Qadri Electric & Sentry works

Qadri Electric & Sentry works Electrical

06/07/2025
12/06/2024

لیاقت علی خان کے قتل کا منظر
(اقتباس، انٹرویو: شمیم قریشی؛ کتاب: گئے دنوں کے سورج؛ مرتب کردہ: جاوید چودھری)
#لِیاقت_علی_خان #شہِید_مِلّت


’’16 اکتوبر 1951 کے روز لیاقت علی خان کو لیاقت باغ جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ میں سری نگر میں محمودہ احمد علی شاہ کے گھر میں لیاقت علی سے مل چکا تھا لہٰذا مجھے ان کی تقریر سننے کا شوق چرایا، میں صبح سویرے ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی کرسیاں لگائی جا رہی تھیں، شامیانے سیٹ کئے جا رہے تھے، میں جلسہ گاہ پہنچ گیا اور اسٹیج کے بالکل سامنے پہلی رو میں ایک کرسی پر قبضہ کرلیا۔ چند لمحے بعد میرے دائیں طرف ایک پٹھان آکر بیٹھ گیا، اس کے ساتھ اس کا چھوٹا سا بیٹا بھی تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا تو وہ سید اکبر تھا، میں اسے سری نگر سے جانتا تھا، یہ لوگ افغانستان سے ہجرت کرکے سری نگر آئے تھے، ڈل گیٹ میں رہتے تھے۔ میں ان کے خاندان کے اکثر بچوں کو جانتا تھا، میں نے سید اکبر کو سلام کیا اور سری نگر کا حوالہ دے کر گفتگو شروع کر دی۔ وہ مجھے پٹھانوں کے روایتی تپاک سے ملا اور اپنے بیٹے سے میرا تعارف کرایا۔ ہم نے سری نگر کی باتیں شروع کر دیں۔
’’مجھے وہ گفتگو کا بڑا ماہر، متحمل مزاج اور پُرخلوص انسان لگا۔ ہم باتوں میں اس قدر محو تھے کہ لوگ کب آنا شروع ہوئے، پنڈال کب بھرا، اسٹیج پر مسلم لیگی رہنما کب تشریف لائے اور جلسہ کب شروع ہوا، کچھ پتا ہی نہ چلا۔ البتہ سید اکبر کبھی کبھی کنکھیوں سے اسٹیج کی طرف ضرور دیکھ لیتا تھا۔ پھر جلسہ شروع ہوگیا۔ اسٹیج سیکریٹری نے کارروائی شروع کی، ایک ایک مسلم لیگی رہنما تالیوں اور نعروں کے شور میں ڈائس پر آتا اور دھواں دھار تقریر جھاڑ کر واپس چلا جاتا، یہاں تک کہ وزیراعظم خان لیاقت علی خان کا نام پکارا گیا۔ وہ مسکراتے ہوئے اپنی نشست سے اٹھے، ڈائس پر آئے، ہاتھ ہلا ہلا کر عوام کے نعروں کا جواب دیا۔ جب عوام کا شور تھما تو خان لیاقت علی خان نے کہا ’’میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم‘‘ اور ساتھ ہی میری بغل میں بیٹھا سید اکبر اٹھا اور ’’ڈب‘‘ سے ریوالور نکال کر لیاقت علی خان پر گولی چلا دی۔
’’میری آنکھوں کے عین سامنے سید اکبر نے ریوالور کی چھ گولیاں وزیراعظم پاکستان کے سینے میں اتار دیں۔ لیاقت علی خان نے چیخ ماری اور خون میں لت پت ہو کر گر پڑے۔ جلسہ گاہ میں بھگدڑ مچ گئی، لوگ اٹھ کر بھاگنے لگے، اسی اثناء میں اسٹیج پر کھڑا پولیس افسر لوگوں کو پھلانگتا ہوا سید اکبر کے پاس پہنچا، سید اکبر نے بڑے تحمل سے اپنا خالی پستول اس کے ہاتھ میں دے دیا لیکن پولیس افسر نے اسے گولی مار دی۔ سید اکبر کے منہ سے بڑی کربناک چیخ نکلی اور وہ میرے قدموں میں گر کر تڑپنے لگا، اتنے میں وہاں برچھی بردار رضاکار پہنچ گئے۔ پولیس افسر نے انہیں دیکھ کر حکم دیا ’’اس ذلیل انسان کے ٹوٹے ٹوٹے کر دو،‘‘ اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے رضاکاروں نے اپنی برچھیوں سے سید اکبر کی لاش کا قیمہ بنا دیا۔
’’چند لمحے بعد وہاں سید اکبر کی لاش کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، دور تک پھیلی لہو کی لکیریں، الٹی سیدھی کرسیاں، شامیانوں کی ٹوٹی طنابیں، تاحد نظر بکھری ٹوپیاں اور جوتے پڑے تھے جبکہ سٹیج پر ’’سابق‘‘ وزیراعظم کی آڑی ترچھی لاش اور اس کے بالکل سامنے میں، سید اکبر کا بیٹا اور وارث خان کا ایک بے ڈھول قصاب ساکت کھڑے تھے۔ چیخ میرے ہونٹوں پر جمی تھی اور آنسو سید اکبر کے بیٹے کی پلکوں پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ پولیس آفیسر نے اس کی کھوپڑی کو ٹھوکر ماری اور میرے قریب آ کر ریوالور میری طرف لہرا کر کہا ’’یہ لو پستول اور جب تم سے پوچھا جائے تو کہنا سید اکبر بھاگ رہا تھا لیکن میں نے اسے پکڑ لیا، تمہیں پیسے ملیں گے۔‘‘ یہ لفظ میں نے سنے ضرور لیکن میرے ساکت جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ پولیس آفیسر میری آنکھوں میں سکتے کی کیفیت پڑھ کر آگے بڑھا اور اپنا پستول وارث خان کے قصاب کے ہاتھ میں پکڑا دیا… بعد ازاں اس قصاب کو اس بہادری پر 20 ہزار روپے انعام ملا لیکن میں ایک عرصے تک بستر پر پڑا رہا۔ موت کا یہ پہلا تجربہ تھا جو میرے شعور اور لاشعور پر بری طرح درج ہو گیا۔‘‘
Amir Ali Shaheen

08/06/2024

سالانہ عرس مبارک حضرت بابا محمد سلیمان قادری (رح)المعروف بابا مہندی شاہ( گجر بابا )چکنمبر180/ ای۔ بی عرف 23 گجرانوالہ وھاڑی 2024-06-04

03/05/2024

Address

Vehari

Telephone

+923337723180

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qadri Electric & Sentry works posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category