27/07/2022
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لوکان نبی بعدی لکان عمر بن الخطاب.
(جامع ترمذی، کتاب المناقب، رقم:3686)
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔
اسی طرح ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کانت فی الامم محدثون ليسوابانبياء فان کان فی امتی فعمر.
(ديلمی، مسند الفردوس، رقم: 4839)
تم سے پہلی امتوں میں محدثون ہوا کرتے تھے جو کہ انبیاء نہیں تھے اور اگر میری امت میں سے کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ (Ten blessed companions) میں شامل ہیں۔ یعنی آپ ان دس خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل ہیں۔ جن کے بارے میں حضور سرور کائنات فخرموجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت عطافرمائی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر ایک شخص داخل ہوگا وہ جنتی ہے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ داخل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک اور جنتی آنے والا ہے پس اس مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ (جامع ترمذی، کتاب المناقب، رقم:3694)
آپ رضی اللہ عنہ 26 ذوالحجہ کو شہید ہوئے اور نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔29 ذوالحجہ کو امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بطور خلیفہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ سے بیعت خلافت لی۔