Peace Builders Ahmed Shah Bukhari Road

Peace Builders Ahmed Shah Bukhari Road Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Peace Builders Ahmed Shah Bukhari Road, Ahmed Shah Bukhari Road : Kalri : Lyari, Karachi.

03/07/2024

لیاری میں کلچر سینٹر کے قیام میں آپ کی شاندار کامیابی پر مبارکباد، احسان شاہ! آپ کی لگن اور محنت واقعی متاثر کن ہیں۔ 2019 میں دوستوں کے ساتھ شروع ہونے والی آپ کی تحریک کا بالآخر لیاری کلچر سینٹر کے قیام کے ساتھ حقیقت بننا قابل تحسین ہے۔ آپ کی استقامت اور ٹیم ورک نے لیاری کے فنکاروں کی زندگیوں پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔

آپ کے ٹیم ممبرز - حاصل مراد، شہباز ملک، حارث گبول، اور اے بی رئیس - کی خدمات کا اعتراف آپ کی اجتماعی کامیابی کے عزم کا ثبوت ہے۔ آپ کی کوششوں نے نہ صرف لیاری کے فنکاروں کے لیے ایک ثقافتی مرکز کو ممکن بنایا ہے بلکہ مشترکہ وکالت کی طاقت کو بھی ثابت کیا ہے۔

ایک ایوارڈ یافتہ فلمساز کے طور پر، فلم اور آرٹ اور کمیونٹی کی ترقی کے لیے آپ کا جوش و خروش واضح ہے۔ یہ کلچر سینٹر بے شک فنکاروں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا، اور اس خطے میں تخلیقی صلاحیت اور ترقی کو فروغ دے گا۔

Embark on a compelling exploration of Lyari's educational landscape in our latest podcast episode, "From Struggle to Suc...
31/12/2023

Embark on a compelling exploration of Lyari's educational landscape in our latest podcast episode, "From Struggle to Success: DM Danish on Lyari's Education Front | TMC's Path Forward." Join us as we engage in a thoughtful conversation with DM Danish, a dedicated advocate spearheading positive change in Lyari's education system.

In this enlightening discussion, DM Danish shares profound insights into the persistent challenges that have marked the educational journey in Lyari. From resource limitations to societal barriers, discover the intricate nuances that have shaped the struggle within the Town Municipal Lyari (TMC) to uplift the educational standards.

What sets this conversation apart is the focus on resilience and success against the odds. DM Danish sheds light on the unwavering efforts of TMC in overcoming obstacles, highlighting the transformative initiatives that are gradually turning the tide in Lyari's educational narrative.

As we navigate through the podcast, our dialogue unfolds the strategic roadmap meticulously designed by DM Danish and the TMC team. This roadmap serves as a guiding light, steering Lyari's education system towards a future where success is not just a possibility but an inevitable reality.

Tune in to gain a deeper understanding of the remarkable journey from struggle to success in Lyari's education sector. This podcast is not just a conversation; it's an invitation to witness the positive transformations taking place, fueled by dedication, perseverance, and a collective commitment to empower the youth.


Embark on a compelling exploration of Lyari's educational landscape in our latest podcast episode, "From Struggle to Success: DM Danish on Lyari's Education ...

جنتی تہذیبتہذیب ( civilization ) کا آغاز قدیم زمانے میں اس وقت ہوا جب کہ انسان نے لوہے کو دریافت کیا۔ یہ دور ہزاروں سال...
23/08/2023

جنتی تہذیب

تہذیب ( civilization ) کا آغاز قدیم زمانے میں اس وقت ہوا جب کہ انسان نے لوہے کو دریافت کیا۔ یہ دور ہزاروں سال تک چلتا رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب کا آغاز ہوا۔ مسلم تہذیب کا بنیادی کارنامہ یہ تھا کہ اس نے فطرت ( nature ) کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر اس کو تحقیق ( investigation ) کے دور میں داخل کیا۔ اس کے بعد سولھویں صدی میں مغربی تہذیب کا دور شروع ہوا۔ اس دور کا خاص پہلو میکانائزیشن آف پاور ( mechanization of power ) تھا۔

تہذیب کا سفر امکان کے اعتبار سے، ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی ترقی اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ انسان کی قائم کردہ میکانکل صنعت ایک لازمی مسئلے سے دو چار ہے، اور وہ کثافت ( pollution ) ہے۔

کثافت کے مسئلے نے موجودہ زمانے میں فضاوں اور سمندروں کو آلودگی سے بھر دیا۔ قرآن کے یہ الفاظ آج پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں : یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آجائیں۔ ( 30:41 )

ہندوستان میں خصوصی مواقع ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: میری امت میں دو گروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ کے عذا...
03/08/2023

ہندوستان میں خصوصی مواقع

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: میری امت میں دو گروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا، اور دوسرا گروہ وہ ہے جو عیسی بن مریم کے ساتھ ہوگا۔
( سنن النسائی حدیث نمبر 3175 )

