Awan Builders & Developer

Awan Builders & Developer Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awan Builders & Developer, Construction Company, Defence housing Authority, Clifton, Karachi.

Realestate consultant, managing properties, Construction, Maintenance services, civil Engineering services, Interior Designing, Renovation, Color Designing, Stone Work, For ceiling, Wood work, etc

27/05/2026
14/05/2026

Coming soon Inshallah

12/05/2026

Awan Maintenance services
1️⃣ Water proofing
2️⃣ Heat proofing
3️⃣ Leakage & seepage
4️⃣ Fumigation Service
5️⃣ Pest control
6️⃣ Water Tank cleaning
7️⃣ Carpenter, plumbing and electrical
8️⃣ White wash
9️⃣ Deep Cleaning
100% Guaranteed work
All services provide on your doorstep.
Contact us:
0312-9615551

07/05/2026
Renovation in progress
06/05/2026

Renovation in progress

06/05/2026

https://www.facebook.com/awanbd

Realestate consultant, managing properties, Construction, Maintenance services, civil Engineering services, Interior Designing, Renovation, Color Designing, Stone Work, For ceiling, Wood work, etc

04/05/2026

Awan Maintenance services
Water proofing, heat proofing, leakage, seepage, fumigation, pest control, with chemical treatment, carpenter work, plumbing and electrical, White wash services provide on your doorstep. Contact us

اسلام وعلیکم ہمارےاسلامک چینل کو سبسکرائب کریں 🌙"ہماری ہر ویڈیو آپ کے ایمان کو مضبوط کرنے اور علمِ دین بڑھانے کی ایک کوش...
21/02/2026

اسلام وعلیکم
ہمارےاسلامک چینل کو سبسکرائب کریں 🌙"
ہماری ہر ویڈیو آپ کے ایمان کو مضبوط کرنے اور علمِ دین بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔
ایک سبسکرائب آپ کے لیے چند سیکنڈ، مگر ہمارے لیے حوصلہ اور آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔
دین کی بات کو آگے پھیلائیں، چینل کو سبسکرائب کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ جزاکم اللہ خیرًا 🤍"

Share your videos with friends, family, and the world

22/01/2026

File available for sale malir town Residency phase 5

14/01/2026

حضرت ادریس علیہ السلام ( قسط نمبر 3)

" اخنوع اتم سچ کہتے ہو ۔ لاریب ہم گمراہی و ضلالت کی راہ پر ہیں ۔ آج سے ہم تمہارے ہمنوا و ساتھی ہیں ۔ گواہ رہنا ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے خالق گل ۔ رہنا سے معافی مانگتے ہیں ۔“

اخنوع نے سُنا تو خوشی سے اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ مجمع منتشر ہو گیا اور وہ ساتوں خدا شناس اخنوع کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔

اب وہ تنہا نہ تھا ۔ اس کی آواز میں سات آوازیں اور بھی شامل ہو گئی تھیں۔ یہ معمولی خبر نہ تھی ۔ جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی ۔ باطل کے سمندر میں طوفان آگیا ۔ وہ نوجوان جس طرف سے گزرتے کیا مرد اور کیا عورتیں ان کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے لیکن جب کسی کے دل میں حق کا چراغ روشن ہو جاتا ہے تو پھر باطل کا اس پر اثر نہیں ہوتا ۔ انھیں پرواہ نہ تھی کہ کون کیا کہتا ہے۔ جو قدم راہ حق پر اُٹھ چکا تھا وہ واپس آنے والا نہ تھا۔ شہر کے چند ایک سرکردہ ان کے والدین سے ملے تاکہ وہ انھیں اخنوع کا ساتھ دینے سے روکیں لیکن ان کا یہ حربہ کارگر ثابت نہ ہوا ۔ جوں جوں انضوع کے ساتھیوں میں

اضافہ ہوتا جاتا تھا مخالفین کا رویہ شدید ہوتا جا رہا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ اعمال سیاہ کو ترک کر کے صالح کردار کے مالک بن جائیں جب کہ مخالفین چاہتے تھے کہ لوگ گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹکے رہیں ۔

