Shah Industrial Mining - SIMCO

Shah Industrial Mining - SIMCO currently we are working on Barite and floride. we have pure 4.4gravity barite stoke and also mix Barite stoke too..

26/04/2026
26/04/2026

خیبر پختونخوا میں صنعتی بحران شدت اختیار کر گیا، 400 سے زائد یونٹس بند یا پنجاب منتقل، بے روزگاری میں اضافہ

خیبر پختونخوا میں بجلی، گیس اور سکیورٹی ٹیکسز میں اضافے کے بعد صنعتی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں صنعتی یونٹس یا تو بند ہو چکے ہیں یا صوبے سے پنجاب منتقل ہو رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مختلف صنعتی اداروں، فلور ملز اور سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے باعث صوبے میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور صنعتی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اب تک 400 سے زائد صنعتی یونٹس کی بندش یا منتقلی رپورٹ ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باعث صوبے میں بے روزگاری کی شرح میں تقریباً 10 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پشاور، صوابی اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع سے صنعتی یونٹس کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں پہلے ہی صنعتی سرگرمیاں محدود سطح پر تھیں، جو اب مزید کمزور ہو گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف صنعتی ترقی متاثر ہوگی بلکہ صوبے کی مجموعی معیشت پر بھی طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


19/04/2026
18/04/2026

پنجاب کی طرز پر خیبرپختونخواہ میں بھی ماینینگ کے لیئے فارسٹ قوانین میں ترامیم ضروری ھے۔ شیربندی خان مروت چیئرمین فرنٹیئر مائیں اونرز ایسوسییشن خیبرپختونخواہ۔
پنجاب حکومت نے مائننگ سیکٹر کو درپیش مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے Forest Act, 1927 میں اہم ترامیم پیش کر دی ہیں۔ ان مجوزہ ترامیم کے تحت اگر وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی منصوبہ "قومی اہمیت" کا قرار پائے، تو حکومت مقررہ شرائط کے مطابق کسی بھی ریزروڈ (محفوظ) یا پروٹیکٹڈ (تحفظ شدہ) جنگل کے مخصوص حصے کو غیر محفوظ قرار دے سکے گی، تاکہ وہاں ترقیاتی یا معدنی منصوبے قانونی طور پر آگے بڑھ سکیں۔
ان ترامیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنگلات کے قوانین اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مائننگ سیکٹر کو جو رکاوٹیں درپیش تھیں، انہیں کم کیا جائے اور معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا راستہ ہموار کیا جائے۔
اگر پنجاب اپنے نسبتاً محدود معدنی وسائل کے باوجود مائننگ سیکٹر کی بہتری کے لیے ایسے جرات مندانہ اور وقت کے مطابق اقدامات کر سکتا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ، جو معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے، وہ اس سمت میں پیش رفت کیوں نہیں کرتا؟
خیبر پختونخواہ حکومت بھی اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو پنجاب کی طرز پر قوانین میں مناسب ترامیم لا کر معدنی شعبے کو درپیش قانونی رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہے۔ یہ نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا بلکہ روزگار، ریونیو اور صوبائی معیشت کو بھی مضبوط بنائے گا۔
آج کا تقاضا یہی ہے کہ معدنیات جیسے قیمتی وسائل کو محض فائلوں اور پیچیدہ قوانین تک محدود رکھنے کے بجائے، دانشمندانہ قانون سازی کے ذریعے قومی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے۔
FMOAKP

Fluorspar size 0 mm up to 10mm Purity 70%
16/04/2026

Fluorspar size 0 mm up to 10mm Purity 70%

14/04/2026

We’re delighted to have IMDEX as Lead Sponsor for .

IMDEX is a leading global mining technology company dedicated to creating innovative solutions that efficiently and sustainably unlock the Earth's value. With a focus on drilling optimisation, rock knowledge, and digital transformation, IMDEX provides advanced drilling fluids, state-of-the-art downhole instrumentation, and robust data management software. Operating in over 100 countries, IMDEX empowers mining companies, contractors, and service providers to make smarter decisions regarding people, assets, and the environment.

Visit them at Stand S17 at IMARC to discover how partnering with IMDEX can enhance your mining operations - https://hubs.ly/Q04bT58W0

