12/06/2026
روزانہ ایک ڈالر: پرتعیش زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے!
مملکتِ خداداد کے معاشی ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کو داد دینی چاہیے جنہوں نے بیٹھے بٹھائے عوام کی کایا پلٹ دی ہے۔ جب بیوروکریسی کا سامنا ملکی بدحالی سے ہوتا ہے، تو وہ زمین پر اترنے کے بجائے ایک ایسا جادوئی ریاضیاتی فارمولا تیار کرتی ہے جو راتوں رات غریبوں کو امیروں کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔
ٹی وی اسکرین پر چلنے والی اس بریکنگ نیوز کی تصاویر میں پاکستان اکنامک سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار اس شاندار شاہکار کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ ریاستی فارمولے کے مطابق، جو شخص ماہانہ 8,483 روپے سے ایک روپیہ بھی زائد کما رہا ہے، وہ باضابطہ طور پر "غریب" نہیں رہا۔ اب چونکہ وہ غریب نہیں ہے، تو منطقی طور پر وہ ایک پرتعیش زندگی گزار رہا ہے!
ذرا اس ہندسے کو موجودہ دور کی مہنگائی کے ترازو میں تولیے۔ یہ رقم روزانہ کا تقریباً ایک ڈالر بنتی ہے۔ گویا ہمارے حکام کے نزدیک روزانہ کا صرف ایک ڈالر اس ملک میں شاہانہ ٹھاٹ باٹ اور پرتعیش زندگی کے مزے لوٹنے کے لیے بالکل کافی ہے!
ایک ڈالر میں "شاہی عیش و عشرت" کا افسانہ
سامنے آنے والی پہلی تصویر میں لگی سرخ رنگ کی بریکنگ نیوز کی پٹی اس پرتعیش لکیر کو یوں بے نقاب کرتی ہے: "8 ہزار 483 روپے ماہانہ سے زائد کمانے والا غریب نہیں"۔
آج کے دور میں جہاں پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں، وہاں ایک ایسے شہری کو دیکھ کر—جو روزانہ بمشکل 280 روپے (ایک ڈالر) کما پاتا ہو—یہ اعلان کرنا کہ وہ غریب نہیں، ایک تاریخی مذاق ہے۔ اس "شاہانہ" رقم سے ایک شخص روزانہ شاید دو لیٹر دودھ یا چند سوکھی روٹیاں ہی خرید سکتا ہے۔ لیکن سرکاری فائلوں میں یہ دو روٹیاں پیزا اور برگر سے کم نہیں، اور یہ روزانہ کا ایک ڈالر اسے کسی محل کا راجا بنا دیتا ہے۔ یہ معاشی فارمولا دراصل عوام کا منہ چڑانے اور ان کی سسکتی بقا کو عیاشی قرار دینے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔
اعداد و شمار کی جادوگری اور غیبی خوشحالی
اب ذرا دوسری تصویر پر نظر ڈالیں، جہاں اس فرضی خوشحالی کے پیچھے چھپی دلاسا دینے والی منطق پیش کی گئی ہے: "حکومتی فارمولے کے مطابق 28.9 فیصد آبادی غریب ہے"۔
اگر حکومت غربت کا کوئی ہوشربا اور حقیقت پسندانہ معیار مقرر کر دیتی، تو ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی جاتی اور یہ بات فائلیں سجانے والوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی۔ چنانچہ انہوں نے اس ایک ڈالر کا جادوئی چراغ جلایا جس نے راتوں رات کروڑوں انسانوں کو کاغذ پر خوشحال اور پرتعیش بنا دیا۔ ان تصاویر میں نظر آنے والا جدول ("Table 16.1: Poverty Trends by National & Sub-National") دہائیوں کی معاشی ترقی کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن جب ایک عام آدمی اس "پرتعیش" بجٹ کے ساتھ بازار جاتا ہے تو اسے آٹے اور دال کا بھاؤ سارا نشہ ہرن کر دیتا ہے۔
حقیقت کا تضاد: ہمارے پالیسی سازوں کے لیے روزانہ کا یہ ایک ڈالر شاید صرف ایک ہندسہ ہو، لیکن یہ وہ چادر ہے جس تلے وہ ملکی معیشت کے سنگین ترین بحران اور عوام کی تذلیل کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
اس "پرتعیش زندگی" کی اصل قیمت
آئیے ذرا اس ایک ڈالر کی پرتعیش زندگی کا عملی حساب کتاب بھی دیکھ لیں:
بنیادی ضرورتیں: 8,483 روپے میں تو آج کل ایک غریب کے کچے مکان کا صرف بجلی کا بل یا مہینے بھر کا راشن بھی نہیں آتا۔ لیکن حکومت کے مطابق، اس رقم کے بعد آپ جو کچھ بھی جی رہے ہیں، وہ عیش ہی عیش ہے۔
صوبائی تضاد: اگر آپ تصویر میں دیے گئے چارٹ کو غور سے دیکھیں، تو اس انتہائی سستے اور مضحکہ خیز معیار کے باوجود بلوچستان میں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ تصور کریں کہ اگر روزانہ ایک ڈالر والی اس "پرتعیش" لکیر کو بدل کر ایک انسان کے جینے کا حقیقی معیار مقرر کیا جائے، تو محرومی کا یہ گراف کہاں پہنچے گا؟
حاصلِ کلام: فائل کا راجا، سڑک کا گدا
حکومتی ایوانوں کو یہ فارمولے اس لیے پسند ہیں کیونکہ کمپیوٹر کی اسکرین پر نمبر کبھی بھوک سے بلکتے نہیں اور نہ ہی وہ احتجاج کرتے ہیں۔
جب تک ہمارے معاشی سروے روزانہ کے ایک ڈالر کو خوشحالی اور غیر غریب ہونے کا سرٹیفکیٹ مانتے رہیں گے، ہماری پالیسیاں اسی طرح زمین پر منہ کے بل گرتی رہیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلیں، بازار میں جا کر خود ایک ڈالر کی "پرتعیش زندگی" گزار کر دکھائیں، اور یہ جانیں کہ غربت کوئی ہندسہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی وہ تلخ حقیقت ہے جو اس بے رحم مذاق سے کہیں زیادہ کی حقدار ہے۔
عرفان علی