ایک دن اخنوع گھر سے باہر جانے لگا تو ماں نے روک لیا ۔ وہ اس کے

قریب جا کر بیٹھ گیا۔

بیٹا یا اب تمہیں شاد شادی کر لینی چاہیے ۔ وہ بولی

شادی اوه خیرا وہ حیرانگی سے اس کی طرف دیکے ن دیکھنے لگا۔

اس میں حیرانگی کی کون سی بات ہے ؟ باپ نے کہا۔

ابا جان ! ابھی ت ابھی تو مجھے بہت زیادہ کام کرنا ہے ۔"

شادی کام کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ ہمارے بزرگوں کی سنت اور اللہ کا

حکم بھی ہے ۔ باپ نے کہا۔

جیسے آپ کی مرضی ۔"

انضوع نے ادبا کہا اور اُٹھ کر باہر نکل گیا ۔
جیسی لڑکی کی تلاش تھی اُسے ڈھونڈنے میں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی ۔

اننوع کے والدین بروفا کے گھر والوں کو بخوبی جانتے تھے۔ بڑا نیک و پارسا گھرانہ تھا۔ معاشرے کی الائشوں اور گندگیوں سے پاک ۔ بروفا والدین کی اکلوتی لڑکی ہونے کے باوجود بڑی پاک طنیت اور صالحہ تھی ۔ بتوں کے نام سے سخت چڑ تھی۔ دروغ گوئی و غیبت سے نا آشنا - طیب سیرت کے ساتھ حسن و جمال میں بھی بے مثال تھی ۔ اس کے والدین کو بھی اخنوع جیسے لڑکے کی تلاش تھی ۔ فوراً بات پکی ہو گئی اور چند دنوں کے اندر اندر وہ حضرت شیث علیہ السلام " کی شریعت کے مطابق رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔ شادی کے وقت اخنوع کی عمر پینسٹھ سال تھی ۔ شادی میں جتنے لوگوں نے شرکت کی سب کے سب صالحین تھے ۔

شادی کی صبح اخضوع جب کمرے سے باہر آیا تو اس کی پیشانی میں چھپکتا ہوا نور محمدی موجود نہ تھا وہ بروفا کے طاہر رحم میں منتقل ہو چکا تھا۔ اس کے والدین نے دیکھا تو خوشی کی انتہا نہ رہی ۔

ایک دن اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے میں سے سو افراد کو جو سب سے زیادہ صالح ہوں منتخب کر دیں ۔ پھر سو میں سے ستر اشخاص جو زیادہ قابل نیک اور با صلاحیت تھے وہ چھنے گئے ۔ بعد ازاں ان میں سے دس کا انتخاب کیا گیا جو تمام اوصاف حمیدہ سے متصف تھے ۔ آخر کار ان دس میں سے سات کو چنا جو واقعی سب میں سے بہترین تھے ۔ انتخاب کے بعد وہ ان سات افراد کو ساتھ لے کر آبادی سے باہر جنگل میں چلا گیا ۔ وہاں ایک جگہ پہنچ کر وہ رکا اور اُن سے مخاطب ہو کر کہا۔

میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے صاحب شریعت بنا دے اور اپنی عبادت کا صحیح طریقہ تعلیم فرمادے اور تم سب آمین کہنا ۔"

بہتر ساتھیوں نے کہا ۔ پھر ان سب نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھ کر پھیلا دیئے ۔ اخنوع دعا مانگتا تھا اور باقی سب آمین کہتے تھے ۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ۔ دین کی طلب کی دعا کو شرف قبولیت بخشا گیا لیکن ہنوز طریق عبادت تعلیم نہ کیا گیا ۔ وہ پھر مصروف دُعا ہو گیا ۔ ایسا سماں چرخ نیلی فام نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ جنگل کی پر اسرار خاموشی میں دعا اور آمین کی آوازوں نے عجیب سماں باندھ رکھا تھا ۔ کافی دیر کے بعد خدائے بزرگ و برتر نے کرم فرمایا ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھیں صحیفے لے کر تشریف لائے جن میں احکام الہی رقم تھے اور منصب نبوت پر سرفراز فرمایا گیا۔ اب آپ صاحب شریعت پیغمبر مرسل تھے۔ واپس آکر آپ نے اعلانِ نبوت فرمایا۔ ساتھی فوراً آپ پر ایمان نے آئے اور آپ کے امتی بن گئے۔

شہر کے سرکردہ اور با اثر افراد پروہت کے گھر جمع ہو رہے تھے۔ وہ بڑے پریشان و درماندہ دکھائی دیتے تھے۔ ایسے نظر آتا تھا جیسے بہت بڑا مسئلہ ان کو در پیش ہے. حالانکہ اس سے قبل وہ لوگ کبھی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوئے تھے ۔ جب سب لوگ آگئے تو پروہت اپنی تمام تر نخوستوں کے ساتھ اُٹھا اور حاضرین کو مخاطب کرکے کہنے لگا ۔

یہ تو تم سب جانتے ہو کہ اخنوع نے دعوی نبوت کر دیا ہے۔ کل تک وہ ہمارے بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتا پھرتا تھا آج پیغمبر بن بیٹھا ہے ۔

وہ نسروک. اشتاد - شمن سین - مکرو اور ابنو خداؤں کو جھوٹا کہتا ہے ۔ اس کی تبلیغ سے بہت سے لوگ اپنے مذہب سے گمراہ ہو چکے ہیں۔ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ اس نے ہمارے بچوں اور عزیزوں کو ہمارے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دیا ہے۔ اگر اس کا آج بندوبست نہ کیا گیا تو پھر ہم سب کو اپنے

دیوتاؤں کے قہر و غضب کا شکار بننے کے لیے تیار رہنا چاہئیے ؟ یہ کہہ کر وہ بیٹھ گیا تو شہر کا ایک یا اثر شخص بولا۔

وہ تو کوئی جادو گر لگتا ہے۔ سختی کے باوجود ہمارے بیچتے اس کا ساتھ چھوڑنے پر آماده و تیار نہیں ۔ ہمارے شہر کے جادو گروں کی جادو گری اس کے مقابل ناکام ہو گئی ہے ۔“

روز افزوں اس کی قوت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہماری سرداریاں اور اثر و رسوخ خاک میں مل جائے گا۔ کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ تمہارا وقار خاک میں مل جائے ؟“۔ قبیلے کے ایک سردار نے کہا ۔
ہرگز نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔“

ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں ۔

کیا تم اتنے بے لبس اور لاچار ہو گئے ہو کہ ایک آدمی کو بھی تبلیغ سے نہیں روک سکتے تاکہ اور لوگ اس کی باتوں کا اثر نہ لیں ۔ علاقے کے ایک اور شخص نے کہا ۔

ہمیں اپنی بقا کے لیے ضرور کوئی نہ کوئی اقدام کرنا چاہئیے ۔ ایک امیر شخص بولا: اس اجلاس میں ہر شخص نے اپنے دل کا غبار نکالا۔ جب سب لوگ ایک جوڑ کر بیٹھ گئے دوسرے کے خیالات سے اچھی طرح زہر آلود ہو گئے تو زہر آلود ہو گئے تو پھر وہ سر جوڑ کر اور تدابیر سوچنے لگے کہ اخنوع کو کس طرح اس کی سرگرمیوں سے با ں کی سرگرمیوں سے باز رکھا جا جا سکتا ہے۔ وہ اخنوع کو ہر طرح کی تکالیف و ایذا دینے کے لیے نت نئے ہتھیار تیز کرنے لگے ۔

شام کے سائے ڈھل رہے تھے ۔ حضرت اخنوع اپنے اصحاب کے ہمراہ بیٹھے انھیں درس رشد و ہدایت دے رہے تھے۔ آپ فرما رہے تھے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کی بیکراں نعمتوں کا شکریہ انسانی طاقت سے باہر ہے ہمیں ہر وقت حمد الہی میں اپنی زبان کو تر رکھنا چاہیے۔ اب ورود کی یاد اور عمل صالح کے لیے خلوص نیت شرط ہے اس لیے جو بھی کام کرو نیت ہمیشہ نیک رکھو ۔“

اسی اثنا میں آپ کا ایک اُمتی آیا ۔ اس نے پروہت کے گھر پر ہونے ) والے اجلاس کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ مخالفین دین حق نے کیا پروگرام بنایا بنایا ہے۔ اے اللہ کے رسول (علیہ السلام) ! اگر حکم ہو تو ہم بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں ۔ “ ایک مخلص نے کہا ۔

ات پر حضرت اخنوع نے فرمایا ہم دشمنان دین کے خلاف جہاد کریں گے مگر ابھی نہیں . تم لوگ کسی بھی مقام پر صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑنا، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔“

