28/07/2026
کیا کوئلے کی مارکیٹ کو جان بوجھ کر یرغمال بنایا جا رہا ہے؟🤔🤔🤔
یہ تحریر کچھ طویل ضرور ہے، لیکن!
اگر آپ کوئلے کی مارکیٹ کو اور پردے کے پیچھے ہونے والی سازشوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو گزارش ہے کہ اسے مکمل ضرور پڑھیں۔ اور اگر آپ کو اس تحریر میں وزن محسوس ہو تو اسے دوسروں تک بھی ضرور پہنچائیں۔ کیونکہ خاموشی ہمیشہ طاقتور اور مفاد پرست حلقوں کے حق میں جاتی ہے۔
لاکھڑا کول فیلڈ ایک بار پھر بند... آخر کب تک؟
لاکھڑا کول فیلڈ، ضلع جامشورو میں مقامی ٹرانسپورٹ یونین نے رائلٹی ٹیکس میں 300 روپے فی ٹن اضافے کے خلاف 25 جولائی سے لوڈنگ بند کر رکھی ہے۔ آج مسلسل چوتھا دن ہے کہ کوئلے کی سپلائی معطل ہے۔
لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہڑتال کیوں ہوئی۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ اُس وقت ہی کیوں ہوتا ہے جب کوئلے کی طلب کم ہونے لگتی ہے؟
کیا یہ محض اتفاق ہے... یا ایک منظم کاروباری حکمتِ عملی؟
گزشتہ 15 ماہ کے دوران ایک ایسا سلسلہ بار بار سامنے آیا ہے جسے اب محض اتفاق قرار دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جب بھی مارکیٹ میں طلب کم ہونے لگتی ہے، اچانک کوئی نہ کوئی احتجاج، ہڑتال یا تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔ سپلائی رک جاتی ہے، مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے، قیمتیں نیچے آنے کے بجائے اوپر چلی جاتی ہیں، اور چند دن بعد سب کچھ دوبارہ معمول پر آ جاتا ہے۔
یہ سوال اب صرف بھٹہ مالکان نہیں بلکہ پوری مارکیٹ کر رہی ہے کہ آخر اس بار بار دہرائے جانے والے طریقۂ کار سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
ماضی کیا کہتا ہے؟
کئی دہائیوں سے یہ معمول رہا ہے کہ 15 جولائی سے 15 ستمبر تک مون سون کے باعث بھٹہ جات بند ہونے سے کوئلے کی طلب کم ہوتی تھی، اور اس کے نتیجے میں قیمتیں بھی نیچے آ جاتی تھیں۔
اسی طرح سردیوں میں دھند اور سموگ کے باعث بھی بھٹہ جات بند ہوتے تھے اور مارکیٹ قدرتی طور پر قیمتوں میں کمی دیکھتی تھی۔
یہی آزاد مارکیٹ کا فطری اصول ہے۔
لیکن گزشتہ 15 ماہ میں یہ اصول کیوں بدل گیا؟
گزشتہ 15 ماہ میں ہر مرتبہ طلب کم ہوئی، مگر قیمتیں کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہیں۔
کیوں؟
کیونکہ جیسے ہی مارکیٹ میں ریٹ نیچے آنے کے امکانات پیدا ہوئے، سپلائی چین میں رکاوٹ آ گئی۔
کبھی تین دن...
کبھی ایک ہفتہ...
اور کبھی دس دن تک لوڈنگ بند رہی۔
مطالبات ہر مرتبہ وہی رہے، لیکن مستقل حل آج تک سامنے نہیں آیا۔
البتہ ایک چیز ہر بار ضرور ہوئی۔
مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوئی، قیمتیں بڑھیں، اور کچھ حلقوں کو کروڑوں روپے کا مالی فائدہ پہنچا۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ذرا خود دیکھ لیجیے۔
25-04-2025 — 10,500 روپے
01-06-2025 — 11,000 روپے
16-06-2025 — 11,500 روپے
16-07-2025 — 11,000 روپے
01-10-2025 — 11,500 روپے
01-11-2025 — 12,000 روپے
16-12-2025 — 13,000 روپے
16-03-2026 — 13,500 روپے
01-04-2026 — 14,000 روپے
16-06-2026 — 14,500 روپے
01-07-2026 — 15,000 روپے
ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ سال مون سون شروع ہوتے ہی کوئلے کے ریٹ میں 500 روپے فی ٹن کمی کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد مسلسل سپلائی میں تعطل اور غیر معمولی شارٹنگ کے دوران صرف ایک سال میں قیمت 10,500 روپے سے بڑھ کر 15,000 روپے فی ٹن تک جا پہنچی۔
اگر مسئلہ صرف 300 روپے فی ٹن کا ہے تو پھر پورا نظام کیوں مفلوج کیا جا رہا ہے؟
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر معاملہ واقعی صرف 300 روپے فی ٹن رائلٹی کی مد میں اضافی ادائیگی کا ہے تو اس کا کاروباری حل موجود ہے۔
ٹرانسپورٹ یونین کے منتظمین باآسانی کرایے میں مناسب اضافہ کر کے یہ رقم وصول کر سکتے ہیں۔
گزشتہ 15 ماہ کے دوران مارکیٹ نے بارہا دیکھا ہے کہ حکومت کی جانب سے جب بھی ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، ٹرانسپورٹ یونین نے کرایوں میں 100 یا 200 روپے نہیں بلکہ 1,500 سے 1,800 روپے فی ٹن تک اضافہ کیا، اور مارکیٹ نے ان حالات میں بھی خود کو ایڈجسٹ کیا۔
اگر ماضی میں کرایوں میں اتنا بڑا اضافہ ممکن رہا ہے تو پھر صرف 300 روپے فی ٹن رائلٹی کے معاملے پر پورے لاکھڑا کول فیلڈ کی لوڈنگ روک دینا، سپلائی چین کو مفلوج کر دینا اور پورے ملک کی مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دینا آخر کس منطق کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہ سوال اب پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے کہ کیا مسئلہ واقعی صرف 300 روپے کا ہے، یا اس کے پس منظر میں ایسے طاقتور کاروباری مفادات بھی موجود ہیں جو ہر بار مصنوعی قلت پیدا ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
اس سال پھر وہی صورتحال...