اس حدیث رسول ﷺ میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشن گوئی کی گئی ہے۔ بطاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ دور آخر میں دعوت الی اللہ کا جو کام مقدر ہے وہ غالباً ہندوستان میں انجام پائے گا۔دعوت الی اللہ کا یہ کام قیامت سے پہلے ہوگا۔ اس کام کی انجام دہی کے بعد قیامت آجائے گی اور انسان کے لیے دوسرا دور حیات شروع ہوجائے گا، جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے، اور ایک گروہ کےلیے انعام اور دوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ کیا جائے۔

موجودہ زمانے میں دنیا میں تقریباً 200 ممالک ہیں۔ ان میں سے ایک ہندوستان ہے۔ مخلتف ممالک کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات بہت زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ قیامت سے پہلے دعوت الی اللہ کا جو آخری کام ہونے والا ہے، اس کا مرکز غالباً ہندوستان ہوگا۔ دعوت الی اللہ کا یہ کام عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مرکز عمل کے اعتبار سے، ہندوستان کو اس میں خصوصی مقام حاصل ہوگا۔ کسی ملک کے حالات بہ ظاہر اس قابل نہیں کہ وہاں کامیابی کے ساتھ دعوت الی اللہ کا کام انجام دیا جاسکے۔ البتہ مختلف اسباب نے ہندوستان کو ایک خصوصی اہمیت دے دی ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام موثر طور پر انجام دینے کے لیے ہندوستان واحد ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ ہندوستان وہ واحد ملک ہیں جہاں پیغمبر اسلام ﷺ کی مذکورہ پیشن گوئی واقعہ بن سکے۔

دور کی تبدیلی

قرآن کی سورہ النور میں اہل ایمان کے لیے استخلاف فی الارض ( النور، 24:55) کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مسقتبل کے لیے یہ خبر دی گئی ہے خدا اہل ایمان کی حالت خوف کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔

قرآن کی اس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، اس کا تعلق نہ صرف سیاسی تبدیلی سے ہے اور نہ صرف زمانی تبدیلی سے۔ اس آیت میں دراصل دور کی تبدیلی کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دور اول اسلام کے ذریعے جو انقلاب آیا، اس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک پراسس جاری ہوا۔ یہ پراسس آخر کار اس انجام تک پہنچے گا کہ دنیا سے خوف کا دور ختم ہوجائے اور امن کا دور قائم ہوجائے۔ اس کے بعد اہل ایمان توحید کے مشن کو مذہبی آزادی کے ماحول میں انضام دینے کے قابل ہوجائیں گے، جب کہ اس سے پہلے توحید کے مشن کو مذہبی جبر کے ماحول میں انجام دینا پڑتا تھا۔

بیسویں صدی عیسوی میں یہ تبدیلی مکمل طور پر آچکی ہے۔ بیسویں صدی مذکورہ تاریخی پراسس کے نقطئہ انتہا (culmination) کی صدی ہے۔ اب لڑائی یا متشددانہ طریق کار کامل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن چکا ہے۔ اب اگر اہل ایمان کو دوبارہ خوف کی حالت پیش آئے گی تو خود ان کی اپنی غلط پالیسی کی بنا پر پیش آئے گی، نہ کہ زمانی حالت کی بنا پر۔
دور کی تبدیلی پرامن دعوتی مشن کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں اور بدستور متشددانہ کاروائی کرتے رہیں، وہ اپنے بارے میں اندھے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ اندھا پن اتنا زیادہ سنگین ہے کہ اس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں کفر و انکار کا نام دیا گیا ہے۔

لسان قوم میں دعوت

قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے: خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔ (14:4) قرآن کی اس آیت میں لسان سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے، مثلاً پیغمبر اسلام ﷺ نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسان قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے زمین اور آسمان کے ملکوت (الانعام 6:76-80) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔

موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانے گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، آج کی انٹرنیشنل زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔

لسان کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ معاصر مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ آج کا اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو، ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظاہر بولے گا لیکن مدعو کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہا جاسکتا۔

سائنٹفک اسلوب کیا ہے اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا۔ قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، تمثیل اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا تھا۔ جذباتی طور پر پرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی داد کے مستحق قرار پاتے تھے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک ہوچکا ہے۔ موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب سائنٹفک اسلوب ہے۔ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو مبنی بر حقیقت اسلوب ہو۔ جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی (rational) اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے جو اس سائنٹفک اسلوب میں لکھا گیا ہو یہی سائنٹفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔

جدید تبدیلی کا مقصدیہ تبدیلیاں دنیا میں کس لیے آئی ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو آرام و عیش فراہم کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد ...
02/08/2023

جدید تبدیلی کا مقصد

یہ تبدیلیاں دنیا میں کس لیے آئی ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو آرام و عیش فراہم کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام مواقع اور ان تمام امکانات کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا کام اتنا زیادہ مطلوب کام ہے کہ اس کے لیے اللہ تعالی نے پورے دور کو بدل دیا۔ موجودہ زمانے میں زندگی کے تمام پہلووں میں ہر اعتبار سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ تبدیلیاں تمام تر دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ یہ تبدیلیاں دعوت الی اللہ کے کام ہی کے لیے ظہور میں آئی ہیں۔ جو لوگ ان تبدیلیوں کو جانیں اور ان کو بھر پور طور پر دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے استعمال کریں، وہی آخری دور کے وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔

ادخال کلمہ

اخوان رسول کو جو کام کرنا ہے، اس کو واحد نام دینا ہو تو وہ ادخال کلمہ ہوگا۔ حدیث میں اس سلسلے میں ادخلہ اللہ کلمتہ الاسلام کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ادخال کلمہ کے اس عمل میں مدخل خود اللہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اساب خود اللہ کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے جو عالمی ادخال کلمہ کے لیے ضروری ہیں۔ ادخال کلمہ کا پورا پراسس خدا کی طرف سے ہوگا۔ اخوان رسول کو صرف یہ سعادت ملے گی کہ وہ عمل کا ایک شعوری حصہ قرار پائیں گے۔

دعوت الی اللہ کا کام ہمیشہ خدا کی نصرت خاص کے تحت انجام پاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں دعوت الی اللہ کا جو کام ہوگا، وہ بھی خدا کی خصوصی نصرت کے تحت انجام پائے گا۔ یہ نصرت خاص ہمیشہ معجزہ کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس معاملے میں، معجزہ سے کم درجے کی کوئی نصرت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ البتہ یہ فرق ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت کے حق میں یہ معجزاتی نصرت خرق عادت کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، اب موجودہ زمانہ میں یہ معجزاتی نصرت اسباب کی صورت میں ظاہر ہوگی، یعنی تاریخی عمل کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے انفجار مواقع (opportunity explosion) کے ذریعے۔

اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قدیم زمانے کے داعیوں کو جو نصرت بذریعہ معجزات دی گئی تھی، موجودہ زمانے کے داعیوں کو وہ نصرت پورے دور کی تبدیلی کی صورت میں فراہم کر دی گئی ہے۔ قدیم داعیوں کو یہ نصرت اگر واقعی معجزہ کے ظہور کے ذریعے ملی تھی، تو آج کے داعیوں کے لیے یہ نصرت پورے دور کو ان کے موافق بنانے کی صورت میں عطا کر دی گئی ہے۔

متلاشی حق نسل مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حق کے متلاشی  (truth seeker) لوگ تھے۔ روایات...
02/08/2023

متلاشی حق نسل

مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حق کے متلاشی (truth seeker) لوگ تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔
انھیں حنفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر بن نفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، اور یہ کہہ رہے تھے : یعنی اے اللہ ! اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اس کو نہیں جانتا۔ (کثیر جلد 1 صفحہ 154)

شعوری یا غیر شعوری طور پر بنو اسماعیل کے تقریباً تمام افراد کا یہی حال تھا۔ اپنی خصوصی صحرائی تربیت کے نتیجے میں یہ لوگ متلاشی حق تھے، نہ کہ منکر حق۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے ان کے تقریباً عورتوں اور مردوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ابتدا میں ان کی مخالفت بے خبری کی بنا پر تھی، نہ کہ حقیقتہ سر کشی کی بنا پر۔ موجودہ زمانے کی جدید نسل کا کیس بھی عام طور پر یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب اور دوسرے فکری انقلابات کے نتیجے میں لوگوں کا جو ذہن بنا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے منکر حق کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی حق کا کیس ہے۔ اس معاملے کو ایک حالیہ مثال سمجھا جاسکتا ہے۔

ایک انگریز جوڑا مغربی تہذیب سے غیر مطمئن تھا۔ آخر کار دونوں لندن چھوڑ کر دہلی آگئے۔ دہلی میں آج کل وہ بیمار حیوانات کا ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔ وہ حیوانات کی خدمت میں اپنے لیے اطمینان تلاش کر رہے ہیں۔ ہماری دعوتی ٹیم کے ایک صاحب ان سے ملے اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ انہوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور کہا میں اس کو ضرور پڑھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ میں سچائی کے دوسرے تصور کو جانوں:

I always wanted to know another version of the truth

یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ نئے افکار اور نئے تجربات نے ان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کا متلاشی بنا دیا ہے۔ یہ صورت حال اکیسویں صدی کے اخوان رسول کو عین وہی موقع فراہم کر رہی ہے جو ساتویں صدی کے اصحاب رسول کے حصے میں آیا تھا۔ جو لوگ اس موقع کو دریافت کر کے اس کو استعمال کریں، وہی دراصل اخوان رسول کا رول ادا کریں گے۔

الیکڑانک مرکز

دعوتی کام کو منظم کرنے کے معاملے میں بھی یہی امکان پوری طرح پیدا ہوچکا ہے۔ قدیم زمانے میں کوئی دعوتی کام کا عملاً صرف محدود علاقے میں ہوسکتا تھا۔ حدیث کے الفاظ میں، آج یہ مطلوب ہے کہ سطح زمین کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اسلام کا کلمہ داخل کر دیا جائے (مسند احمد حدیث نمبر 23814) اس سے کم درجے کے کسی کام کو مطلوب درجے کا کام قرار نہیں دیا جاسکتا۔