آپ کے شب و روز عبادت الہی اور تبلیغ دین پر محیط تھے ۔ جب سے رب کریم نے آپ کو طریقہ عبادت تعلیم فرمایا تھا اس دن سے دیگر ارکان نماز روزہ وغیرہ کی ادائیگی کے علاوہ بارہ ہزار مرتبہ روزانہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے۔ بذریعہ وحی جب آپ کو بتایا گیا کہ شام کو جب آپ کے نیک اعمال آسمان پر چڑھتے ہیں تو ان سے زیادہ کسی اور کے اتنے نیک اعمال نہیں ہوتے تو اس دن سے آپ نے ذکر و عبادت میں مزید اضافہ کر دیا۔ تاکہ رب العالمین آپ سے راضی اور خوش ہو ۔ آپ کی عبادت و ریاضت دیکھ کر فرشتے بھی رشک کرتے تھے اور بارگاہ ایزدی میں آپ سے ملاقات کی درخواست کرتے تھے۔ لہذا اللہ کے اذن سے ملائکہ آپ کے پاس آتے اور کافی دیر تک نشست رہتی تو انھیں اس کا اندازہ ہو جاتا کہ آپ عالم بالا کی تمام باتوں میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں ۔

احکام الہیہ کے مطابق آپ تبلیغ فرمانے کے لیے مختلف جگہوں اور قبائل میں تشریف لے جاتے تھے ۔ ایک دن ایک قبیلے کے لوگوں سے مخاطب ہو کر انھیں بت پرستی سے باز رہنے اور خدائے واحد کی عبادت کرنے کی تلقین فرما رہے تھے کہ درمیان میں سے ایک بے ادب اُٹھ کر بولا ۔

تم اپنی تقریر بند کرو ہم کچھ سننا نہیں چاہتے " اہتے ۔ اس کے منہ سے جھاگ

اڑ رہا تھا۔

آپ نے اس کی طرف دیکھا اور پھر لوگوں کو خطاب کرنے لگے۔ اسی اثنا میں ایک پتھر آیا ۔ آپ کی مبارک پیشانی پر لگا جس سے مقدس خون کے قطر نے بہنے لگے. آپ کے اصحاب سامنے آگئے ۔ اب پتھروں کی بارش ہونے لگی لیکن کسی کے پائے استقلال و ہمت میں جنبش تک نہیں آئی ۔

رک جاؤ بے شرمو ! اخنوع نے کوئی غلط بات نہیں کہی ۔ پتھر برسانے والوں

نے جب دیکھا کہ ان کے قبیلے کے ہی چند لوگ ان کو ڈانٹ رہے ہیں تو راہ فرار اختیار کر گئے ۔ مجمع منتشر ہو گیا اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کی حمایت کی تھی ایمان لے آئے۔

کفار و مشرکین کی انتہائی کوشش تھی کہ وہ آپ کو تبلیغ حق سے روک دیں۔ لیکن اللہ کے دین کو غالب ہونے سے کون روک سکتا تھا۔ وہ اپنی بساط کے مطابق آپ کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انھوں نے حضرت انوع علیہ السلام کو اللہ کا پیغمبر اور رسول تسلیم کر لیا تو ان کی اپنی سرداریاں اور لیڈریاں ختم ہو جائیں گی اس لیے شیطان اور نفس امارہ انھیں ایسا کرنے سے روک رہے تھے ۔

آپ شریعت اور آسمانی صحیفوں کی بہت زیادہ تعلیم دیا کرتے تھے۔ گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء علیہ السلام کے طریقے اور ان کی تعلیمات کا درس دیتے تھے۔ لہذا پڑھانے کی اس کثرت کی وجہ سے آپ ادریس کے لقب سے ملقب ہوئے۔ آپ آپ اس ا لقب سے اس اس قدر قدر مشہور مشہور ہوئے ہوئے کہ کہا اصل نام پر غالب آگیا لوگ اور آپ کو اسی نام سے یاد کرنے لگے ۔

حضرت ادریس صائم الدہر تھے۔ بوقت افطاری آپ کا کھانا بہشت سے آتا تھا اور جو بچ جاتا وہ واپس چلا جاتا تھا ۔ ایک دن ملک الموت اللہ کے امر سے بہ شکل انسانی مہمان بن کر آپ کے پاس آئے۔ جب شام ہوئی تو افطاری کے لیے کھانا آیا تو آپ نے مہمان کو پیش کر دیا ۔ اس نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھایا اور قدم پر قدم رکھ کر بھارت کرتا رہا۔ حضرت ادریس علیہ السلام اس کا حال دیکھ کر متعجب ہوئے اور سوچنے کے

