Dalwal Store

Dalwal Store we sale electric water cooler /betsheets cover across pakistan اگر آپ کو کوئی چیز پسند نہیں آتئ تو 7 ورکنگ دن کے اندر واپس دے کر اپنے پیسے لے سکتے ہیں

22/11/2023
06/11/2023
14/10/2023

الحمداللہ۔ ایک ماں جی جو کینسر کی بیماری سے لڑ رہی ہے۔ اسکے ساتھ دوکان بھی چلاتی ہے۔ ساتھ کپڑے سیتی ہے۔ ان کی بیٹی کی اج بارات تھی۔ ہم نے اپنے 2 بھائیوں کے تعاون سے ان کے لیےکچھ تعاون کی کوشش کی۔ خدا ہماری یہ کوشش قبول لرے آمین۔
(سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوۓ کسی بھی شخص کی ویڈیو یا تصویر نہیں بنائی گی)

22/09/2023

اگر آپ لکھاری ہیں، شاعر ہیں، بزنس مین ہیں یا کوئی چیز بیچتے ہیں۔۔۔ یا جو بھی ہیں، جیسے ہیں، ہیں تو انسان نا!
آپ تب تک کچھ بھی نہیں جب تک آپ کو کوئی تصویر ایڈٹ کرنا نہ آتی ہو۔۔۔

نہیں سمجھے؟
ہم سمجھاتے ہیں۔۔۔

یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اس سے باہر آپ کچھ بھی کرتے رہیں، خواہ کتنی ہی کامیابیاں بٹورتے رہیں کسی کو معلوم نہیں ہونا،
جب تک وہ اپنی آنکھوں سے کوئی نمونہ نہ دیکھے۔۔۔

اگر آپ نمونہ کا مطلب لکھت یا سادہ سی تصویر کا کہہ رہے کہ بس کیمرہ سامنے کیا کلک کی تو ایسا بھی نہیں ہے۔۔۔

اگر آپ سجے سنورے انداز میں ایک پیاری سی ایڈٹ کی صورت میں اپنے بارے میں نہ بتائیں کون جانے تسی کون او۔۔۔

جیسے ایک لکھاری کا کہنا ہے کہ میں اپنی لکھت سے تب مطمئن ہوئی جب اس کے اقتباس پوسٹ ہونا شروع نہ ہوئے۔۔۔ یعنی انہیں گرافکس کی صورت شئیر نہ کیا گیا۔۔۔

گرافکس کیا ہے؟

یوں سمجھیں جیسے لکھنے پڑھنے کی ابتداء ا، ب اور پ سے ہوتی اسی طرح کوئی بھی کورس کرنے سے پہلے اگر آپ نے گرافکس ڈیزائننگ کو نہ اپنایا تو آپ کا کیا کرایا کسی کام کا نہیں۔۔۔

سوشل میڈیا مارکیٹر ہیں؟
کوئی ایڈ اچھے سے بنانا نہیں آتا تو آپ زیرو۔۔۔

وائس اوور آرٹسٹ ہیں؟
جب تک آپ کی ویڈیو پر دکھائی دینے والا تھیم نیل دلچسپ نہیں لگ رہا آپ کی ایڈٹ کی گئی ویڈیو زیرو۔۔۔

لکھاری ہیں؟
اپنی لکھت کو سجائیں گے نہیں جملوں کے مطابق تصویر ڈھالیں گے نہیں کون جانے لکھا کیا ہے؟

یعنی سرورق کے بنا کتاب کچھ نہیں۔۔۔
ہر ہنر گرافکس ڈیزائننگ کے بنا ادھورا ہے، نامکمل ہے، یتیم ہے۔۔۔

اب گرافکس ڈیزائننگ کی بات کریں تو قطعاً مشکل نہیں۔۔۔ آپ کو رنگوں سے کھیلنا آنا چاہیے، تھی

