01/08/2025
سولر پینلز میں TopCon، HPBC، HTJ اور P-type, N-type وغیرہ کیا ھے؟؟
جب آپ سولر پینلز کی خریداری کیلئے مارکیٹ جاتے ہیں تو آپکو کمپنیوں کے ناموں کے علاوہ سولر پینلز کی طرح طرح کی اقسام کے نام سننے کو ملتے ہیں۔ کوئی کہتا یہ بہتر تو کوئی کہتا یہ اچھا ھے۔
ایسے میں ایک عام آدمی طرح طرح کی اقسام سے پریشان ھو جاتا ھے اور اسے سمجھ نہیں آتی ھے کہ وہ کون سے سولر پینل خریدے۔
آج کے اس مضمون میں سولر پینلز کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
سب سے پہلے تو سولر پینلز کی تاریخ بارے آپ یہ جان لیں کہ سولر سیلز یا شمسی خلیوں کی تاریخ کوئی 180 سال پرانی ھے۔ اور سولر سیلز اپنی ارتقائی منازل طے کرتا ھوا آگے بڑھ رھا ھے۔
اس ارتقائی سفر کے شروعات بارے اور اسکی مختلف ادوار بارے تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ورنہ مضمون بہت طویل اور اکثریت قارئین کیلئے غیر دلچسپ بھی ھو جائے گا ۔
مگر۔۔۔ سولر پینلز کے پچھلے کم از کم 15 سال سے حال تک کے بارے میں جاننا اہم ھے۔ تو اس مضمون میں اسی عرصہ میں موجود سولر پینلز کی مختلف اقسام اور انکی ترویج بارے بات کریں گے ۔
مونو کرسٹلائن سلیکون
پولی کرسٹلائن سلیکون
تھن فلم سولر سیلز
سولر پینلز کی اقسام میں یہ نام آپ نے یقیناً سن رکھے ہیں۔
اس سے آگے چلیں ۔۔۔ تو پھر آپ نے
مونو اور پولی پرک (PERC) یا پرک ٹیکنالوجی سولر سیل سنا ھوگا ۔۔۔ پھر Half cut کا نام بھی پرک(PERC) کیساتھ سنا رکھا ھو گا۔ علاوہ ازیں بائی فیشل کی اصطلاح بھی زبان زدہ عام ھے۔
تھوڑا آگے بڑھیں ۔۔۔ تو P-type اور N-type کے چرچے سنے ہوں گے۔
اور اب تو TopCon، HPBC, HTJ اور Perovskite Solar Cells کی مارکیٹ میں گونج ھے۔
آئیے ان کے بارے میں ذرا تفصیل سے جانتے ہیں۔
PERC (Passivated Emitter Rear Cell) ٹیکنالوجی:
اس ٹیکنالوجی نے پینلز کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
بائیفیشل پینلز (Bifacial Panels):
یہ پینلز دونوں اطراف سے سورج کی روشنی جذب کر سکتے ہیں (سامنے اور پیچھے)، جس سے اضافی بجلی پیدا ہوتی ہے۔
ہاف-کَٹ سیلز (Half-Cut Cells):
یہ پینلز کی کارکردگی اور سایہ برداشت کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔
پیروسکائیٹ سولر سیلز (Perovskite Solar Cells):
یہ ایک نئی اور انتہائی امید افزا ٹیکنالوجی ہے جو مستقبل میں سلیکون کی جگہ لے سکتی ہے۔ یہ سستے، لچکدار، اور انتہائی موثر ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب ہم پہنچتے ہیں مضمون کے اس حصہ کی طرف جس کی بنیاد پر یہ ساری تحریر ترتیب دی گئی ھے۔
P-type اور N-type سولر سیلز
(P-type & N-type Solar Cells)
یہ سولر سیلز کی بنیادی اقسام ہیں جو ان کے سیمی کنڈکٹر (silicon wafer) کی ڈوپنگ (doping) پر منحصر ہیں۔ ڈوپنگ کا مطلب ہے سلیکون میں مخصوص عناصر شامل کرنا تاکہ اس کی برقی خصوصیات کو تبدیل کیا جا سکے۔
P-type سیلز
یہ سیلز عام طور پر بوران (Boron) کے ساتھ ڈوپ کیے گئے سلیکون ویفر (P-type silicon) کو بنیادی مواد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بوران میں سلیکون کے مقابلے میں ایک الیکٹران کم ہوتا ہے، جس سے "ہولز" (holes - یعنی الیکٹرانوں کی کمی) پیدا ہوتے ہیں جو مثبت چارج کیریئرز کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اسکی ساخت یوں ھے کہ۔۔۔۔