یہ کون شخص ہے ؟"

دوسرے دن آپ نے مہمان سے کہا ۔

صحرا میں چل کر تم میرے ساتھ اللہ کی قدرت دیکھو

وہ ساتھ ہو لیا ۔ ایک گندم کے کھیت کے قریب پہنچے تو مسافر نے کہا چلو ! با-اس کھیت سے چند خوشے کھائیں ۔"

بڑے عجیب ہو، رات حلال کھانا تو کھایا نہیں اور اب حرام کھانا چاہتے ہو آپ نے کہا ۔

چلتے چلتے وہ ایک باغ میں گئے۔ وہاں انگور لگے ہوئے تھے ۔ اجنبی مسافر نے انگور کھانے کا ارادہ کیا اور اُدھر بڑھا، حضرت ادریس علیہ السلام نے دیکھا تو فرمایا " تصرف ملک غیر میں حرام ہے ۔

وہ رک گیا ۔ دونوں آگے بڑھے۔ سامنے ایک بحری نظر آئی ۔ مسافر نے اُسے کھانے کا قصد کیا تو آپ نے کہا۔
بیگانی بکری کو ذبح کر کے کھانا ممنوع ہے ۔

اسی طرح تین دن گزر گئے ۔ باہم گفت باہم گفتگو ہوتی رہی ۔ اس کی حرکار ت رہی ۔ اس کی حرکات غمانہ تھیں کہ بنی آدم میں سے نہیں ہے اور کہا کہ اسے شخص بتاؤ تو سہی کہ تم کون ہو ؟ اس نے بتایا تو آپ نے کہا۔

شاید تم میری جان قبض کرنے کے لیے آئے ہو ۔ “

نہیں ۔ میں تو میں تو صرف ملاقات اور خوش طبیعی کے لیے آیا تھا ۔ “ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے کہا اور آسمانوں پر تشریف لے گئے۔

حضرت ادریس علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مخالفت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک روزہ شدید ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا جس کے آثار آپ کے چہرہ انور سے ہویدا تھے ۔ اسی حال میں گھر پہنچے ۔ ماں کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ پہلے کی طرح اس نے بیٹے کی دلجوئی نہیں کی ۔

کیا بات ہے ماں آج بڑی خوش ہو ۔ “ تمہیں مبارک ہو بیٹا ۔

کس بات کی ؟" آپ نے پوچھا

اللہ تعالی نے تمہیں فرزند عطا فرمایا ہے ۔“

سناتا آپ نے سنا تو سب تکلیف و کلفت بھول ول گئے۔ گئے۔ اندر تشریف لے گئے۔ اہلیہ محترم کے پہلو میں ایک چاند سا بچہ لیٹا ہوا تھا۔ اس کی پیشانی مبارک سے نور محمدی کی شعاع نکل رہی تھی جو کبھی آپ کی پیشانی اظہر میں تھی ۔ آپ اپنے رب کا شکر بجا لائے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنے لگے ۔ بیٹے کا نام متوشیخ

رکھا جس کے عربی زبان میں معنی منشرح ہیں ۔

دشمنان دین کی ایذا رسانیوں اور تکالیف پہنچانے کے باوجود آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ ایک دن شہر کے سرکردہ دن کے لوگ پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور صلاح مشورہ کرنے لگے کہ وہ کسی طرح لوگوں کو حضرت اور لین کے اثر سے دور رکھ سکتے ہیں ؟ چنانچہ انھوں نے شہر کے سب سے زیادہ شریر اور مکار شخص کو وفد کا لیڈر بنا کر آپ کے پاس بھیجا ۔ اُس وقت حضرت اور لیس اپنے اصحاب کے ہمراہ بیٹھے انھیں پند و نصائح فرما رہے تھے ۔

واللہ اعلم بالصواب ۔اگر کہیں لکھنے میں غلطی ہو گئی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے۔
دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
ISLAM Deen e Fitrat
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

14/01/2026

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ
باب 23
عنوان: اسلام کا پہلا مرکز