05/02/2026

خیبر پختونخواہ منرلز ڈویلپمنٹ کمپنی: اختیارات، احتساب، معدنی قوانین اور پائیدار ماڈل (شیربندی خان مروت چیئرمین فرنٹیئر مائیں او ایسوسیئشن خیبرپختونخواہ)
خیبر پختونخواہ منرلز ڈویلپمنٹ کمپنی کو دیے گئے موجودہ بے لگام اور غیر محدود اختیارات کسی اصلاح یا ترقی کی ضمانت نہیں بلکہ یہ اس بات کا واضح عندیہ ہیں کہ صوبائی حکومت ایک اور ایسے ادارے کی بنیاد رکھ رہی ہے جو طویل المدتی بنیادوں پر سرکاری خزانے کے لیے مستقل بوجھ بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی سرکاری ادارے کو بغیر واضح اہداف، سخت احتساب، نتیجہ خیز کارکردگی اور مالی ذمہ داری کے کھلی چھوٹ دی جاتی ہے تو وہ ادارہ بالآخر ناکامی، بدانتظامی اور خسارے کی علامت بن جاتا ہے۔ ۔
سرکاری وسائل پر لا محدود اختیار دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارہ اپنی بقا کے لیے ہمیشہ صوبائی خزانے کا محتاج رہے گا۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف معاشی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ یہ ایک ایسی مستقل مالی ذمہ داری کو جنم دیتا ہے جو آنے والی حکومتوں کے لیے بھی ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ اگر یہی سرکاری وسائل شراکت داری یا جوائنٹ وینچر کے نام پر استعمال ہوں تو عملی طور پر یہ عوامی اثاثوں کے نجی ملکیت کی طرف منتقل ہونے کی راہ ہموار کرتا ہے، جو کہ عوامی مفاد کے سراسر خلاف ہے۔ ۔
اگر صوبائی حکومت واقعی منرلز سیکٹر میں پائیدار ترقی اور سنجیدہ اصلاحات کی خواہاں ہے تو بہتر اور آزمودہ راستہ یہ ہے کہ پی ایم ڈی سی (PMDC) کی طرز پر ایک ایسی کمپنی قائم کی جائے جسے ابتدا میں ایک مرتبہ مناسب بلکہ خواہ بڑا بجٹ فراہم کیا جائے، مگر ساتھ ہی یہ واضح طور پر لازم قرار دیا جائے کہ یہی بجٹ اس کمپنی کے لیے آخری سرکاری سہارا ہوگا۔ اس کے بعد کمپنی کو خود کو اس انداز میں مستحکم کرنا ہوگا کہ مستقبل میں نہ وہ منرلز ڈیپارٹمنٹ پر بوجھ بنے اور نہ ہی صوبائی حکومت کے لیے مالی ذمہ داری۔ ۔
یہاں ایک نہایت اہم اور اصولی نکتہ یہ ہے کہ یہ کمپنی پرائیویٹ سیکٹر کی طرح معدنی قوانین اور معدنی رولز کے تحت ہی رقبہ حاصل کرے۔ کمپنی کو کسی صورت یہ اختیار نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ معدنی قوانین کو اپنے تابع بنائے یا خصوصی رعایت کے نام پر رولز سے بالاتر ہو جائے۔ اصول واضح ہونا چاہیے کہ کمپنی خود معدنی رولز کی پابند ہو، نہ کہ معدنی قوانین کمپنی کے تابع ہوں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک شفاف، قابلِ اعتماد اور منصفانہ نظام کی بنیاد بنتا ہے۔ ۔
اگر حکومت کے پاس وافر بجٹ موجود ہے تو شراکت داری یا جوائنٹ وینچر کی کوئی مجبوری نہیں ہونی چاہیے، اور اگر بجٹ محدود ہے تو جوائنٹ وینچر کیا جا سکتا ہے، مگر اس صورت میں بھی نتائج کا حصول لازم اور قابلِ پیمائش ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے خیبر پختونخواہ میں ماضی میں قائم ہونے والی بیشتر سرکاری کمپنیاں ناکامی سے دوچار رہیں۔ ان اداروں کے خراب نتائج کو بھول جانا یا نظر انداز کرنا ہماری اجتماعی کم فہمی اور غیر ذمہ داری ہوگی۔ ۔
ایک مثالی منرلز ڈویلپمنٹ کمپنی کا دائرہ کار صرف کاغذی منصوبوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اسی مقررہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے پراسپیکٹنگ، ایکسپلوریشن، نیلامی، لیزوں کے حصول، ڈیویلپمنٹ، ویلیو ایڈیشن، اور پراسیسنگ و اپ گریڈیشن پلانٹس کے قیام جیسے تمام مراحل عملی طور پر مکمل کرنے چاہئیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک کامیاب نجی ادارہ کرتا ہے۔
یہ کمپنی خیبر پختونخواہ کے جیولوجیکل اور مائننگ ڈیپارٹمنٹ میں موجود جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان اداروں کو مالی اور تکنیکی سپورٹ فراہم کرے، تاکہ ریاستی ادارے مضبوط ہوں، نہ کہ کمزور۔ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ یہ کمپنی اپنی کارکردگی میں نجی شعبے سے بہتر مثال قائم کرے۔
کمپنی کے لیے ابتدائی مراعات محدود ہوں، مگر اس کے اہداف واضح، قابلِ ناپ تول اور وقت سے مشروط ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کمپنی کے کلیدی فیصلوں میں کامیاب پرائیویٹ سیکٹر کی نمائندگی ناگزیر ہو۔ اس نمائندگی کا مقصد صرف مشاورت نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں عملی شمولیت ہونا چاہیے، تاکہ ادارہ سیاسی دباؤ، غیر ضروری مداخلت اور سرکاری سست روی سے آزاد رہتے ہوئے بروقت اور خودمختار فیصلے کر سکے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سرکاری ادارے اکثر اپنی مراعات، غیر ضروری اختیارات اور سیاسی مداخلت کے باعث بالآخر ڈیفالٹر ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ ادارے سرکاری خزانے پر بوجھ بن جاتے ہیں اور آخرکار حکومت کو اربوں روپے کے قیمتی اثاثے اونے پونے فروخت کرنا پڑتے ہیں، جس کا براہِ راست نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ۔
لہٰذا اگر خیبر پختونخواہ منرلز ڈویلپمنٹ کمپنی واقعی قائم کرنی ہے تو اسے ہر صورت ایک خودمختار، قانون کی پابند، مالی طور پر مستحکم، پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز ادارے کے طور پر تشکیل دینا ہوگا، ورنہ یہ بھی ماضی کی ناکام سرکاری کمپنیوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ثابت ہوگی۔ ۔

Address

Plot # 13 C Khyber Match Road Industrial Estate
Peshawar
12025000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shah Industrial Mining - SIMCO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shah Industrial Mining - SIMCO:

Share