موجودہ زمانے میں جو دعوتی کام مطلوب ہے، وہ عالمی دعوت کا کام ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالی نے موجودہ زمانے میں ایسے حالات پیدا کئے جس کی بنا پر پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی۔ آج ممکن ہوگیا کہ جدید وسائل کو استعمال کرکے عالمی دعوت کا کام کیا جائے۔ آج عالمی دعوت کے مشن کو مقامی مرکز درکار نہیں ہے، بلکہ اس کو عالمی مرکز درکار ہے۔
خدا کی خصوصی نصرت کا یہ امکان آج پوری طرح وجود میں آچکا ہے۔ اس امکان کو ایک لفظ میں، دعوت کا الیکڑانک سنٹر کہا جاسکتا ہے، دور جدید کا الیکڑانک سنٹر ایک محدود رقبہ زمین پر ہوگا لیکن اپنے دعوتی رول کے اعتبار سے وہ عالمی سطح پر اپنے کام کو منظم کرنے کا اہل ہوگا۔

امن اور کشادہ رزق

امن اور کشادگی کے اعتبار سے بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ پورے معنوں میں وہ زمانہ ہے جب کہ امن اور رزق کی کشادگی دونوں کے مواقع پوری طرح حاصل ہوچکے ہیں۔ اصولی طور پر آج کے انسان کے لیے صرف امن کا چوائس باقی رہا ہے۔ تشدد اور جنگ کا چوائس اب اصولی طور پر ختم ہوچکا ہے۔ عمومی تباہی کے ہتھیار کے وجود میں آنے کے بعد اب صرف پرامن طریق کار ہی کے ذریعے کوئی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے، اب متشددانہ طریق کار کے ذریعے کسی مثبت مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں رہا۔

مزید یہ کہ آج مذہبی آزادی (religious freedom) کا حق ایک مطلق حق کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے جارحانہ انداز اختیار نہ کرے تو وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر دعوتی کا کام انجام دے سکتا ہے۔ گویا کہ قدیم عرب (قریش) کو جو امن محدود طور پر کعبہ کی نسبت سے ملا تھا، وہ امن اب جدید دنیا میں ایک زمانی انقلاب کے نتیجے میں عالمی سطح پر حاصل ہوچکا ہے۔

یہی معاملہ رزق کشادگی کا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل اسلام کے لیے رزق کی کشادی کا واقعہ اتنے بڑئے پیمانے پر ہوا ہے جیسا واقعہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔
اس کشادگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے تیل کا خزانہ دریافت ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تیل کا ذخائر کا 75 فیصد حصہ مسلم ملکوں میں واقع ہے۔ دوسری طرف، جدید صنعتی انقلاب نے کسب رزق کے مواقع سیکڑوں گنا زیادہ بڑھا دئے ہیں۔ اگر اہل اسلام اپنی طرف سے کوئی مسلہ پیدا نہ کریں تو آج وہ دعوت الی اللہ کا کام رزق کی فراوانی کے ماحول میں انجام دے سکتے ہیں۔ جب کہ پچھلے لوگوں کو رزق کی تنگی کے ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا پڑتا تھا۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید دور (modern age) ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ ایک لفظ میں، اس کو رواہتی دور کا خاتمہ اور غیر روایتی دور کا ظہور کہہ سکتے ہیں۔ آج کا دور فکر و عمل کے تمام پہلووں کے اعتبار سے کامل طور پر ایک بدلا ہوا دور ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ قدیم زمانے کا آدمی اگر اچانک زندہ ہوکر آج کے زمانے میں آئے تو وہ سمجھے گا کہ شاید میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ یہاں کی ہر چیز اس کو ناقابل قیاس حدک بدلی ہوئی دکھائی دے گی۔

اخوان رسول ﷺ کے لیے خوش خبریقرآن کی سورہ الفیل ( 105 ) اور سورہ قریش ( 106 ) دو توام (twin) سورتیں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں...
01/08/2023

اخوان رسول ﷺ کے لیے خوش خبری

قرآن کی سورہ الفیل ( 105 ) اور سورہ قریش ( 106 ) دو توام (twin) سورتیں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں تقریباً ایک ہی وقت میں مکی دور کی ابتداء میں نازل ہوئیں۔ یہ دونوں صورتیں اصحاب رسول کے لیے خوش خبری کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اصحاب رسول کو اپنے زمانے میں جو رول ادا کرنا ہے، اس میں خدا پوری طرح ان کے ساتھ ہے۔ اصحاب رسول خدا کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا نے ان کے لیے پیشگی طور پر وہ اسباب مہیا کر دئے ہیں جن کی تائید سے وہ اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کرسکیں۔