حضرت صہیب اور حضرت عمار رضی اللہ عنہما دونوں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے. آپ نے دونوں کو اپنے پاس بٹھایا. جب یہ بیٹھ گئے تو آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کریم کی جو آیات آپ پر اس وقت تک نازل ہو چکی تھیں ، وہ پڑھ کر سنائیں . ان دونوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا. اسی روز شام تک یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رہے. شام کو دونوں چپکے سے چلے آئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ سیدھے اپنے گھر پہنچے تو ان کے ماں باپ نے ان سے پوچھا کہ دن بھر کہاں تھے. انہوں نے فوراً ہی بتا دیا کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں . ساتھ ہی انہوں نے ان کے سامنے بھی اسلام پیش کیا اور اس دن انہوں نے قرآن پاک کا جو حصہ یاد کیا تھا وہ ان کے سامنے تلاوت کیا. ان دنوں کو یہ کلام بے حد پسند آیا. دونوں فورا ہی بیٹے کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے. اسی بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو الطیب المطیب کہا کرتے تھے یعنی پاک باز اور پاک کرنے والے.
اسی طرح حضرت عمران رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو کچھ عرصے بعد ان کے والد حضرت حصین رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے. ان کے اسلام لانے کی تفصیل یوں ہے.
ایک مرتبہ قریش کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کے لئے آئے. ان میں حضرت حصین رضی اللہ عنہ بھی تھے. قریش کے لوگ تو باہر رہ گئے. حصین رضی اللہ عنہ اندر چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا.
ان بزرگ کو جگہ دو.
جب وہ بیٹھ گئے تب حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے کہا.
یہ آپ کے بارے میں ہمیں کیسی باتیں معلوم ہو رہی ہیں ، آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا.
اے حصین آپ کتنے معبودوں کو پوجتے ہیں ؟
حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.
ہم سات معبودوں کی عبادت کرتے ہیں . ان میں سے چھ تو زمین میں ہیں ، ایک آسمان پر
اس پر آپ نے فرمایا.
اور اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو پھر آپ کس سے مدد مانگتے ہیں
حضرت حصین رضی اللہ عنہ بولے.
اس صورت میں ہم اس سے دعا مانگتے ہیں جو آسمان میں ہے.
یہ جواب سن کر آپ نے فرمایا.
وہ تو تنہا تمہاری دعائیں سن کر پوری کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے ہو. اے حصین کیا تم اپنے اس شرک سے خوش ہو. اسلام قبول کرو، اللہ تعالٰی تمہیں سلامتی دے گا.
حضرت حصین رضی اللہ عنہ یہ سنتے ہی مسلمان ہو گئے. اسی وقت ان کے بیٹے حضرت عمران رضی اللہ عنہ اٹھ کر باپ کی طرف بڑھے اور ان سے لپٹ گئے.
اس کے بعد حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا.
انہیں ان کے گھر تک پہنچا کر آئیں .
حضرت حصین رضی اللہ عنہ جب دروازے سے باہر نکلے تو وہاں قریش کے لوگ موجود تھے. انہیں دیکھتے ہی بولے.
لو یہ بھی بے دین ہو گیا.
اس کے بعد وہ سب لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور صحابہ کرام نے حضرت حصین رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر تک پہنچایا.
اسی طرح تین سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خفیہ طور پر تبلیغ کرتے رہے. اس دوران جو شخص بھی مسلمان ہوتا تھا. وہ مکہ کی گھاٹیوں میں چھپ کر نمازیں ادا کرتا تھا. پھر ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کچھ دوسرے صحابہ کے ساتھ مکہ کی ایک گھاٹی میں تھے کہ اچانک وہاں قریش کی ایک جماعت پہنچ گئی. اس وقت صحابہ نماز پڑھ رہے تھے. مشرکوں کو یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا، وہ ان پر چڑھ دوڑے، ساتھ میں برا بھلا بھی کہہ رہے تھے، ایسے میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک کو پکڑ لیا اور اس کو ایک ضرب لگائی. اس سے اس کی کھال پھٹ گئی، خون بہہ نکلا. یہ پہلا خون ہے جو اسلام کے نام پر بہایا گیا.