15/05/2022

👽جب جیک ما نے انٹرنیٹ پر سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار کرنے کا ارادہ کیا تو اُس وقت اُن کے والدین، اُن کے رشتہ داروں اور دوست احباب کسی کو بھی اُن پر یقین نا تھا کہ اُن کا یہ منصوبہ کبھی کامیاب ہو گا۔لوگ جیک ما کے اس منصوبے کو اِس لیے رد کر رہے تھے کیونکہ’انٹرنیٹ‘ چائنہ میں ایک نئی چیز، ایک نیا خیال تھا۔ جیک ما نے انٹرنیٹ پر کام کرنے کا فیصلہ تو کر لیا تھا، لیکن اُن کے پاس اِس پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے اس ضمن میں چین کے مقامی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 3ہزار ڈالر کا قرض مہیا کرنے کی درخواست کی۔ بینک کے چکر لگاتے اور اُن کی شرائط پر عمل درآمد کرتے جیک ما کو 3ماہ کا وقت لگ گیا، لیکن بینک نے انہیں قرض فراہم کرنے سے انکارکر دیا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کسی شخص کے ٹوٹ جانے اور زندگی سے مایوس ہو جانے کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

جبک ما نے ہمت نہ ہاری اور 40سے زائد سرمایہ کاروں سے اُن کی نئی کمپنی ، نئے آئیڈیا میں سرمایہ کاری کے لیے درخواست کی، لیکن تمام کے تمام سرمایہ کاروں نے صاف انکار کر دیا۔کوئی بھی ’علی بابا‘ کے ماڈل کو ایک کامیاب ماڈل ماننے کیلئے راضی نہیں تھا۔جیک ما نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صرف ایک چیزانہیں اپنے ارادے کے ساتھ مضبوطی سے ڈٹے رہنے کے لیے مجبور کیے ہوئے تھااور وہ تھا،انٹرنیٹ سے متعلق اُن کا نظریہ۔ اپنے ایک تازہ انٹرویو میں جیک ما نے بتایا کہ اُس وقت اُن کے ذہن میں صرف یہ ایک چیز تھی کہ انٹرنیٹ مستقبل میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، تاہم اُنہیں یہ یقین نہ تھا کہ یہ خیال اتنی بڑی تبدیلی لے آئے گا کہ آج ’علی بابا‘ میں 2لاکھ 51ہزارسے زائد ملازمین کام کر رہے ہیںاور اِس کمپنی کی نیٹ ورتھ 165بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

جیک ما نے بتایا کہ ’’مجھے یقین تھا کہ کوئی بہت دور میرا انتظار کر رہا ہے اور مجھے اپنے اس یقین کو سچ ثابت کرنے کیلئے بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑے گی اور یہی میری زندگی کا سب سے سخت ترین دورانیہ تھا۔‘‘
جیک ما میں لوگوں کو قائل کرنے کی کافی صلاحیت ہے، انہوں نے اپنے اردگرد سے کمپیوٹر اورانٹرنیٹ میں دلچسپی رکھنے والے 18افراد کے ذریعے 50ہزار ڈالر آخر اکٹھے کر لیے اور اپنے ڈریم پروجیکٹ (Dream project) کا آغاز کیا۔ لیکن مسلسل تین سال دن رات جدوجہد کرنے کے باوجود وہ اپنے اس منصوبے سے 1ڈالر کی کمائی بھی نہ کر سکے۔

ایک انٹرویو میں جیک ما سے میزبان نے سوال کیا کہ ’’آپ نے 3سالوں میں ایک ڈالر بھی نہیں کمایا اور آپ اتنے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ ‘‘جیک ما کا جواب تھا ۔۔۔’’یہ انٹرنیٹ ہے۔‘‘

میزبان نے کہا ،’’ٹھیک ہے! لیکن آپ کا نقطہ کیا ہے؟، کیا آپ ایک ارب پتی ہیں؟‘‘۔۔۔ جیک ما کا جواب تھا ۔۔۔ ’’ابھی تو نہیں، ہاں میں پُرامید ہوں۔‘‘
اب یہاں سوچنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ 3سال تک مسلسل محنت کے باوجود جو کمپنی 1ڈالر نہیں کما سکی، اُس کے 18مالکان اور جیک ما کیسے خود کو چوتھے برس بھی کام جاری رکھنے پر مجبور کیے ہوئے تھے۔ اس کا سادہ سا جواب ہے، عوام کا فیڈ بیک۔ جیک ما کو ’علی بابا‘ سے شاپنگ کرنے والے صارفین کے چائنہ بھر سے خط موصول ہوتے تھے، جس میں لوگ یہ کہہ کر اُن کاشکریہ ادا کرتے تھے کہ آپ کی سروس ہمارے لیے بہت فائدے مند ہے،ہم آپ کی مدد تو نہیں کر سکتے، لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ اگر آپ ایسے ہی کام کرتے رہیں تو ایک دن ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ اس اچھے فیڈ بیک نے جیک ما اور اُن کی کمپنی کو اچھے مستقبل کی ایک جھلک دکھلائی۔