16 جولائی سے مون سون کا سیزن دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔
پنجاب بھر میں تقریباً 70 فیصد بھٹہ جات بند ہو چکے ہیں، جبکہ مزید بھٹے بھی مسلسل بند ہو رہے ہیں۔
گزشتہ دس دن سے کوئلے کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی تھی، اور مارکیٹ کے حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ قیمتوں میں کمی کے امکانات بہت مضبوط تھے۔
لیکن عین اسی موقع پر ایک مرتبہ پھر سپلائی روک دی گئی۔
یہی وہ نکتہ ہے جو مارکیٹ میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ محض اتفاق ہے یا گذشتہ سے پیوستہ دہرایا جانے والا ایسا طریقۂ کار، جس کے ذریعے ڈیمانڈ اور سپلائی کے قدرتی توازن کو متاثر کیا جاتا ہے۔
نقصان کون اٹھا رہا ہے؟
جب سے حیدرآباد کے بعض ٹرانسپورٹرز مائن اونرز بھی بن گئے ہیں، مفادات کے اس گٹھ جوڑ نے مارکیٹ کے توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔
اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کا ہو رہا ہے جن کی آواز سب سے کمزور ہے اور جن کا اس فیصلے میں کوئی کردار ہی نہیں۔ جیسے کے مائن کے اندر جان خطرے میں ڈال کر کوئلہ نکالنے والے اور مائن کے باہر سخت گرمی اور حبس کے ماحول میں کام کرنے والے ہمارے غیور پٹھان اور بلوچ مزدور۔
سڑکوں پر دھکے کھاتے، کچے کے علاقے میں لٹتے، ہائی وے، پٹرولنگ اور ٹریفک پولیس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتے ہمارے محنت کش غریب ڈرائیور۔
محدود وسائل کے ساتھ کاروبار کرنے والے چھوٹے مائن اونرز۔
اور بڑھتے اخراجات، حکومتی پالیسیوں اور ماحولیاتی پابندیوں کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کرتے بھٹہ مالکان۔
دوسری جانب اگر مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی شارٹنگ کے خدشات درست ہیں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ انہی چند بااثر کاروباری حلقوں کو پہنچتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے کروڑوں روپے کا غیر معمولی منافع سمیٹنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔
اب فیصلہ بھٹہ مالکان کو بھی کرنا ہوگا!
اگر واقعی ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی ہے، اور چند طاقتور کاروباری مفادات پوری مارکیٹ کو بار بار غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیتے ہیں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ بھٹہ خشت انڈسٹری بھی اپنی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے۔
بھٹہ مالکان کو چاہیے کہ وہ ایسے مفاد پرست حلقوں پر انحصار کم کرنے کے لیے کوئلے کی متبادل مارکیٹوں کو بھی آزمانا شروع کریں۔
اگر متبادل مارکیٹ کے کوئلے کے استعمال سے وقتی طور پر معیار، جلنے کی رفتار یا دیگر تکنیکی مسائل پیش آتے ہوں، تو ان کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے، تاکہ مستقبل میں پوری انڈسٹری چند افراد یا مخصوص حلقوں کے فیصلوں کی محتاج نہ رہے۔
جب تک خریدار کے پاس متبادل موجود نہیں ہوگا، تب تک مارکیٹ پر دباؤ برقرار رکھنا آسان رہے گا۔ لیکن جس دن بھٹہ مالکان نے متبادل ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کرنا شروع کر دیں، اسی دن مارکیٹ میں حقیقی مقابلے (Competition) کی فضا پیدا ہوگی، اور کسی ایک فریق کے لیے پوری سپلائی چین کو یرغمال بنانا پہلے جیسا آسان نہیں رہے گا۔
اب حکومت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی بھی سوال بن چکی ہے!
اگر واقعی ہر مرتبہ احتجاج کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ سپلائی رک جاتی ہے، قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور مطالبات پھر بھی حل نہیں ہوتے، تو چند سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔
کیا متعلقہ ادارے اس پورے سلسلے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں گے؟
کیا یہ معلوم کیا جائے گا کہ ہر احتجاج سے سب سے زیادہ فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟
کیا ڈیمانڈ اور سپلائی کے قدرتی نظام پر اثراندازی کرنے والے عوامل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی؟
اور کیا ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے مزدور، ڈرائیور، چھوٹے مائن اونرز اور بھٹہ مالکان کو بار بار پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے نجات مل سکے؟
اگر آج بھی ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو اس کا نقصان صرف بھٹہ مالکان یا کوئلہ خریداروں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورا کاروباری نظام عدم اعتماد، غیر یقینی صورتحال اور مصنوعی بحرانوں کی گرفت میں آتا چلا جائے گا۔
آخری سوال!
کیا اب ہر روز یہی ڈرامہ چلے گا؟
یا پھر کوئی ایسا دن بھی آئے گا جب کوئلے کی مارکیٹ کو آزاد ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصولوں کے مطابق چلنے دیا جائے گا؟