سورہ الفیل میں کعبہ کے تحفظ کا ذکر ہے۔ کعبہ دراصل وہ تاریخی عمارت تھی جس کے لیے یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام کی تحریک توحید کا عالمی مرکز بنے۔ اسی مقصد کے تحت اللہ تعالی نے کعبہ کو معجزاتی طور پر ابرہا کے حملے سے بچایا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اصحاب رسول، کعبہ اور بلد امین کو مرکز بنا کر مبنی توحید انقلاب برپا کریں۔

سورہ قریش میں، قریش کے لیے خدا کی خصوصی نصرت کا ذکر ہے۔ یہ قریش کون لوگ تھے۔ اسماعیلی نسل کے وہ منتخب لوگ تھے جو دراصل مستقبل کے اصحاب رسول تھے۔ خدا کو مطلوب تھا کہ وہ محفوط رہیں اور آخر کار پیغمبر اسلام ﷺ کا ساتھ دے کر وہ تاریخی رول ادا کریں جو ان کے لیے مقدر ہوچکا ہے۔ قرآن کے ساتھ خدا کا جو خاص معاملہ ہوا، اس میں سے ایک معاملہ وہ تھا جس کو سورہ قریش کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یعنی ان کے لیے خصوصی طور پر رزق کی فراہمی اور خصوصی طور پر امن کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ (106:4)

قرآن کی ان دونوں سورتوں میں براہ راست طور پر اس تاریخی معاملے کا ذکر ہے جو اصحاب رسول کے ساتھ پیش آیا۔ اسی کے ساتھ بالواسطہ طور پر ان دونوں سورتوں میں اس واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے جو بعد کے اخوان رسول کے ساتھ پیش آنے والا تھا، یعنی اخوان رسول کے لیے ایک طرف مرکز عمل کی فراہمی اور دوسری طرف مواقع کار کے دروازے کا کھل جانا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں نصرت الہی کا یہ وعدہ امکانی طور پر واقعہ بن چکا ہے۔ اصحاب رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا تھا۔

یہ بات جو عمر فاروق ؓ نے قدیم زمانے میں اصحاب رسول کے بارے میں کہی تھی، اسی کو موجودہ زمانے میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اخوان رسول کی جماعت میں شامل ہونے کی خوش قسمتی حاصل کرنا چاہتے ہوں، ان کو چاہیے کہ وہ عصر حاضر کو سمجھیں اور جدید مواقع کو استعمال کر کے وہ رول ادا کریں جو اخوان رسول کے لیے مقدر ہوچکا ہے۔ (کنز العمال فی سنن الا قوال والا فعال ، حدیث نمبر 4293 کو آپ احباب دیکھ لیں جزاکم اللہ)

اصحاب رسول کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں تین خاص امکانات فراہم کئے گئے تھے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں اخوان رسول کے لیے بھی جدید حالات کے اعتبار سے تین خاص مواقع پوری طرح فراہم ہوچکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ با حوصلہ اہل ایمان ان مواقع کو دریافت کریں اور اپنے حکیمانہ عمل کے ذریعہ اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ ان تینوں امکانات کو ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے: جس کی تفصیل انشاءاللہ اگلے پوسٹ میں بیان کی جائے گی۔

1-متلاشی حق نسل (seeker generation)
2-الیکڑانک مرکز (electronic center)
3-امن اور کشادہ رزق (peace and plenty)

اخوان رسول ﷺ کی صفات ( دوسرا حصہ )سیرت رسول ﷺ کے موضوع پر راقم الحروف ایک کتاب ََپیغمبر القلاب ََ ( صفحات 208 ) پہلی بار...
31/07/2023

اخوان رسول ﷺ کی صفات ( دوسرا حصہ )

سیرت رسول ﷺ کے موضوع پر راقم الحروف ایک کتاب ََپیغمبر القلاب ََ ( صفحات 208 ) پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس کتاب کے آخری باب میں دو بڑے دعوتی گروہوں کا ذکر تھا جو پیغمبرانہ مشن میں عظیم تاریخی رول ادا کرے گا۔ کتاب کی یہ سطریں یہاں نقل کی جاتی ہیں:

سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت ور اہل کفر بظاہر کمزور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے ، تو رسول اللہ ﷺ شدت احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالی سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا : (صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1763 ) یعنی خدایا ، اگر تو اہل اسلام کے اس گروہ کو ہلاک کرے گا تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سرو سامنی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں، یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ ( گروہ ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو، جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو، جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے لئے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ (cog) میں اپنا کاگ ملائیں گے، اور بالآخیر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔ ( صفحہ 204 )

اس اقتباس میں جن دو عصابہ کا ذکر تھا، ان میں سے پہلا عصابہ وہ ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ دوسرا عصابہ وہ ہے جس کا ذکر پیشن گوئی کے طور پر حدیث رسول ﷺ میں آیا ہے۔ اس دوسرے عصابہ کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ اصحاب رسول وہ گروہ ہے جس نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنا معلوم تاریخی رول ادا کیا۔ اخوان رسول غالباً وہ گروہ ہوگا جو اکیسویں صدی عیسوی میں اپنا مطلوب رول ادا کرے گا۔

