Sardar Anees Khalil

Sardar Anees Khalil Engineer/CEO AAK Engineering & Const/Political Activist

شیخ الاسلام پروفیسر سینٹر ساجد میر کی رحلت کوا ایک سالتحریر سردار انیس خلیل حضرت امیرِ محترم، شیخ الاسلام، پروفیسر  ساجد...
03/05/2026

شیخ الاسلام پروفیسر سینٹر ساجد میر کی رحلت کوا ایک سال
تحریر سردار انیس خلیل
حضرت امیرِ محترم، شیخ الاسلام، پروفیسر ساجد میر کی رحلت کو ایک سال بیت چکا ہے، مگر ان کی جدائی کا احساس آج بھی اسی شدت سے دلوں میں موجود ہے۔ بعض شخصیات محض ایک فرد نہیں ہوتیں بلکہ ایک ادارہ، ایک فکر اور ایک عہد ہوتی ہیں۔ پروفیسر ساجد میر بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جنہوں نے دینی، سیاسی اور پارلیمانی میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ان کی زندگی علم، حکمت، استقامت اور اعتدال کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ایک بلند پایہ عالم دین تھے، ایک مدبر سیاست دان تھے، ایک زیرک پارلیمنٹیرین تھے اور ایک ایسی قائدانہ شخصیت تھے جنہوں نے ہر سطح پر اپنے کردار سے گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، لہجے میں شائستگی، اور فیصلوں میں دوراندیشی نمایاں ہوتی تھی۔

پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی محض ایک نشست کی تکمیل نہیں تھی بلکہ ایک فکری اور نظریاتی قوت کی نمائندگی تھی۔ وہ قومی معاملات پر نہایت بصیرت کے ساتھ اظہار خیال کرتے، دلیل سے بات کرتے اور اختلاف کو بھی تہذیب کے دائرے میں رکھتے۔ ان کی آواز ایوان میں وقار، سنجیدگی اور متانت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ آج پارلیمنٹ میں ان جیسی متوازن، اصول پسند اور معاملہ فہم شخصیت کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

جماعتی سطح پر ان کی قیادت ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی تھی۔ انہوں نے تنظیم کو استحکام بخشا، کارکنان کی فکری تربیت کی اور ہر مشکل مرحلے پر اپنی حکمت سے جماعت کی رہنمائی فرمائی۔ ان کی شخصیت کارکنوں کے لیے حوصلے، اعتماد اور وابستگی کا سرچشمہ تھی۔ ان کے بعد یہ خلا واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔

سیاسی میدان میں بھی وہ ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ملکی سیاست میں ان کا کردار اعتدال، دیانت اور نظریاتی وابستگی کا آئینہ دار تھا۔ وہ اختلافی ماحول میں بھی مکالمے کا دروازہ کھلا رکھتے اور قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم جانتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا نعم البدل فوری طور پر نظر نہ آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ بڑے درخت گر جائیں تو ان کا سایہ دیر تک محسوس ہوتا ہے۔ پروفیسر ساجد میر کی علمی، سیاسی اور تنظیمی خدمات ایک ایسا سرمایہ ہیں جس سے آنے والی نسلیں رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔

آج ان کی رحلت کو ایک سال ہو گیا پر دل دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی، اور ان کی خدمات تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

11/12/2025

لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں

The Dream Academy Abbottabad hereby extends its formal congratulations to all students for attaining distinguished resul...
11/12/2025

The Dream Academy Abbottabad hereby extends its formal congratulations to all students for attaining distinguished results in the annual DIT examinations.
The Academy acknowledges and appreciates the diligent efforts, academic commitment, and exemplary conduct demonstrated by its students, which have collectively contributed to the continued prestige and reputation of the institution.
🌟 Special Commendations Are Awarded To:
🎉 Mr. Fahad Shaukat – For securing 824 marks in DIT-II and exhibiting outstanding academic performance.
🎉 Ms. Tayyaba Rehman – For obtaining 426 marks in DIT-I and demonstrating commendable dedication and capability.
These achievements affirm that consistent effort, discipline, and perseverance are the essential elements of success.
On behalf of the Managing Director of The Dream Academy, best wishes and prayers are extended to all students for their ongoing academic and professional advancement. It is the Academy’s expectation that students shall continue to progress with the same level of commitment and integrity.
The Dream Academy acknowledges your efforts and expresses its pride in your accomplishments.
Keep striving, keep progressing.

