26/08/2026
اظہارِ خوشی کی مختلف صورتیں
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلوس، ریلیاں، جھنڈے، چراغاں، روشنیاں، محافل و اجتماعات، ضیافت اور دیگر جائز طریقوں سے خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ سب اظہارِ مسرت کی مختلف صورتیں ہیں، اور خوشی کا اظہار کسی ایک مخصوص ہیئت تک محدود نہیں۔
اسی طرح حضورِ اکرم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنا ثابت ہے، اور آپ ﷺ نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ
یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔
یعنی حضورِ اکرم ﷺ نے اپنی ولادتِ باسعادت کی خوشی کے اظہار کے لیے روزہ رکھا۔ بعض روایات میں ذبح اور جھنڈے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
مزید یہ کہ اکابرینِ امت نے بھی اپنے اپنے زمانے اور حالات کے مطابق اظہارِ خوشی کی مختلف صورتیں اختیار فرمائیں۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے تصنیف و تالیف کے ذریعے، شاہ عبدالرحیم رحمہ اللہ نے چنے پکانے کے ذریعے، جبکہ بعض بزرگانِ دین نے مختلف لذیذ کھانے تیار کرکے اظہارِ مسرت فرمایا۔
قرآنِ کریم کا عمومی اصول
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا
ترجمہ: فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر چاہیے کہ وہ خوشی منائیں۔
بعض علماء نے فضلِ الٰہی سے حضورِ اقدس ﷺ اور رحمت سے بھی حضورِ اکرم ﷺ مراد لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ
(الانبیاء: 107)
آیتِ کریمہ میں «فَلْيَفْرَحُوا» فرمایا گیا، مگر خوشی کی کوئی خاص ہیئت یا مخصوص طریقہ بیان نہیں کیا گیا؛ لہٰذا شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے خوشی کے اظہار کی مختلف صورتیں اس عموم میں داخل ہیں۔
پس جلوس و ریلی، جھنڈے، چراغاں، محافل و اجتماعات، ضیافت وغیرہ اظہارِ خوشی کی مختلف صورتیں ہیں۔ زمانے اور عرف کے اعتبار سے صورتیں بدل سکتی ہیں، لیکن اصلِ اظہارِ خوشی باقی رہتا ہے۔
لہٰذا جو طریقہ شرعی حدود کے اندر ہو اور کسی شرعی ممانعت پر مشتمل نہ ہو، اس کے ذریعے خوشی کا اظہار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
ابو الحسن