23/03/2026
تحریک انصاف کے ہاتھوں
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کا جنازہ
تحریر:
مولانا محمد رحیم ح_قانی
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نمائندوں کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی، چار سال مکمل کر گئے۔ بے چارے خالی ہاتھ آئے تھے اور خالی ہاتھ رخصت ہوئے۔ یہ ہوا نچلی سطح پر انصافیوں کے ہاتھوں انصاف کے قتل پر بسم اللہ کا آغاز۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت روزِ اول سے بلدیاتی نظام کی مخالف تھی، تاہم 2021 کے بلدیاتی انتخابات انہیں عدالتی فیصلے کی تعمیل میں کروانے پڑے۔
صوبے کے عوام کو پی ٹی آئی حکومت کا فراڈ اس وقت عملی طور پر دیکھنے کو ملا جب اپنا صوبائی اسمبلی سے پاس کردہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل، جو اس مقصد کے لیے انہوں نے پاس کرایا تھا تاکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جا سکیں، تاہم عقل سے عاری اور یوٹرن کے ماہر یوتھی اور یوتھنی ممبرانِ اسمبلی نے ممبرانِ لوکل گورنمنٹ کے اختیارات میں کمی کی خاطر گورنمنٹ ترمیمی بل کی منظوری کے ساتھ اپنے سابقہ ترمیمی بل کو خود اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔
اس بل کی منظوری کے خلاف جے یو آئی کے ممبران کے ساتھ خود ان کے منتخب نمائندے سڑکوں پر نکل آئے، اور یوں حکومت کے خلاف ایک ہمہ گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر احتجاجات کے علاوہ صوبائی سطح پر ریکارڈ 7 احتجاج کیے گئے، جن میں 500 بلدیاتی چیئرمینوں پر مشتمل سب سے بڑا احتجاج پشاور میں کیا گیا۔
درحقیقت جمہوریت کی بنیاد صرف پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت کی اصل روح بلدیاتی اداروں میں ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر مہذب ریاست میں عوام کے مسائل انہی مقامی اداروں کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں، مگر خیبر پختونخوا میں گزشتہ چار سالوں کے دوران بلدیاتی نظام کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ خیبر پختونخوا کی جمہوری تاریخ میں سیاہ ترین باب کے عنوان سے یاد کیا جائے گا۔
اس کے پس منظر پر نظر ڈالیں گے تو انصافی حکومت کا عدم برداشت، غیر سیاسی اور غیر جمہوری چہرہ مزید کھل کر عیاں ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ 2021 اور 2022 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جب جمعیت علماء اسلام کے امیدوار زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے اور حکمران جماعت کو جمعیت علماء اسلام کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا اور سرکاری وسائل بے دریغ خرچ کرنے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پی ٹی آئی حکومت نے پورے چار سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کی مد میں ایک روپیہ تک ریلیز نہیں کیا۔
اس تناظر میں:
1۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اگر صوبائی حکومت اختیارات منتخب نمائندوں کو نہیں دینا چاہتی تھی تو غریب عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ 18 ارب روپے بلدیاتی انتخابات پر کیوں ضائع کر دیے گئے؟
2۔ کیا اس ملک کے غریب عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف احتساب کا کوئی قانون نہیں؟
3۔ کیا کامیاب بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز ریلیز کرنا ان کا قانونی حق نہیں تھا؟
4۔کیا پاکستان میں آئین اور قانون کے ضابطے صرف سفید پوش، ایماندار، دیانتدار اور محب وطن شہریوں کے لیے ہیں، یا ان قوانین کا اطلاق قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والوں پر بھی ہوتا ہے؟
5۔ کیا اس ملک میں محکمہ احتساب اور عدالتیں صرف "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کے تابع ہیں، یا اس ملک کی تعمیر و ترقی میں خون پسینہ ایک کرنے والے غریب شہریوں کی داد رسی کے لیے بھی اس میں کوئی گنجائش موجود ہے؟
6۔ کیا اس فرسودہ زنگ آلود نظام پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں؟ درحقیقت اس فرسودہ نظام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اگر آج بھی حکمرانوں نے احتساب کا دائرہ خود اپنی صفوں تک نہیں بڑھایا اور بلا تفریق سب کے احتساب کو اپنا لائحہ عمل نہیں بنایا تو عین ممکن ہے کہ قانونِ الٰہی کے مطابق فتنۂ عمرانیہ سے دین دشمنی، ملک دشمنی اور عوام دشمنی میں بڑھ کر کوئی خطرناک بلا اور ناسور اس ملک پر مسلط نہ ہو۔
وما توفیقی الا باللہ