اس P-type بیس کے اوپر فاسفورس (phosphorus) کے ساتھ ڈوپ کی گئی N-type کی ایک پتلی تہہ (emitter layer) بنائی جاتی ہے تاکہ ایک P-N جنکشن بن سکے۔
ان کی خاصیت یہ ھے کہ۔۔۔۔
P-type سیلز پچھلی کئی دہائیوں سے صنعت پر حاوی رہے ہیں اور یہ زیادہ عام، سستے اور وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔
ان کی خامی یہ ھے کہ۔۔۔۔
ان میں لائٹ انڈیوسڈ ڈیگریڈیشن (Light-Induced Degradation - LID) کا مسئلہ ہوتا ہے، جہاں سورج کی روشنی کے ابتدائی چند گھنٹوں/دنوں میں کارکردگی میں تھوڑی کمی آ سکتی ہے (عام طور پر بوران اور آکسیجن کے ردعمل کی وجہ سے)۔
N-type سیلز
یہ سیلز فاسفورس (Phosphorus) کے ساتھ ڈوپ کیے گئے سلیکون ویفر (N-type silicon) کو بنیادی مواد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فاسفورس میں سلیکون کے مقابلے میں ایک اضافی الیکٹران ہوتا ہے، جس سے "آزاد الیکٹران" (free electrons) پیدا ہوتے ہیں جو منفی چارج کیریئرز کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اسکی ساخت یوں ھے کہ۔۔۔۔
اس N-type بیس کے اوپر بوران کے ساتھ ڈوپ کی گئی P-type کی ایک پتلی تہہ (emitter layer) بنائی جاتی ہے تاکہ P-N جنکشن بن سکے۔
اور انکی خاصیت یہ ھے کہ۔۔۔
N-type سیلز P-type کے مقابلے میں کئی فوائد رکھتے ہیں
یہ LID کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ فاسفورس بوران سے بہتر ڈوپینٹ ہے۔
ان میں الیکٹرانوں کی عمر (carrier lifetime) زیادہ ہوتی ہے، جس سے یہ زیادہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔
بہتر ٹمپریچر کوافیشینٹ کی وجہ سے
زیادہ درجہ حرارت پر بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
دونوں اطراف سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اچھی ہوتی ہے۔
انکی خامی یہ ھے کہ۔۔۔
یہ عام طور پر P-type کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہوتے ہیں، اور ان کی مینوفیکچرنگ کا عمل زیادہ پیچیدہ ہوتا ھے۔
TOPCon (Tunnel Oxide Passivated Contact)
TOPCon ایک جدید N-type سولر سیل ٹیکنالوجی ہے جو کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
کیسے کام کرتا ہے؟
۔ TOPCon سیلز ایک N-type سلیکون بیس استعمال کرتے ہیں اور ان کی پچھلی سطح پر ایک بہت پتلی ٹَنل آکسائیڈ (Tunnel Oxide) کی تہہ (سیلیکون ڈائی آکسائیڈ) اور اس کے اوپر ایک پولیکرسٹلائن سلیکون کی پاسیویٹڈ تہہ (passivated layer) لگائی جاتی ہے۔ یہ ٹنل آکسائیڈ کی تہہ الیکٹرانوں کو آسانی سے گزرنے دیتی ہے جبکہ نقصانات (recombination losses) کو کم کرتی ہے۔
اسکے فوائد یہ ہیں۔۔۔۔
TOPCon سیلز 25% سے زیادہ کارکردگی حاصل کر سکتے ہیں۔
کم روشنی (صبح، شام، یا بادلوں والے دن) میں بھی بہتر بجلی پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی دونوں اطراف (بائی فیشئیلٹی) سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔
ٹمپریچر کوافیشینٹ اچھا ہونے باعث زیادہ گرمی میں بھی کارکردگی زیادہ متاثر نہیں ھوتی ھے۔
TOPCon اس وقت سولر صنعت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اور سب سے زیادہ مقبول ٹیکنالوجیز میں سے ایک ھے۔
HPBC (Hybrid Passivated Back Contact)