لیڈی ڈاکٹر صاحبہ کا قتل ہمارے معاشرے کی پستی کی ایک مثال ہے جہاں قانون کا خوف نہ ہو اور لالچ انتہا پہ ہو وہاں ایسے سانحے...
08/12/2025

لیڈی ڈاکٹر صاحبہ کا قتل ہمارے معاشرے کی پستی کی ایک مثال ہے جہاں قانون کا خوف نہ ہو اور لالچ انتہا پہ ہو وہاں ایسے سانحے ہوتے رہیں گے اور متاثرین زندگی بھر عدالتوں میں ججوں اور وکیلوں کے ہاتھوں خوار ہوتے رہیں گے

29/11/2025

جانے زمانے ہم سے کیا چاہتا ہے
゚viralシalシ

کلاؤڈ برسٹ سے متاثر اظلاع بٹگرام مانسہرہ کے متاثرین کی ہر قسم کی مدد کی جائے گئ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہزارہ ڈویژن ،
15/08/2025

کلاؤڈ برسٹ سے متاثر اظلاع بٹگرام مانسہرہ کے متاثرین کی ہر قسم کی مدد کی جائے گئ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہزارہ ڈویژن ،

AnnouncementWe are proud to share that Anees ur Rehman has been honored with a prestigious National Award in recognition...
31/12/2024

Announcement

We are proud to share that Anees ur Rehman has been honored with a prestigious National Award in recognition of his outstanding contributions to social services and community welfare.

The award was presented by the Honorable Member Provincial Assembly, Mr. Rajab Ali Abbassi, at a distinguished ceremony held in Islamabad.

This achievement reflects Anees ur Rehman's tireless efforts and dedication to serving society. Congratulations on this well-deserved honor!



19/06/2024

ماشاءاللہ۔ عیدالاضحٰی کے موقع پر بہترین کارکردگی پر ٹی ایم۔او ایبٹ آباد شکیل حیات اور عملہ صفائی ٹی ایم اے ایبٹ آباد کے آفسران اور ورکرز کو میرا سلام
جنہوں نے عید کے پر مسرت موقع پر عوام کو صاف ستھرے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا
WelldoneTMA.Abbottabad🌹
Tehsil Municipal Administration Abbottabad

11/03/2024

خلاصہ قرآن
​پہلا پارہ
اس پارے میں پانچ باتیں ہیں:
1۔اقسام انسان
2۔اعجاز قرآن
3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام
4۔احوال بنی اسرائیل
5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام

1۔اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔
مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں:
۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ
منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔
اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔

2۔اعجاز قرآن:
جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔

3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام :
اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا، شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا، جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔

4۔احوال بنی اسرئیل:
ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔

5۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔

10/03/2024

Unveiling Flaws in Forest Management: A Call for Ecologically Sound Practices

The juxtaposition of Austria's exemplary forest management, covering 46% of its 84,000 sq km area, against Khyber Pakhtunkhwa's (KP) 26% forest cover in its 102,000 sq km raises pertinent questions. Austria attributes its success to ecological principles, prompting a critical examination of KP's approach.

In KP, the emphasis on exotic, fast-growing species like Eucalyptus, Robinia, Ailanthus, and Hybrid Poplars raises concerns. Are these choices driven by genuine ecological principles or merely a means to meet targets and generate revenue? The absence of Chir, a species well-suited in subtropical chir zone has introduced to the region's moist temperate climate, prompts further inquiry.

A disconcerting trend emerges when financial objectives take precedence over the mandated duties of the department. The lack of tending or cultural operations further underscores a deviation from sustainable forest management towards a focus on revenue generation through indiscriminate tree cutting.

Ecosystem ignorance becomes apparent when fauna is excluded from the conversation. Understanding that it's the association and interaction of flora and fauna that provide ecosystem services is pivotal. KP's singular emphasis on provisioning services suggests a limited understanding of the comprehensive role ecosystems play.

Fauna's role in the ecosystem, particularly in prey and predator relationships, is overlooked. Some birds and animals crucially contribute to seed dormancy break during regeneration, a fact often dismissed in conventional forest management discussions. Reforestation and afforestation in areas like the temperate zone appear illogical, given optimum natural conditions, marking a wasteful misallocation of resources.

The fixation on revenue generation, exemplified by highlighting examples from other countries, lacks logical and technical depth. A shift from sustainable forest management to a focus on convincing bureaucrats and politicians to generate funds through tree felling is not a viable or ethical solution.

It is imperative to redirect forest management policies in KP towards genuine ecological principles. This necessitates a focus on sustainable ecosystem management, incorporating diverse flora and fauna, and recognizing the multifaceted services ecosystems provide. A departure from revenue-centric approaches is essential for the long-term health and resilience of KP's forests.