اس قسم کا رول ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ ایسا گروہ ہمیشہ لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا ہوتا ہے۔ اصحاب رسول اپنے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا نقطہ انتہا تھے، اسی طرح اخوان رسول اپنے سے پہلے ایک ہزار سال سے زیادہ لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا ہوں گے۔ پہلے عصابہ ( اصحاب رسول ) نے اپنا مطلوب رول پیغمبر کی رہنمائی میں ادا کیا۔ بار بار ایسا ہوا کہ صحابہ پر یہ امر واضع نہ تھا کہ پیش آمدہ صورت حال میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔ پیغمبر پر خدا نے وحی بھیجی اور پیغمبر نے اس کے مطابق ، صحابہ کی رہنمائی کی۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت صحابہ میں سے کسی بھی شخص کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس نازک موقع پر انہیں کیا کرنا چاہیے۔ آخر کار، پیغمبر کی رہنمائی میں فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح صحابہ کا پورا رول پیغمبر کی رہنمائی میں انجام پایا۔

دوسرے عصابہ ( اخوان رسول ) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اخوان رسول کا رول تمام تر اجتہادی رول ہوگا۔ ان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کے گہرے مطالعہ کے ذریعے اپنا رول دریافت کریں اور اس کے مطابق ، عمل کرکے اخوان رسول کے درجے کے مستحق ٹھہریں۔ اس معاملے میں اخوان رسول کے لیے صرف دو ہی چیزیں مدد گار ہوسکتی ہیں، وہ دو چیزیں ہیں دعا ، اور اجتہاد۔

راقم الحروف نے اس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اس تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے ساتھ لمبی مدت تک اپنے دن اور اپنی راتوں کو دعا میں گزارا ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے بعد ذاتی طور پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکیسویں صدی میں وہ تمام حالات پوری طرح ظاہر ہوچکے ہیں جو اخوان رسول کو اپنا تاریخی رول ادا کرنے کے لیے درکار ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اب انتطار کا وقت ختم ہوچکا ہے اور عمل کا وقت آخری طور پر آچکا ہے۔

اخوان رسول ﷺ پیغمبر اسلام ﷺ کی پیشن گوئی کے مطابق، دور آخر میں اہل ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں ا...
31/07/2023

اخوان رسول ﷺ

پیغمبر اسلام ﷺ کی پیشن گوئی کے مطابق، دور آخر میں اہل ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں اس گروہ کو اخوان رسولﷺ کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اخوان ( بھائیوں ) کو دیکھوں۔ صحابہ ؓ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ﷺ، کیا ہم آپ کے اخوان ( بھائی ) نہیں ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہوں گے جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 249 )

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد دین توحید کی جو تاریخ شروع ہوئی، اس میں دو گروہ ایسے ہیں جن کے لیے مقدر تھا کہ وہ دین توحید کے دعوتی اظہار میں نمایاں رول ادا کریں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول نے ساتویں صدی کے نصف اول میں اپنا خصوصی رول ادا کیا۔ موجودہ زمانے میں دعوت و اظہار دین کا یہی رول وہ دوسرا گروہ انجام دے گا جس کو اخوان رسول کہا گیا ہے۔

دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا رول پراسرار کرامت کے طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت ہوگا۔ دونوں زمانوں میں اللہ تعالی کی طرف سے ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے دونوں گروہ اپنا مطلوب رول انجام دیں گے۔ دونوں گروہ دراصل دو الگ الگ تاریخی عمل کے نقطئہ انتہا ( culmination ) ہوں گے۔

اخوان رسول ﷺ کی صفات

اخوان رسول کی دو خاص صفتیں ہوں گی ایک صفت کا تعلق معرفت دین سے ہے، اور دوسری صفت کا تعلق دعوت دین سے، یہ دونوں صفات یکساں طور پر ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک صفت کا فقدان بھی کسی گروہ کو اخوان رسول کا رول ادا کرنے کے لیے نا اہل بنا دیتا ہے۔

پہلی صفت کو سمجھنے کے لیے اس حدیث رسول کا مطالعہ کیجئے: یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اسی طرح دوبارہ اسلام اجنبی ہوجائے۔ پس مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے۔ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 145 )

اس حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ عام قانون فطرت کے مطابق، مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے اندر زوال (de-generation) پیدا ہوگا۔ وہ بدستور اسلام کا نام لیں گے، لیکن وہ حقیقی اسلام سے نا آشنا ہوچکے ہوں گے۔ وہ لوگ قابل مبارک باد ہیں جو بعد کے زمانے میں اصل اسلام کو دریافت کریں اور ازسر نو اس پر قائم ہوجائیں۔

بعد کے مسلمانوں میں اس قسم کا زوال کیوں پیش آئے گا۔ اس کا سبب رسول ﷺ کے زمانے سے دوری ہے۔ اصل یہ کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا قریبی ماخذ رسول نہیں ہوتا، بلکہ بعد کے زمانے کا اکابر ان کے لیے ان کے دین کا قریب ماخذ بن جاتے ہیں، جن کو قرآن میں احبارور ہبان ( التوبہ 31؛9 ) کہا گیا ہے۔