اب قریشی دشمنی پر اتر آئے. اس بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لے آئے تاکہ دشمنوں سے بچاؤ رہے. اس طرح حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ مکان اسلام کا پہلا مرکز بنا. اس مکان کو دار ارقم کہا جاتا ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دار ارقم میں تشریف لانے سے پہلے لوگوں کی ایک جماعت مسلمان ہو چکی تھی. اب نماز دار ارقم میں ادا ہونے لگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وہیں پر نماز پڑھاتے، وہیں بیٹھ کر عبادت کرتے اور مسلمانوں کو دین کی تعلیم دیتے. اس طرح تین سال گزر گئے. پھر اللہ تعالٰی نے آپ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم فرمایا. اعلانیہ تبلیغ کی ابتدا بھی دار ارقم سے ہوئی، پہلے آپ یہاں خفیہ طور پر دعوت دیتے رہے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے سورہ الشعراء میں آپ کو حکم فرمایا.
اور آپ اپنے نزدیک کے اہل خاندان کو ڈرائیے.
یہ حکم ملتے ہی آپ کافی پریشان ہوئے. یہاں تک کہ آپ کی پھوپھیوں نے خیال کیا کہ آپ کچھ بیمار ہیں چنانچہ وہ آپ کی بیمار پرسی کے لیے آپ کے پاس آئیں . تب آپ نے ان سے فرمایا.
میں بیمار نہیں ہوں بلکہ مجھے اللہ تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو آخرت کے عذاب سے ڈراؤں . اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تمام بنی عبد المطلب کو جمع کروں اور انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دوں .
یہ سن کر آپ کی پھوپھیوں نے کہا.
ضرور جمع کریں مگر ابو لہب کو نہ بلائیے گا کیونکہ وہ ہرگز آپ کی بات نہیں مانے گا.
ابو لہب کا دوسرا نام عبد العزی تھا. یہ آپ کا چچا تھا اور بہت خوبصورت تھا مگر بہت سنگدل اور مغرور تھا.
دوسرے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی عبد المطلب کے پاس دعوت بھیجی. اس پر وہ سب آپ کے ہاں جمع ہو گئے. ان میں ابو لہب بھی تھا. اس نے کہا.
یہ تمہارے چچا اور ان کی اولادیں جمع ہیں تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو ، اور اپنی بے دینی کو چھوڑ دو، ساتھ ہی تم یہ بھی سمجھ لو کہ تمہاری قوم میں یعنی ہم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ تمہاری خاطر سارے عربوں سے دشمنی لے سکیں ، لہذا اگر تم اپنے معاملے پر اڑے رہے تو خود تمہارے خاندان والوں ہی کا سب سے زیادہ فرض ہو گا کہ تمہیں پکڑ کر قید کر دیں ، کیونکہ قریش کے تمام خاندان اور قبیلے تم پر چڑھ دوڑیں ، اس سے تو یہی بہتر ہو گا کہ ہم ہی تمہیں قید کر دیں . اور میرے بھتیجے حقیقت یہ ہے کہ تم نے جو چیز اپنے رشتے داروں کے سامنے پیش کی ہے اس سے بد تر چیز کسی اور شخص نے آج تک پیش نہیں کی ہوگی. آپ نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی اور حاضرین کو اللہ کا پیغام سنایا. آپ نے فرمایا.
اے قریش. کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں .
آپ نے ان سے یہ بھی فرمایا.
اے قریش، اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ.
وہاں صرف آپ کے رشتے دار ہی جمع نہیں تھے بلکہ قریش کے دوسرے قبیلے بھی موجود تھے، اس لیے آپ نے ان کے قبیلوں کے نام لے لے کر انہیں مخاطب فرمایا یعنی آپ نے یہ الفاظ ادا فرمائے.
اے بنی ہاشم، اپنی جانوں کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ.... اے بنی عبد شمس، اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچاو، اے بنی عبد مناف، اے بنی زہرہ، اے کعب بن لوی، اے بنی مرو بن کعب، اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، اے صفیہ، محمد کی پھوپھی، اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ.
ایک روایت کے مطابق آپ نے یہ الفاظ بھی فرمائے.
نہ میں دنیا میں تمہیں فائدہ پہنچا سکتا ہوں نہ آخرت میں کوئی فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں . سوائے اس صورت کے کہ تم کہو لا الہ الا اللہ. چونکہ تمہاری مجھ سے رشتہ داری ہے اس لیے اس کے بھروسے پر کفر اور شرک کے اندھیروں میں گم نہ رہنا.
اس پر ابو لہب آگ بگولہ ہو گیا. اس نے تلملا کر کہا.
تو ہلاک ہو جائے. کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا.
پھر سب لوگ چلے گئے

Address

Defence Housing Authority, Clifton
Karachi
75500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awan Builders & Developer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share