10/05/2020
(محمود احمد غزنوی)
جب کوئی پلاٹ لینے کا ارادہ ہو تو جو شخص اس پلاٹ کی ملکیت کا دعویدار ہو، اس سے اس بات کا ثبوت مانگا جاتا ہے کہ کیا واقعی وہ اس پلاٹ کا مالک ہے یا نہیں۔۔۔ثبوت دینے کیلئے وہ شخص پلاٹ کی رجسٹری آپکو دکھاتا ہے جس پر پلاٹ کا محلِ وقوع ، حدودِ اربعہ، پرانے مالک کا نام اور موجودہ مالک کا نام ،پلاٹ کب خریدا گیا تھا اور گواہاں کے دستخط وغیرہ ہوتے ہیں اور یہ سب گورنمنٹ کے ایک اسٹامپ پیپر پر درج ہوتا ہے۔۔۔ لیکن چونکہ یہ سب کچھ جعلی بھی بنایا جاسکتا ہے، اسلئے رجسٹری کا انتقال نمبر بھی دیکھنا پڑتا ہے، یہ انتقال نمبر دراصل گورنمنٹ کی فائلوں میں اس پلاٹ کی تازہ ترین ملکیت اور اس رجسٹری کے حوالے سے ایک ریفرنس نمبر (یا شائد فائل نمبر) ہوتا ہے۔۔۔جب یہ سب کچھ چیک کرلیا تو اسکے بعد اس پلاٹ کی فرد نکلوائی جاتی ہے۔ فرد ایک ڈاکومنٹ ہے جو گورنمنٹ کی طرف سے مقرر کئے گئے پٹواریوں کے پاس ہوتا ہے اس میں اس پلاٹ کا حدود اربعہ اور ملکیت کی تازہ ترین معلومات ہوتی ہیں۔ ایک فرد جب نکلوائی جاتی ہے تو اسکی معیاد 15 دن ہوتی ہے اسکے بعد وہ ایکسپائر ہوجاتی ہے اور نئی فرد نکلوانی پڑتی ہے۔ جب آپ نے فرد نکلوا لی اور اس فرد میں درج مندرجات سے آپ مطمئن ہوگئے، تب پراپرٹی خریدنے کیلئے کچھ ایڈوانس (بیعانہ) وغیرہ دیکر نئی رجسٹری بننے کیلئے دے دیتے ہیں۔ جب وہ رجسٹری پرنٹ ہوکر آجاتی ہے تو رقم کی بقیہ ادائیگی کرکے گواہان کی موجودگی میں دستخط اور مہریں وغیرہ لگ جاتی ہیں اور اس رجسٹری کو دوبارہ کچہری میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے اسکا نیا انتقال نمبر لگ کر آجاتا ہے۔۔۔
مجھے بس اتنا ہی پتہ تھا، جو آپ کی خدمت میں عرض کردیا۔۔۔باقی کی معلومات کیلئے مزید جستجو کریں ☺