16/03/2025
حکومت کی نئی سولر پالیسی: صارفین سے زیادتی، معیشت کی تباہی، اور تھرمل پاور و فیول امپورٹ مافیا کا فائدہ
نیٹ میٹرنگ اور سولر توانائی کی تیز رفتار ترقی
✅ نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد اکتوبر 2024 میں 226,440 سے دسمبر 2024 میں 283,000 تک پہنچ گئی، یعنی صرف دو ماہ میں 24.8% اضافہ۔
✅ اگر یہی رفتار برقرار رہی، تو دسمبر 2025 تک 700,000 صارفین نیٹ میٹرنگ سے منسلک ہو سکتے ہیں، اور سولر توانائی کی پیداواری صلاحیت 4,124 میگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی۔
✅ سولر توانائی کی تنصیب 2021 میں صرف 321 میگاواٹ تھی جو دسمبر 2024 تک 4,124 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جس سے مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
سولر توانائی کے ذریعے درآمدی بل اور قدرتی گیس کی بچت
✅ دسمبر 2024 تک نیٹ میٹرنگ سے 3.11 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جس سے $360 ملین (PKR 100 ارب سے زائد) کے ایندھن کی بچت ہوئی۔
✅ اگر یہی ترقی جاری رہی، تو 2025 میں سولر پاور 7.7 ارب یونٹ بجلی پیدا کر سکتی ہے، جس سے تقریباً $900 ملین (PKR 250 ارب) کی مزید بچت ہوگی۔
✅ زیادہ سولر توانائی کی موجودگی سے گھریلو صارفین کے لیے قدرتی گیس کی فراہمی بہتر ہوگی اور سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کم ہو سکتی ہے۔
✅ بجلی سے پانی گرم کرنے اور ہیٹنگ کے زیادہ استعمال سے مزید قدرتی گیس کی بچت ہوگی، جو کھانے پکانے کے لیے دستیاب رہے گی۔
تھرمل پاور پلانٹس اور غیر ضروری صلاحیت کی ادائیگیاں
ایندھن کی قسم انسٹال شدہ صلاحیت (میگاواٹ) (2020)
مقامی کوئلہ 630
درآمدی کوئلہ 3,642
فرنس آئل 4,768
قدرتی گیس 3,771
ایل این جی 4,861
کل 17,672 میگاواٹ
✅ سولر توانائی کے باعث بجلی کی طلب کم ہونے کے باوجود حکومت سالانہ 1,600 ارب روپے غیر پیداواری تھرمل پلانٹس کو ادا کر رہی ہے۔
✅ اگر یہ غیر ضروری ادائیگیاں ختم کر دی جائیں تو بجلی کے نرخ کم کیے جا سکتے ہیں اور گردشی قرضے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
ای سی سی کی 13 مارچ 2025 کی پالیسی ترامیم – ایک تباہ کن فیصلہ
✅ ای سی سی نے نیٹ میٹرنگ میں خطرناک ترامیم منظور کر لیں، جس کے تحت امپورٹڈ اور ایکسپورٹڈ بجلی کی ایڈجسٹمنٹ ختم کر دی گئی۔
✅ اب صارفین سولر سے اضافی بجلی صرف 10 روپے فی یونٹ پر بیچیں گے، لیکن خرید 50 روپے فی یونٹ یا اس سے زیادہ پر کریں گے، جس سے سولر سرمایہ کاری میں کمی آئے گی۔
✅ یہ فیصلہ سولر توانائی کے فروغ کو روک دے گا، درآمد شدہ ایندھن پر انحصار بڑھائے گا، اور پاکستان کے توانائی بحران کو مزید خراب کرے گا۔
حکومت کا غلط دعویٰ: “گرڈ صارفین پر بوجھ”
❌ حقیقی بوجھ سولر صارفین نہیں، بلکہ 1,600 ارب روپے کی تھرمل پاور پلانٹس کو دی جانے والی ادائیگیاں ہیں۔
❌ سولر ترقی کو روکنے سے ایندھن کی درآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی معاشی مشکلات مزید بڑھیں گی۔
کون فائدے میں رہا؟ کون نقصان میں گیا؟
✅ فائدہ کس کو ہوا؟
• تھرمل پاور پلانٹ مالکان (جو بغیر بجلی پیدا کیے بھی ادائیگیاں وصول کر رہے ہیں)۔
• ایل این جی اور فرنس آئل کے درآمد کنندگان (کیونکہ سولر کا فروغ رک جائے گا)۔
• واپڈا اور ڈسکوز (جو صارفین کو مہنگی بجلی بیچ کر زیادہ منافع کمائیں گے)۔
❌ نقصان کس کو ہوا؟
• پاکستانی عوام اور کاروباری ادارے (جنہیں اب مہنگی بجلی خریدنی پڑے گی)۔
• حکومت اور معیشت (جو سالانہ اربوں ڈالر ایندھن کی درآمد پر خرچ کرے گی)۔
• توانائی کی خود کفالت (کیونکہ پاکستان پھر سے فرنس آئل اور گیس پر انحصار کرے گا)۔
نتیجہ: ایک ایسی پالیسی جو صرف تھرمل پاور اور فیول امپورٹ مافیا کے مفاد میں ہے
✅ پرانا نیٹ میٹرنگ نظام بحال کیا جائے تو 2025 میں $900 ملین (PKR 250 ارب) کی بچت ممکن ہے، جو معیشت اور توانائی کے شعبے کو مستحکم کرے گی۔
✅ بغیر پیداوار کے تھرمل پاور پلانٹس کو ادائیگیاں ختم کی جائیں اور سولر توانائی کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ عوام کو سستی بجلی ملے اور ایندھن کی درآمدات کم ہوں۔
🔴 حکومت کو 13 مارچ 2025 کی پالیسی فوری واپس لے کر پاکستان کے توانائی کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا!