07/08/2026
یہ تصویر دیکھ کر دل میں 2 طرح کے خیالات آتے ہیں
*1. مثبت پہلو*
32 نئے صوبوں کا منصوبہ اگر ایمانداری سے نافذ ہو تو یہ عوام کے لیے بہت بڑی سہولت ہو سکتی ہے۔
ابھی 1 بڑا صوبہ اتنا بڑا ہے کہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو کام کے لیے 500km سفر کرنا پڑتا ہے۔
اگر ہر ڈویژن ہی صوبہ بن جائے تو:
- مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے
- ترقیاتی فنڈز براہ راست ضلع تک پہنچیں گے
- روزگار اور یونیورسٹیاں ہر علاقے میں بنیں گی
- Lakki Marwat جیسے علاقوں کو بھی اپنا حصہ ملے گا
*2. تشویش*
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس اتنے مخلص لیڈر ہیں جو نئے صوبے بنا کر عوام کی خدمت کریں گے؟
یا صرف نئے عہدے، نئی اسمبلیاں اور نیا خرچہ بڑھ جائے گا؟
سب سے پہلے ہمیں تعلیم، صحت اور انصاف ٹھیک کرنا ہوگا۔ صوبے نام سے نہیں، کام سے بنتے ہیں۔
*آخر میں:*
میری رائے میں انتظامی تقسیم ضروری ہے، لیکن اس سے پہلے نیت اور نظام ٹھیک کرنا ہوگا۔
اگر نیت عوام کی خدمت ہے تو 32 صوبے بھی کم ہیں۔ اور اگر نیت سیاست ہے تو 4 صوبے بھی بہت ہیں۔
اللہ پاکستان کے لیے بہتر فیصلہ کرے۔ آمین 🇵🇰
---
*آپ کیا سوچتے ہیں؟* کمنٹ میں بتائیں 👇
#پنجاب #سندھ #بلوچستان #خیبرپختونخوا