MEC Builders Pvt Ltd

Call Directions Website Contact the business

MEC Builders Pvt Ltd We Offer Full Extensive Real Estate & A+ Construction Services in Bahria Town, DHA, Rawalpindi and Islamabad on Easy and Simple Payment Schedule.

Registered
FBR - Federal Board of Revenue
SECP - Security Exchange Commission of Pakistan

25/10/2026

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُہٗ
​راولپنڈی رنگ روڈ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور اس کے 38.3 کلومیٹر طویل مرکزی روٹ کا باقاعدہ افتتاح 28 اکتوبر 2026 یا نومبر کے پہلے ہفتے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہاتھوں متوقع ہے۔ پنجاب ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (PDWP) سے منظور شدہ نظرثانی شدہ پی سی ون کے مطابق اس اہم منصوبے کی کل لاگت تقریباً 50.4 ارب روپے ہے، جس میں بانٹھ، چک بیلی خان، اڈیالہ روڈ، چکری روڈ اور موٹروے سے رابطہ قائم کرنے کے لیے تھلیاں انٹرچینج شامل کیے گئے ہیں۔ اس سڑک کی فعال ترسیل سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے اندرونی علاقوں بالخصوص چکری اور اڈیالہ کے گردونواح میں ٹریفک کے شدید دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ میرپور، جہلم اور دینہ کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور موٹروے جانے والے مسافروں کو بھی براہِ راست اور تیز رفتار راستہ میسر آئے گا جس سے ان کے سفر کا وقت گھنٹوں کے بجائے منٹوں میں بدل جائے گا۔ فی الوقت افتتاحی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ ٹول پلازہ سسٹم کو بھی فعال کیا جا رہا ہے تاکہ پہلے ہی روز سے شہریوں کو سفر کی بہترین سہولت میسر آ سکے۔

25/10/2026
25/10/2026
21/10/2026

ملزم کا بیان بھی سامنے اگیا
ملتان واقعہ

بچہ کیسے ق ہوا
عینی شاہدین کا بیان سامنے آگیا

🔴 بریکنگ نیوز | ملتان کے یتیم وسیم عباس قتل کیس میں بڑی پیش رفتمرکزی ملزم توقیر نذیر بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں...
21/10/2026

🔴 بریکنگ نیوز | ملتان کے یتیم وسیم عباس قتل کیس میں بڑی پیش رفت
مرکزی ملزم توقیر نذیر بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک!
📍 ملتان / بہاولپور | 21 اکتوبر 2026
ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں 15 سالہ یتیم الیکٹریشن وسیم عباس کو مبینہ طور پر گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے مقدمے کا مرکزی ملزم توقیر نذیر بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا۔
🚨 واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس کے مطابق ملزم توقیر نذیر 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس حراست سے فرار ہوگیا تھا۔
سی سی ڈی حکام کا دعویٰ ہے کہ بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد کو روکنے کی کوشش کی گئی تو فائرنگ شروع ہوگئی۔
پولیس کے مطابق توقیر نذیر اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
⚖️ آپ کی رائے کیا ہے؟
ذرائع: جیو نیوز، پولیس حکام

صرف دو مرغیوں کی خواہش… اور پھر پورا الجزائر اس یتیم بیٹی کی خوشیوں میں شریک ہو گیا! 💔🥹کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خواہش انسا...
18/10/2026

صرف دو مرغیوں کی خواہش… اور پھر پورا الجزائر اس یتیم بیٹی کی خوشیوں میں شریک ہو گیا! 💔🥹

کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خواہش انسان کے دل کی وہ آواز بن جاتی ہے، جسے سن کر ہزاروں دل ایک ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں۔ الجزائر کی ایک یتیم لڑکی شہرزاد کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جس کا آغاز صرف دو مرغیوں کی درخواست سے ہوا، مگر انجام محبت، انسانیت اور بے شمار دعاؤں کی ایک یادگار داستان بن گیا۔

الجزائر کے صوبے عین الدفلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں سیدی لخضر میں رہنے والی شہرزاد اپنی زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز کرنے جا رہی تھی۔ اس کی شادی اپنے قریبی رشتہ دار کریم سے طے تھی، لیکن خوشیوں کے اس موقع پر مالی مشکلات اس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔

شادی میں چند ہی دن باقی تھے۔ گھر میں مہمانوں کی آمد متوقع تھی، مگر ان کے کھانے کا انتظام کیسے ہوگا؟ یہی فکر اسے اندر ہی اندر پریشان کر رہی تھی۔ ایسے میں شہرزاد نے سوشل میڈیا پر ایک سادہ سی اپیل کی۔ اس نے کسی بڑے تحفے، قیمتی زیور یا مہنگے سامان کی فرمائش نہیں کی۔ اس کی خواہش صرف اتنی تھی کہ کوئی اسے دو مرغیاں دے دے، تاکہ وہ اپنی شادی پر آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کر سکے۔

شاید اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی یہ مختصر سی درخواست کتنے لوگوں کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔

پھر ایک ایسا منظر سامنے آنے لگا جس نے اس کہانی کو ایک نئی پہچان دے دی۔

شہرزاد کی اپیل سوشل میڈیا پر پھیلنے لگی۔ الجزائر کے مختلف علاقوں سے لوگ اس کی مدد کے لیے آگے آنے لگے۔ کسی نے اس کی ضرورت کو محسوس کیا، کسی نے اس کی خوشیوں میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا، اور کسی نے سوچا کہ اس بیٹی کی شادی کا دن اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت یاد بننا چاہیے۔