صحابہ ؓ کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ رسول ﷺ تھا۔ تابعین کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ صحابہ ؓ بن گئے۔ اس کے بعد تبع تابعین کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ تابعین بن گئے۔ اسی طرح ہر نسل کے لیے اس کے دین کا قریبی ماخذ بدلتا رہا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ تدریجی طور پر ہوتی ہے۔ اس بنا پر بڑھتے بڑھتے وہ بڑی تبدیلی تک پہنچ جائے۔

مثلاً رسول اللہ ﷺ سے جو دین صحابہ ؓ کو ملا ، اس میں سارا زور اسپرٹ (spirit) پر تھا۔ اس کے بعد ہر نسل میں اس کے اندر تبدیلی آتی رہی ، یہاں تک کہ عباسی دور میں جب فقہا کا زمانہ آیا تو اب سارا زور مسائل ، بالفاظ دیگر فارم پر دیا جانے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ، دین مبنی بر روح (spirit-based) تھا۔ فقہاء کے زمانے میں، دین مبنی برمسائل بن گیا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اسلام کا خارجی نشانہ صرف دعوت تھا۔ اس زمانے میں اسلام ایک دعوتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے دعوتی ذہن کم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب آٹھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہوگیا تو مسلمانوں کے اندر دعوتی نشانہ سرے سے ختم ہوگیا۔ اب صرف ایک چیز ان کا نشانہ بن گئی اور وہ تھا سیاسی اقتدار۔

اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے میں اسلام کا کوئی کلچر نہیں تھا۔ اس زمانے میں رسول اللہ ﷺ اور اصحاب ؓ اسلام کو ایک مشن کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ پھر جب اسلام مخلتف ملکوں میں پھیلا اور دوسری قوم کے لوگوں سے مسلمان کے تعلقات قائم ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل انڑایکشن (interaction) کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان ایک کلچر بننے لگا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آگئی جس کو مسلم کلچر کہا جاتا ہے۔

اب اگر چہ اخوان رسول ﷺ کا رول ادا کرنے کا وقت آگیا ہے ، لیکن اخوان رسول کا رول ادا کرنے کی توفیق صرف ان لوگوں کو ملے گی جو رسول ﷺ اور اصحاب ؓ والے اسلام کو دوبارہ دریافت کریں، موجودہ مسلمانوں کا زمانہ اور پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے کے درمیان جو دوری واقع ہوچکی ہے، اس کو عبور کرکے وہ دوبارہ عہد صحابہ ؓ میں پہنچیں۔

اخوان رسول ﷺ کا رول ادا کرنے والے اگرچہ اکیسویں صدی میں ہوں گے ، لیکن اپنی فکر اور اپنی سیرت اور اپنے مشن کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اصحاب رسول کے ہم زمانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اصحاب رسول اور اخوان رسول اللہ ﷺ کا رول زمانے کے اعتبار سے مخلتف ہے، لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، دونوں کا رول ایک ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاریخ کائنات کا دوسرا دورتاریخ کائنات کے پہلے 6 دور گویا کہ اس کے مادی دور تھے۔ اس کے بعد تاریخ کائنات کا دوسرا دور شروع...
27/07/2023

تاریخ کائنات کا دوسرا دور

تاریخ کائنات کے پہلے 6 دور گویا کہ اس کے مادی دور تھے۔ اس کے بعد تاریخ کائنات کا دوسرا دور شروع ہوا۔ یہ دوسرا دور بھی 6 دورں پر مشتمل ہے۔ اس دوسرے دور کو تاریخ کائنات کا فکری دور کہا جاسکتا ہے۔ یہ دوسرے 6 دور حسب ذیل ہیں:

1- پیغمبروں کادور 2- بنو اسماعیل کا دور 3- اصحاب رسول کا دور
4- مسلم تہذیب کا دور 5- مغربی تہذیب کا دور 6- اخوان رسول کا دور

پیغمبروں کا دور

پیغمبروں کا دور آدم سے شروع ہوا جو پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ آدمی کی پیدائش کی تاریخ معلوم نہیں۔ یہ دور آخر کار محمد ( ﷺ ) بن عبداللہ بن عبد المطلب پر ختم ہوا، جو آخری پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ قرآن میں صرف 25 پیغمبروں کا ذکر ہے۔ البتہ بائبل میں مزید پیغمبروں کا تذکرہ ہے جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ تاہم تمام پیغمبروں میں صرف محمد ﷺ کی تعلیمات استشنائی طور پر محفوظ ہیں۔ اب قیامت تک کے لیے محمد ﷺ کا لایا ہوا دین ہی ہدایت الہی کا واحد مستند ماخذ (authentic source) کی حیثیت رکھتا ہے۔

