر کےلوگ نہ رستہ ديں،کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

’’قتیل شفائی‘‘

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی

اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی

نہیں صرف *قتیل* کی بات یہاں، کہیں ساحر ہے کہیں عالی ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی۔

Address

Spiny Road Bacha Khan Chock Near Pakturk School
Quetta

Telephone

+923463313539

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M. Jalil Electric & Hardware posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category