HPBC ایک اور جدید ٹیکنالوجی ہے جو زیادہ تر Longi جیسی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔ یہ سیل کے سامنے والے حصے سے تمام میٹل کنٹیکٹس (busbars) کو ہٹا کر کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
کیسے کام کرتا ہے؟
۔ HPBC سیلز میں الیکٹریکل کنٹیکٹس سیل کے پچھلے حصے پر منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ اس سے سیل کا سامنے والا حصہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو جذب کرنے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے، کیونکہ کوئی بس بار سایہ نہیں بناتی۔ یہ "بیک کنٹیکٹ" (back contact) ڈیزائن کہلاتا ہے۔
اسکے فوائد یہ ہیں کہ۔۔۔۔
سامنے کی طرف سے سایہ ختم ہونے سے روشنی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے، جس سے کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بھی کم روشنی اور زیادہ درجہ حرارت میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔
یہ HPBC ٹیکنالوجی اکثر N-type سیلز کے ساتھ مل کر استعمال ہوتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کارکردگی حاصل کی جا سکے۔
HJT (Heterojunction Technology)
HJT، جسے سیلیکون ہیٹروجنکشن (Silicon Heterojunction - SHJ) بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو کرسٹلائن سلیکون اور امارفوس سلیکون (thin-film) دونوں کی خصوصیات کو یکجا کرتی ہے۔
کیسے کام کرتا ہے؟
۔ HJT سیلز میں ایک N-type مونو کرسٹلائن سلیکون ویفر کے دونوں اطراف پر بہت پتلی امارفوس سلیکون (amorphous silicon) کی تہوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ امارفوس تہیں "پاسیوشن" (passivation) فراہم کرتی ہیں، یعنی یہ سطح پر الیکٹرانوں کے ضیاع (recombination) کو بہت کم کر دیتی ہیں، جس سے سیل کی وولٹیج اور کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسکے فوائد یہ ہیں کہ ۔۔۔
۔ HJT سیلز تجارتی پیمانے پر سب سے زیادہ کارآمد سیلز میں سے ایک ہیں، جو 24% سے زیادہ کارکردگی حاصل کر سکتے ہیں۔
۔ HJT سیلز میں قدرتی طور پر دونوں اطراف سے بہترین بائیفیشیئلٹی ہوتی ہے (90% سے زیادہ)، یعنی یہ پینل کے پچھلے حصے سے بھی مؤثر طریقے سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔
۔ یہ سب سے کم ٹمپریچر کوافیشینٹ رکھتے ہیں، یعنی زیادہ گرمی میں ان کی کارکردگی پر سب سے کم اثر پڑتا ہے۔
۔ یہ لائٹ انڈیوسڈ ڈیگریڈیشن (LID) اور پوٹینشل انڈیوسڈ ڈیگریڈیشن (PID) دونوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
انکے مینوفیکچرنگ کے مراحل TOPCon کے مقابلے میں کچھ حد تک کم ہوتے ہیں۔
انکی خامی یہ ھے کہ۔۔۔
دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں ان کی مینوفیکچرنگ کی لاگت تھوڑی زیادہ ہو سکتی ھے جو مارکیٹ میں انکی قیمت زیادہ ہونے کا باعث بنتی ھے۔
سولر سیلز یا سولر پینلز کے ارتقائی سفر اور ترقی کی داستان ہمیں یہ بتاتی ھے کہ ۔۔۔
یہ تمام ٹیکنالوجیز سولر سیل کی کارکردگی کو بڑھانے اور سورج کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ بجلی بنانے کیلئے استعمال کرنے کی کاوشیں ہیں۔
امید ھے کہ آپکو حسب سابق یہ تحریر بھی پسند آئی ھوگی اور آپ اسے یقیناً شئیر کرنا چاہیں گے۔
سلامت رہیں!