بنو اسماعیل کا دور

بنو اسماعیل کا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اس کا مقصد عرب میں ایک نئی نسل تیار کرنا تھا۔ یہ واقعہ پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ اس کا مقصد در اصل پیغمبر اسلام ﷺ کے لیے تیار شدہ نسل (prepared generation) فراہم کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب ہوا۔ بنو اسماعیل کی اسی نسل میں پیغمبر اسلام پیدا ہوئے اور اسی نسل میں کام کر کے آپ کو ساتھیوں کی وہ ٹیم حاصل ہوئی جس نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

اصحاب رسول ﷺ کا دور
اصحاب رسول سے مراد اصحاب محمد ( ﷺ ) ہیں۔ اصحاب محمد ( ﷺ ) پیغمبروں کی تاریخ میں ایک مستثنی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اجتماعی کوشش سے، تاریخ میں پہلی بار یہ کار نامہ انجام دیا کہ توحید کے مشن کو دعوت کے مرحلے سے آگے بڑھا کر، انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا۔ اصحاب رسول ( ﷺ ) کی کوششوں سے تاریخ میں ایک نیا عمل جاری ہوا۔ بعد کے تمام سماجی اور سیاسی اور سائنسی انقلابات اسی تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔

مسلم تہذیب کا دور
مسلم تہذیب کا دور سے مراد وہ دور ہے جو رسول ( ﷺ) اور اصحاب رسول کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ یہ دور مکہ اور مدینہ میں شروع ہوا، پھر دمشق اور بغداد اور قرطبہ ہوتے ہوئے وہ مغربی یورپ تک پہنچ گیا۔ اس دور کو مسلم تہذیب کا دور کہا جاسکتا ہے۔
مسلم تہذیب کے دور میں،فطرت (nature) کو پرستش کے بجائے تدبیر اور تسخیر کا موضوع بنایا گیا۔ جن ستاروں کو اس سے پہلے انسان دیوتا سمجھ کر پوجتا تھا، ان کے مطالعے اور مشاہدے کے لیے مسلم شہروں میں رصد گاہیں قائم ہوئیں، وغیرہ۔ مسلم تہذیب کے رول کا اعتراف مورخین نے واضح طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر بریفالٹ ( Robert Briffault) نے لکھا ہے کہ یہ بہت زیادہ قرین قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی:
It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial
civilization would never have arisen at all.( The Making of Humanity, P.202)

مغربی تہذیب کا دور
مغربی تہذیب کو عام طور پر قدیم یونانی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ Renaissance) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ انتساب درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب دراصل قدیم مسلم تہذیب کی نشاۃ ثانیہ ہے۔ مغربی تہذیب نے اس سائنسی علوم کو تکمیل تک پہنچایا، جس کا آغاز مسلم تہذیب کے زمانے میں ہوا تھا۔ مغربی تہذیب نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین (law of nature) کی دریافت کر کے یہ کیا کہ اسلام کی صداقت اور اسلام کی دعوت کے تمام امکانات اعلی ترین سطح پر کھول دئے۔ غالباً یہی تاریخی واقعہ ہے جس کی پیشن گوئی حدیث رسول ﷺ میں ان الفاظ میں کی گئی تھی ( بخاری کی حدیث ہے جس کا نمبر ہے 3062 پڑھنے والے حضرات اس کو دیکھ لیں جزاکم اللہ )

اس حدیث رسول میں جس تائید دین کا ذکر ہے، اس سے مراد تہذیب کے ذریعے وجود میں آنے والی تائید ہے، یعنی فکر و عمل کی سطح پر دین حق کے لیے تمام مواقع کا کھل جانا۔ تائید دین کے اس واقعے کا ابتدائی نصف حصہ مسلم تہذیب کے زمانے میں پیش آیا، اور تائید دین کے اس واقعے کا بقیہ نصف حصہ مغربی تہذیب کے ذریعے انجام پایا۔ مذکورہ حدیث رسول میں فاجر انسان سے مراد دراصل سیکولر انسان ہے۔

اخوان رسول ﷺ کا دور
اخوان رسول ﷺ سے مراد امت محمدی کا وہ دوسرا گروہ ہے جو تاریخ انسانی کے آخری دور میں قیامت سے پہلے غالباً اکیسویں صدی عیسوی میں ظاہر ہوگا۔ وہ حالات کے اعتبار سے اکیسویں صدی عیسوی میں وہی دعوتی جہاد کرے گا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول نے اپنے حالات کے اتبار سے انجام دیا تھا۔ اصحاب رسول اپنے زمانے سے پہلے ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے وارث بنے تھے، اخوان رسول اپنے زمانے سے پہلے ڈھڑھ ہزار سالہ تاریخ کے وارث ہوں گے۔
اصحاب رسول اور اخوان رسول دونوں میں سے کسی کا کام پر اسرار کام نہیں ہوگا، بلکہ دونوں ہی کا یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے معلوم مواقع کو دریافت کریں گے اور ان کو استعمال کرکے انسانیت کے معاملے میں خدا کے منصوبہ کو پورا کریں گے۔

Address

Ahmed Shah Bukhari Road : Kalri : Lyari
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peace Builders Ahmed Shah Bukhari Road posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Peace Builders Ahmed Shah Bukhari Road:

Share