The need of the hour is a comprehensive, ecologically sound strategy that ensures the conservation of KP's natural resources while meeting the legitimate needs of the present and future generations. Only through such an approach can we truly achieve sustainable forest management.
جنگلات کے نظم و نسق میں خامیوں کی پردہ پوشی: ماحولیاتی طور پر درست طریقوں کے لیے ایک کال

آسٹریا کے مثالی جنگلات کے انتظام کا جوڑ، اس کے 84,000 مربع کلومیٹر کے 46% رقبے پر محیط ہے، جب کہ خیبر پختونخواہ (KP) کے 102,000 مربع کلومیٹر میں 26% جنگلات کا احاطہ کرتا ہے، متعلقہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آسٹریا اپنی کامیابی کا سہرا ماحولیاتی اصولوں کو دیتا ہے، جس سے KP کے نقطہ نظر کا ایک تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے۔

کے پی میں، غیر ملکی، تیزی سے بڑھنے والی انواع جیسے یوکلپٹس، روبینیا، آئلانتھس، اور ہائبرڈ چنار پر زور تشویش پیدا کرتا ہے۔ کیا یہ انتخاب حقیقی ماحولیاتی اصولوں کے ذریعے کارفرما ہیں یا محض اہداف کو پورا کرنے اور آمدنی پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں؟ چیر کی غیر موجودگی، ایک ایسی نوع جو ذیلی اشنکٹبندیی چیر زون میں اچھی طرح سے موزوں ہے، اس خطے کی نم معتدل آب و ہوا سے متعارف ہوئی ہے، مزید تفتیش کا اشارہ دیتی ہے۔

ایک پریشان کن رجحان اس وقت ابھرتا ہے جب مالی مقاصد محکمے کے لازمی فرائض پر فوقیت حاصل کرتے ہیں۔ نگہداشت یا ثقافتی کارروائیوں کی کمی اندھا دھند درختوں کی کٹائی کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی طرف پائیدار جنگلاتی انتظام سے انحراف کو مزید واضح کرتی ہے۔

ماحولیاتی نظام کی جہالت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب حیوانات کو گفتگو سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ یہ نباتات اور حیوانات کی ایسوسی ایشن اور تعامل ہے جو ماحولیاتی نظام کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ خدمات کی فراہمی پر KP کا واحد زور ماحولیاتی نظام کے جامع کردار کی محدود تفہیم کی تجویز کرتا ہے۔

ماحولیاتی نظام میں حیوانات کے کردار کو، خاص طور پر شکار اور شکاری تعلقات میں، نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کچھ پرندے اور جانور نسل نو کے دوران بیجوں کے غیر فعال ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ حقیقت اکثر جنگلات کے انتظام کے روایتی مباحثوں میں مسترد کردی جاتی ہے۔ معتدل زون جیسے علاقوں میں جنگلات کی کٹائی اور جنگلات غیر منطقی معلوم ہوتے ہیں، بہترین قدرتی حالات کے پیش نظر، وسائل کی فضول غلط تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ریونیو جنریشن پر فکسیشن، جس کی مثال دوسرے ممالک کی مثالوں کو اجاگر کرتے ہوئے دی گئی ہے، اس میں منطقی اور تکنیکی گہرائی کا فقدان ہے۔ جنگلات کے پائیدار انتظام سے بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کو درختوں کی کٹائی کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے پر راضی کرنے پر توجہ مرکوز کرنا کوئی قابل عمل یا اخلاقی حل نہیں ہے۔

کے پی میں جنگلات کے انتظام کی پالیسیوں کو حقیقی ماحولیاتی اصولوں کی طرف موڑنا ناگزیر ہے۔ یہ پائیدار ماحولیاتی نظام کے انتظام پر توجہ مرکوز کرنے، متنوع نباتات اور حیوانات کو شامل کرنے، اور کثیر جہتی خدمات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی نظام فراہم کرتے ہیں۔ کے پی کے جنگلات کی طویل مدتی صحت اور لچک کے لیے آمدنی پر مبنی نقطہ نظر سے الگ ہونا ضروری ہے۔

وقت کی ضرورت ایک جامع، ماحولیاتی طور پر درست حکمت عملی ہے جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کی جائز ضروریات کو پورا کرتے ہوئے کے پی کے قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ صرف اس طرح کے نقطہ نظر کے ذریعے ہی ہم صحیح معنوں میں پائیدار جنگلات کے انتظام کو حاصل کر سکتے ہیں۔

Address

Abbottabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Anees Khalil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share