10/07/2026
لائن سٹاف تجھے سلام
تحریر: عبدالرزاق، زونل انفارمیشن سیکرٹری، سیالکوٹ زون
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ واپڈا کا لائن سٹاف لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار نہیں، بلکہ بجلی کی ترسیل اور بحالی کے نظام کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہم روزانہ ان کی محنت اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، لیکن تنقید کا پہلا نشانہ بھی انہی کو بناتے ہیں۔
ہر سال گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں اور عوام ان پر یقین بھی کر لیتے ہیں، مگر ان دعوؤں کے پیچھے وہ گمنام ہیرو نظر نہیں آتے جو شدید گرمی، طوفان، بارش اور رات کی تاریکی میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بجلی کا نظام بحال رکھتے ہیں۔ یہی وہ لائن مین ہیں جن کی جدوجہد اور قربانیوں پر پورا نظام قائم ہے۔
ہم سوشل میڈیا کے موسمی تجزیہ کاروں اور ناقدین سے صرف اتنی گزارش کرتے ہیں کہ ایک دن کسی لائن مین کے ساتھ گزار کر دیکھیں۔ شاید اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں۔ تب معلوم ہوگا کہ لائن پرمٹ، ہنگامی فالٹس، جلے ہوئے ٹرانسفارمرز کی تبدیلی، اور کئی دہائیوں پرانے ترسیلی نظام کو چلائے رکھنے کے لیے ایک ایک لائن مین بسا اوقات دس افراد کے برابر ذمہ داریاں نبھا رہا ہوتا ہے۔
وہ ایک جلے ہوئے ٹرانسفارمر کو تبدیل کرکے ابھی گھر بھی نہیں پہنچتا کہ لائن سپرنٹنڈنٹ کی کال آ جاتی ہے:
"فوراً واپس آؤ، ایک اور ٹرانسفارمر جل گیا ہے۔"
وہ بغیر کسی عذر کے دوبارہ میدان میں اتر جاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی معمولی سی تاخیر بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں گھروں کو اندھیرے میں ڈبو سکتی ہے۔
بلاشبہ اسے اس خدمت کا معاوضہ ملتا ہے، مگر کیا چند ہزار روپے اس جان لیوا پیشے کی قیمت ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر لمحہ ایک ایسے نادیدہ دشمن، یعنی بجلی، کا سامنا کرتے ہیں جو معمولی سی غلطی پر جان لے سکتی ہے۔ اسی لیے وہ صرف تنخواہ کے نہیں بلکہ پوری قوم کے احترام، عزت اور تحسین کے بھی حق دار ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ترقی کے مواقع بھی ان کے لیے خواب بن چکے ہیں۔ ایک لائن مین پچیس پچیس سال تک گریڈ 9/11 میں خدمات انجام دیتا رہتا ہے، مگر اس کی محنت، تجربے اور قربانی کا وہ صلہ نہیں ملتا جس کا وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر نظام کے کسی بھی حصے میں غلطی ہو، خواہ گرڈ اسٹیشن میں، انتظامی فیصلوں میں یا کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں، جان اکثر اسی شخص کی جاتی ہے جو بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر عوام کی سہولت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالے کھڑا ہوتا ہے۔
قیامِ پاکستان سے آج تک ہم اپنے بجلی کے نظام کے بہت سے بنیادی مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کر سکے۔ افسوس کہ قومی میڈیا اور بعض صحافی بھی حقائق تک پہنچنے کے بجائے اکثر وہی بیانیہ دہراتے ہیں جو زیادہ سنسنی خیز ہو:
"واپڈا والے ظلم کر رہے ہیں، جان بوجھ کر لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں، اور خود دفاتر میں اے سی چلا رہے ہیں۔"
حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دوران جب لوگ شکایت لے کر دفتر پہنچتے ہیں تو وہاں بھی بجلی موجود نہیں ہوتی۔ مگر سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، اور کڑوا سچ قبول کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان گمنام محنت کشوں کو صرف اس وقت یاد نہ کریں جب بجلی چلی جائے، بلکہ ان کی خدمات، قربانیوں اور پیشہ ورانہ مہارت کا بھی اعتراف کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اہلِ خانہ کی دعاؤں کے سہارے ہر روز ایک ایسے محاذ پر جاتے ہیں جہاں واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
آئیے! آج ہم واپڈا کے تمام لائن مینوں اور ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں جنہوں نے قوم کے گھروں کو روشن رکھنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں صرف محکمانہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بلکہ پوری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
سلام ہے ان ہاتھوں کو جو اندھیروں سے لڑ کر روشنی واپس لاتے ہیں۔
سلام ہے ان قدموں کو جو ہر موسم، ہر آندھی اور ہر بارش میں اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہیں۔
سلام ہے واپڈا کے ہر لائن مین کو، اور سلام ہے ان تمام شہداء کو جنہوں نے روشنی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
لائن سٹاف تجھے سلام۔