دیکھتے ہی دیکھتے مدد کرنے والوں کی آمد شروع ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق، لوگ گاڑیوں اور ٹرکوں میں تحائف لے کر پہنچنے لگے۔ کسی نے گھر کے لیے فرنیچر پیش کیا، کسی نے جدید الیکٹرانکس دیے، کسی نے راشن فراہم کیا، جبکہ بعض افراد نے دلہن کے لیے قیمتی زیورات بھی تحفے میں دیے۔

جس گھر میں چند روز پہلے دو مرغیوں کے انتظام کی فکر تھی، وہاں اب تحائف اور خوشیوں کی رونق دکھائی دینے لگی۔

لیکن اس داستان میں ابھی کچھ اور بھی باقی تھا۔

رپورٹس کے مطابق، ایک سعودی تاجر نے نئے جوڑے کے لیے عمرے کے سفر کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔ ایک مقامی کاروباری شخصیت نے دولہا کے لیے مستقل ملازمت کا انتظام کیا، جبکہ شہرزاد کی والدہ کے لیے ماہانہ مالی مدد فراہم کرنے کی پیشکش بھی سامنے آئی۔

سوچیے، ایک ایسی لڑکی جسے اپنی شادی کے مہمانوں کے کھانے کی فکر تھی، اسے اچانک ایسے لوگوں کی محبت اور تعاون کا احساس ہونے لگا جو اس کے لیے اجنبی تھے، مگر اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھ بیٹھے تھے۔

پھر وہ دن آ گیا جس کا شہرزاد کو انتظار تھا۔

شادی کا دن آیا تو ماحول ہی بدل چکا تھا۔ دور دراز علاقوں سے لوگ اس خوشی میں شریک ہونے پہنچے۔ گاڑیوں کے قافلے، تحائف، روایتی تقریبات اور لوگوں کی بڑی تعداد نے اس موقع کو ایک یادگار جشن میں بدل دیا۔

شہرزاد کے لیے شاید سب سے قیمتی تحفہ وہ سامان نہیں تھا جو اسے ملا، بلکہ وہ احساس تھا کہ زندگی کے اس اہم موڑ پر وہ تنہا نہیں ہے۔ جن خوشیوں کو وہ محدود وسائل کے ساتھ منانے کا سوچ رہی تھی، ان خوشیوں میں ہزاروں لوگ شریک ہونے کے لیے آگے آ گئے تھے۔

اس موقع پر شہرزاد سے منسوب ایک جملہ بھی بیان کیا جاتا ہے، جس نے بہت سے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا:

”آج میں خود کو یتیم محسوس نہیں کر رہی، مجھے فخر ہے کہ میں پورے الجزائر کی بیٹی ہوں!“

یہ الفاظ اس پوری کہانی کے احساس کو سمیٹ لیتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت دولت کی نہیں، بلکہ اس یقین کی ہوتی ہے کہ کوئی اس کی فکر کرنے والا بھی موجود ہے۔

شہرزاد کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی کی زندگی میں خوشی لانے کے لیے ہمیشہ بڑی دولت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کسی کی معمولی سی ضرورت پوری کرنا، کسی کی پریشانی بانٹ لینا یا کسی کے اہم دن کو خوبصورت بنا دینا بھی ایک ایسا عمل بن جاتا ہے جس کی یاد مدتوں دل میں زندہ رہتی ہے۔

دو مرغیوں کی ایک چھوٹی سی خواہش نے اگر واقعی اتنے لوگوں کو اس بیٹی کی مدد کے لیے اکٹھا کیا، تو اس میں ہمارے لیے ایک خوبصورت پیغام ہے: انسانیت آج بھی زندہ ہے، اور دنیا میں ایسے دل موجود ہیں جو دوسروں کی خوشی کے لیے اپنا حصہ ڈالنا جانتے ہیں۔

شہرزاد کو ابتدا میں صرف اپنی شادی کے مہمانوں کے کھانے کی فکر تھی، لیکن اس کہانی کا اصل سبق کہیں زیادہ گہرا ہے۔ کسی بے سہارا انسان کے لیے کبھی کبھی ایک چھوٹی سی مدد بھی امید کا دروازہ کھول سکتی ہے۔

کیونکہ رشتے صرف خون سے نہیں بنتے، کبھی کبھی کسی اجنبی کی مدد، کسی کی سچی ہمدردی اور کسی کی خوشی میں شریک ہونا بھی انسان کو ایک بڑے خاندان کا حصہ بنا دیتا ہے۔ ❤️

آپ کے خیال میں کیا آج بھی انسانیت اور دوسروں کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

Disclaimer: یہ تحریر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی بنیاد پر نئے الفاظ میں تیار کی گئی ہے۔ شہرزاد کی کہانی، تحائف، مالی معاونت اور اس سے منسوب بیان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے انہیں حتمی طور پر تصدیق شدہ حقائق نہ سمجھا جائے۔ پوسٹ کے ساتھ استعمال ہونے والی AI-generated تصویر صرف نمائشی اور حوالہ جاتی مقصد (reference purposes) کے لیے ہے، اسے حقیقی تصویر یا اصل واقعے کی مستند عکاسی نہ سمجھا جائے۔

18/10/2026

الجزائر میں یتیم لڑکی کی اپنی شادی کیلئے 2 مرغیوں کی اپیل لوگ زیورات ، نقدی اور مختلف تحائف لیکر گھر پہنچ گئے !

09/10/2026

حملہ/ حفاظت

Address

Office 2, Plot 540 Business District Phase 8, Bahria Town
Islamabad
45740

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 19:00

Telephone

+923336224680

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MEC Builders Pvt Ltd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MEC Builders Pvt Ltd:

Shortcuts

Share