علی بابا گروپ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا اور آج 16برس بعد ’علی باباگروپ‘ چین اور دنیا کے سب سے زیادہ ویلیوایبل (valueable) کمپنیو ںمیں سے ایک ہے۔آج وہی لوگ جنہوں نے جیک ما اور اُن کے کریزی خیالات کو مسترد کر دیا تھا تو وہ آج جیک ما کو کہتے ہیں کہ ’’آپ بہت سمارٹ ہیں اور آپ نے اس طرح کی بڑی کمپنی کیسے قائم کر دی۔‘‘

دنیا کی ار ب پتی شخصیات بل گیٹس، مارک زکر برگ، لیری پیج، ایلون مسک ، وارن بفٹ اور عام لوگوں میں فرق یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ مستقبل کے لیے پُر امید رہتے ہیں، یہ لوگ مایوس نہیں ہوتے۔یہ لوگ کبھی شکایت نہیں کرتے، یہ ہمیشہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں جتے رہتے ہیں۔جب آپ پُر امید ہوتے ہیں تو آپ کو موقع ضرور ملتا ہے۔آپ کو موقع ملتا ہے کچھ کر دکھانے کا، کچھ بڑا حاصل کرنے کا، اپنی منزل کو پانے کا۔آج کے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ مواقع کہاں ہیں؟، ملازمت کہاں ہے؟ ۔۔۔۔ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ یہ ہے کہ آپ ’نوجوان‘ ہیں۔کبھی شکایت مت کریں، دوسروں کو شکایت کرنے دیں۔ آپ سوچیں کہ کس طرح آپ چیزوں کو مختلف طرح کر سکتے ہیں اور جب آپ اس کے بارے میں سوچنا شروع کریں تو عملی طور پر بھی کام کا آغاز کر دیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس رات کو کاروبار کے حوالے سے بہت ہی زبردست خیالات ہوتے ، لیکن اگلی صبح میں نے انہیں اسی پہلے والی روٹین پر دفتر جاتے دیکھا ہے۔اگر آپ ایک کامیاب اور نیا کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو آغاز دوسروں سے پہلے کرنا پڑے گا۔آپ کو دوسرے سے پہلے جاگنا ہو گا، آپ کو دوسروں سے زیادہ بہادر بننا پڑے گا۔پیسے کے بارے میں پریشان نہ ہوں، پیسہ اُن لوگوں کا پیچھا کرتا ہے، جو اپنے خوابوں کا پیچھا کرتے ہیں، آپ اپنے خوابوں کا پیچھا کریں۔

کتاب "خوابوں کا تعاقب" سے اقتباس
بشکریہ دانش احمد انصاری

اب بار بار برف ڈالنے کی فکر سے آزاد صرف 30 منٹ چلائیں۔4 گھنٹے تک ٹھنڈا پانی پئیں۔پورے پاکستان میں ڈلیوری صرف ایک کال پر ...
19/03/2022

اب بار بار برف ڈالنے کی فکر سے آزاد
صرف 30 منٹ چلائیں۔4 گھنٹے تک ٹھنڈا پانی پئیں۔
پورے پاکستان میں ڈلیوری صرف ایک کال پر
پراڈکٹ پسند نہ آنے پر 3 دن کے اندر واپس کر کے اپنے پیسے وصول کر سکتے ہیں۔

Address

Khawaja Arcade Press Market Street Number 3 Faisalabad
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 05:00

Telephone

+923000331820

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dalwal Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dalwal Store:

Share